کوفی عنان شام کیلئے خصوصی مندوب مقرر

Posted: 26/02/2012 in All News, Breaking News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, United Nations News

نیویارک: اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شامی بحران کے لیے خصوصی مندوب مقرر کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے مشترکہ طور پر کوفی عنان کے نام کا اعلان کیا۔ کوفی عنان شام کے بحران کو حل کرنے میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ دونوں کی جانب سے خصوصی مندوب ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے اعلان کے مطابق کوفی عنان اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے شام میں ہر طرح کے تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس بحران کا دیرپا اور مستقل حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اعلامیئے میں مزید کہا گیا کوفی عنان شام میں فعال اور سرگرم تمام جماعتوں اور بیرون ملک کام کرنے والی تمام شامی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے، انہیں ساتھ ملانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس دوران کوفی عنان کی معاونت کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ عرب ممالک کے ذمے ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بان کی مون کو خصوصی مندوب کے لیے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی کسی ایسی شخصیت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا تھا، جسے تمام فریقوں کی تائید حاصل ہو۔ اس حوالے سے کوفی عنان اور فن لینڈ کے سابق صدر مارتی آہتیساری کے ناموں پر غور کیا گیا۔ یہ دونوں رہنما ماضی میں مصالحت کار رہ چکے ہیں۔ عنان کینیا جبکہ  آہتیساری کوسووو میں ثالث رہے ہیں اور دونوں کو ان کی خدمات کے بدلے میں امن کا نوبل انعام دیا جا چکا ہے۔اسی دوران شام کے رونما ہونے والے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں شام کے ان سرکاری اہلکاروں کے نام درج ہیں، جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ اطلاعلات کے مطابق حمص شہر میں بشارلاسد کی حامی فوج کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شام کے مختلف شہروں میں ساٹھ سے زائد افراد سرکاری فوج کا نشانہ بنے۔ بین الاقوامی تفتیش کاروں پر مشتمل اس کمیشن نے جنیوا میں بتایا کہ انہوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ ان تمام افراد کے نام اور شناخت منظر عام پر لائی جائیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ ساتھ ہی اس رپورٹ میں شامی باغیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے عالمی برادری کو دمشق حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو بھی قریب لانے کی کوشش کی جائے

Comments are closed.