فلسطینیوں کے خلاف یہودی مہاجرین کی شدت پسندی میں 40 فیصد اضافہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ

Posted: 07/03/2012 in All News, Breaking News, Important News, Palestine & Israel, Survey / Research / Science News, United Nations News

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 میں فلسطینیوں پر یہودیوں کے ہفتہ وار حملوں میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں یہودی مہاجرین کی جانب سے مقامی فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسندی کے واقعات پر مبنی جارہ کردہ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 80 شہر ایسے ہیں جہان مقیم اڑھائی لاکھ فلسطینی شہری یہودی مہاجرین کی جانب سے شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کی زد میں ہیں۔ ان میں سے 76 ہزار فلسطینی شہری ایسے ہیں جنکو یہودی مہاجرین کی جانب سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینیوں پر ہفتہ وار حملوں کی تعداد میں جن میں انکا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے موجودہ سال 2011 میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ جبکہ 2009 کی نسبت 165 فیصد دیکھنے کو ملا ہے۔ بدھ کے روز اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق دفتر “اوچا” کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہودی مہاجرین کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات نے مقبوضہ فلسطین میں فلسطینی شہریوں کی جان، مال اور معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہودی مہاجرین کے شدت پسندانہ اقدامات قتل و غارت، فلسطینیوں کے اموال کی تخریب اور ان پر ناجائز قبضہ، انہیں اپنے کھیتوں میں جانے سے روکنے، انکی فصلوں پر حملہ کرنے اور انکے مویشیوں کو نقصان پہنچانے پر مشتمل ہیں۔اس رپورٹ میں ان شدت پسندانہ اقدامات کی ترویج اور اضافے کی ذمہ داری اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم پر عائد کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ایسے یہودی مہاجرین کی جانب سے کثرت کے ساتھ شدت پسندانہ اقدامات دیکھنے کو ملے جو غیرقانونی اجتماعات میں شریک تھے۔ یہ اجتماعات حکومت کی جانب سے اجازت لئے بغیر فلسطینی شہری علاقوں میں تشکیل پائے تھے۔ 2008 کے بعد یہودی بستیوں کے مکینوں نے فلسطینی شہریوں اور انکے اموال کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ وہ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں اور اسے غیرقانونی اجتماعات کو ختم کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ شدت پسندانہ اقدامات “انتقام گیری” نامی جامع منصوبے کے تحت عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2011 میں دس ہزار سے زیادہ درخت جن میں سے اکثر زیتون کے درخت تھے اور فلسطینی شہریوں سے متعلق تھے یہودی مہاجرین کے ہاتھوں اکھاڑ پھینکے گئے۔ یہ اقدام سینکڑوں فلسطینی شہریوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔ رپورٹ میں یہودی مہاجرین کی جانب سے ان شدت پسندانہ اقدامات کی اصلی وجہ اسرائیل کی پالیسیوں کو بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت نے غیرقانونی طور پر یہودی مہاجرین کو فلسطینی شہریوں کی سرزمین پر قبضہ کرنے میں مدد کی ہے اور انکی تشویق بھی کی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو یہودی مہاجرین کے حق میں اور کرانہ باختری میں مقیم 25 لاکھ فلسطینی شہریوں کے نقصان میں ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی شہریوں کی زمین پر یہودی مہاجرین کے ناجائز قبضے کو قانونی بنانے کی حکومتی کوششیں بھی شدت پسندی میں خاطرخواہ اضافے کا باعث بنی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی مہاجرین کے خلاف 90 فیصد مقدمات کی پیروی نہیں کی گئی اور کسی قسم کی عدالتی کاروائی سے گریز کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہودی مہاجرین کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہیں اور انکی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات کو نہیں روک پائے۔ یہودی مہاجرین کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہونے کی ایک اور بنیادی وجہ وہ قانون ہے جسکے مطابق فلسطینی شہری پابند ہیں کہ وہ ایف آئی آر کیلئے یہودی بستیوں میں موجود پولیس اسٹیشنز سے رجوع کریں جہاں تک رسائی ان کیلئے بالکل ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2011 میں 127 افراد نے یہودی مہاجرین کی جانب سے مسلسل حملوں سے تنگ آ کر اپنا آبائی علاقہ ترک کر دیا اور دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کر لی۔ یہودی مہاجرین کے حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کا نقل مکانی کر جانا انکے اہلخانہ پر انتہائی منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ یہ اثرات جو معاشرتی، معیشتی، احساساتی اور مادی حوالے سے ظاہر ہوتے ہیں لمبی مدت تک ان کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیلی حکام انسانی حقوق کے تقاضوں اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسند اور دہشت گردانہ اقدامات کو روکنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح انکا قانونی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ اب تک انجام پانے والے تمام دہشت گردانہ اقدامات کی تحقیقات کروائیں اور فلسطینی شہریوں کا ہونے والا نقصان پورا کریں۔

Comments are closed.