دماغی چوٹ یا جھٹکے کے شکار امریکی فوجی سر درد کے شکار

Posted: 28/03/2012 in All News, Health & Sports News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

عراق یا افغانستان میں فرائض انجام دینے کے بعد لوٹنے والے امریکی فوجیوں میں روزانہ سر درد معمول کی بات ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جو امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جنگی فرائض انجام دینے کے بعد  وطن لوٹتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی دماغی چوٹ یا بڑے دھچکے کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فوجیوں میں سے ہر پانچویں فوجی کو مہینے میں کم از کم پندرہ دن سر میں مستقل درد رہتا ہے۔ اس جائزے کے دوران بہت سے فوجی روزانہ بنیادوں پر سر درد کے مریض پائے گئے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج امریکی میڈیکل ریسرچ میگزین Headache کے تازہ شمارے میں شائع ہو گئے ہیں۔ اس طبی تحقیقی سروے کے دوران امریکی فوج کے محققین نے قریب ایک ہزار فوجیوں کے موجودہ اور پرانے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ یہ سارے فوجی ایسے تھے جنہیں عراق یا افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے یا چھوٹی بڑی دماغی چوٹ کا سامنا رہا تھا۔اس سروے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ان فوجیوں میں سے ہر پانچواں یا مجموعی طور پر قریب بیس فیصد فوجی بار بار ہونے والے سر کے ایسے درد کا شکار رہتے ہیں جسے مستقل بنیادوں پر روزانہ سر درد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں سے ہر ایک کم از کم بھی تین مہینے تک اس سر درد کا شکار رہا۔ ان ایک ہزار امریکی فوجیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے تھے جنہیں ہر روز کئی کئی گھنٹے تک شدید سر درد رہتا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق جن امریکی فوجیوں کو مستقل سر میں درد رہتا تھا، ان میں کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے کے بعد پائے جانے والے جذباتی یا اعصابی دباؤ کے عارضے PTSDکے واضح آثار بھی پائے گئے۔ اس کے برعکس دیگر فوجیوں میں جنہیں مسلسل سر درد کی شکایت نہیں تھی، ایسے کسی دباؤ کے کوئی آثار دیکھنے کو نہ ملے۔طبی ماہرین اس حالت سے پہلے کے دھچکے کو Concussion کا نام دیتے ہیں۔ ‘کن کشن‘ کسی ذہنی دھچکے کی وجہ سے دماغ کو لگنے والی وہ ہلکی سی چوٹ ہوتی ہے جس کے بعد عموما سر درد کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ فوجی اہلکار کتنی بڑی تعداد میں ایسے کسی ذہنی دھچکے کے بعد سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ اس سے پہلے عام اندازہ یہ تھا کہ اگر کسی Concussion کے بعد متعلقہ فرد دائمی سر درد کا مریض بن جاتا ہے تو یہ شرح بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس طبی تحقیقی جائزے کی سربراہی امریکی فوج کے ریاست ٹیکساس میں تعینات میجر بریٹ تھیلر نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار کے قریب فوجیوں کی صحت اور ان کے میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ وہ سارے فوجی عراق یا افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں وہاں ’کن کشن‘ کا سامنا بھی رہا تھا۔ میجر بریٹ تھیلر کے مطابق ایسے 98 فیصد فوجیوں نے امریکا واپسی کے بعد بار بار سر کے درد کی شکایت کی۔

Comments are closed.