بھارت کے ساتھ تعلقات میں تاریخی حقائق کو پیش نظر رکھا جائے

Posted: 06/03/2012 in Afghanistan & India, All News, Important News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, United Nations News

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے مختلف آپریشنز کے دوران آٹھ ہزار کشمیریوں کو ماورائے قانون مختلف عقوبت خانوں میں قید کررکھا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 2700 گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان قبروں میں مدفون افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے جس سے ثابت ہوا کہ یہ تمام افراد مقامی تھے جن کو بھارت کی سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کا لیبل لگاکر قتل کیا۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ نے جمہوریت کے دعویدار بھارت کا مکروہ چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب کر دیا ہے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک کشمیری قوم چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے ۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور 58 برس تک پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے کے لئے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہا لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے دوسرا ، تیسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا آپشن سامنے لاکر پاکستان کے 58 برسوں سے قائم استصواب رائے کے اصولی موقف کو دھندلا کر رکھ دیا۔ رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے ،،دانشوروں،، نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دے کر پوری کر دی۔ سابق صدر پرویز مشرف اگر ایک فون کال پر امریکہ کے آگے ڈھیر ہوگیا تھا تو آج جمہوریت کی چھتری تلے کشمیر کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے ،،زعمائ،، نے بغیر فون کال کے ہی بھارت کے سابقہ تمام گناہ معاف کرتے ہوئے اسے دنیا کے تقریباً دوسو ممالک میں سے پسندیدہ ترین ملک قرار دے دیا ہےاقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کردہ حالیہ رپورٹ ،،دیگ کے چند دانوں،، کی طرح ہیں جس سے پوری دیگ کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی ہسٹری شیٹ کے حامل ملک کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا عمل پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ اشارے بھی موجودہیں کہ بھارت کو پسندیدہ ملک امریکی دبائو پر قرار دیا جارہا ہے اگر اس بات میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو یہ اور بھی افسوسناک اور شرمناک فعل ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے والے دانشور کہتے ہیں کہ یہ اقدام تجارت کو فروغ دینے کے لئے اٹھایا گیا ہے اگر ان دانشوروں کی یہ منطق مان بھی لیا جائے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ یقینا بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والی کسی بھی قسم کی تجارت کا توازن ہمیشہ بھارت کی ہم سے کئی گنا بڑی معیشت اور انڈسٹری کے حق میں ہی رہے گا۔ دریں اثناء بھارت تجارت کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو غیر محسوس طریقے سے سردخانے میں ڈال کر پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے اوپر گرفت کو مزید کمزور کر دینا چاہتا ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور برابری کی سطح پر تجارت کو یقینی بنائے۔ مزید برآں حکومت پاکستان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر بھی سیاسی او ر سفارتی سطح پر پُرزور آواز احتجاج بلند کرے

Comments are closed.