اقوام متحدہ میں ہم جنس پرستی سے متعلق بحث، اسلامی ملکوں کا واک آؤٹ

Posted: 08/03/2012 in All News, Important News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News, United Nations News

بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مسلم اور عرب ملکوں کے نمائندے ایک بحث سے باہر نکل گئے جس میں ہم جنس پرست مرد و خواتین کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کی کوششوں پر بات کی گئی تھی۔ واک آؤٹ کرنے سے قبل ستاون رکنی تنظیم برائے اسلامی تعاون (او آئی سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے ہم جنس پرستی کو ’اخلاق باختگی کا رویہ‘ قرار دیا۔ افریقی گروپ کے رہنما سینیگال نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمگیر معاہدے اس موضوع کا احاطہ نہیں کرتے۔ نائجیریا نے، جہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے گروپوں کے بقول ہم جنس پرست مرد و خواتین پر حملے ہوتے رہتے ہیں، کہا کہ اس کا کوئی بھی شہری جنسی میلان یا صنفی شناخت کی بناء پر تشدد کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ عرب گروپ کی نمائندگی کرنے والے موریطانیہ نے کہا کہ ’جنسی میلان کے متنازعہ موضوع‘ کو مسلط کرنے کی کوششوں سے کونسل میں انسانی حقوق کے حقیقی مسائل پر بحث کمزور ہو جائے گی۔سفارت کاروں کے بقول 47 اراکین پر مشتمل انسانی حقوق کونسل میں یہ بائیکاٹ پہلی بار تین بڑے بلاکس نے ایک ساتھ کیا ہے۔ یہ مقاطعہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اس عالمی ادارے کی انسانی حقوق سے متعلق کمشنر ناوی پیلے نے سیشن کو بتایا کہ تمام حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہم جنس پرست مرد و خواتین کو تحفظ فراہم کریں۔ پینل کے نام اپنے وڈیو پیغام میں بان کی مون نے کہا، ’ہمیں بعض لوگوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا رویہ اس وجہ سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست مرد، خواتین، دونوں جنسوں کی طرف میلان رکھنے والے یا تیسری صنف کے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’یہ متاثرہ افراد کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمارے مشترکہ ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آپ کو انسانی حقوق کونسل کے اراکین کے طور پر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘ اسلامی اور افریقی ملکوں نے کافی عرصے سے کونسل میں اس بحث کو روک رکھا تھا جسے اقوام متحدہ ’جنسی میلان اور صنفی شناخت‘ کا نام دیتا ہے۔کونسل میں بحث کے لیے یہ قرارداد امریکا اور جنوبی افریقہ نے پیش کی تھی۔ کمشنر ناوی پیلے نے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’ہومو فوبیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے خلاف دنیا میں ہونے والے مختلف مظالم کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے کل 192 رکن ملکوں میں سے 76 میں ہم جنس پرست رویے کو جرائم پیشہ قرار دینے کے قوانین موجود ہیں۔ پانچ ملکوں میں اس جرم کے تحت سزائے موت رائج ہے جن میں ایران بھی شامل ہے۔ناوی پیلے نے کہا کہ بعض ملک یہ دلیل دیں گے کہ ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کی طرف میلان ’مقامی ثقافتی یا روایتی اقدار یا پھر مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، یا رائے عامہ اس کے خلاف ہے مگر جہاں تک آفاقی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو ان کا احترام ضروری ہے۔‘

Comments are closed.