اسرائيل ايران پر پيشگي حملے کي سوچ کونظرانداز کردے،اوباما

Posted: 06/03/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, USA & Europe

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ وہ ايران پر پيشگي حملے کي سوچ کونظرانداز کردے.اسرائيلي وزيراعظم سے ملاقات سے ايک روز قبل اسرائيلي نواز امريکي لابي کے ايک گروپ سے خطاب ميں امريکي صدر کا کہنا تھا کہ امريکہ اور اسرائيل کا خيال ہے کہ ايران کے پاس جوہري ہتھيار نہيں ہيں. اور ہم ان کے جوہري پروگرام کي نگراني ميں حد سے زيادہ چوکس ہيں. واشنگٹن ميں اجلاس سے خطاب ميں بارک اوباما کا کہنا تھا کہ اب بين الاقوامي برادري کي بھي ذمہ داري بڑھ گئي ہے. ايپاک پاليسي کانفرنس سے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ ايران پر پابنديوں کو بڑھايا جارہا ہے. امريکي صدر کا کہنا تھا کہ ايراني رہنماو?ں کے پاس اب بھي درست فيصلہ کرنے کا موقع ہے کہ وہ بين الاقوامي برادري ميں واپس آئيں يا اپنے لئے بند گليوں کاانتخاب کر ليں. امريکي صدر نے کہا کہ ايران کي تاريخ ديکھ کر يہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہيں يہ يقين نہيں ہے کہ ايرني حکمران صحيح سميت ميں فيصلہ کريگا. انہوں نے کہا کہ ملٹري اسٹرائيک سے تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوگا.دوسري جانب واشنگٹن ميں ہي ايپاک کو ايک قبضہ گروپ قرار ديتے ہوئے امريکہ اسرائيل پبلک افئير کميٹي کے کردار کے خلاف احتجاج کياگيا. ايپاک مخالف گروپ کے ايک عہديدار نے کہا کہ پہلے ہي ايپاک نے امريکيوں کوعراق کے خلاف جنگ ميں دھکيل ديا ہے اور اب يہ گروپ ايران کے خلاف جنگ ميں دھکيلنا چاہتا ہے

Comments are closed.