گورنر اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان علامه شیخ محمد حسن جعفری اور مرکزی امامیہ جامع مسجد میں شیخ محمد حسن جعفری اوردیگرعلماء سے ملاقات

Posted: 09/04/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی شاہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نے مرکزی امامیہ جامع مسجد اسکردو میں امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران گورنر نے علماء کرام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سکردو والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پاکستان کو بنانے کے لیے یہاں کے لوگوں کی بے پناہ خدمات ہیں، بلتستان کے علماء کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے انتہائی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں امن برقرار رکھا، قیام امن کے لیے پرخلوص کوشش کرنے پر بلتستان کے علماء کو سلام پیش کرتا ہوں، بلتستان کے عوام اور علماء کے تحفظات دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی، ہمیں علماء کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہم نے قیام امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ہم نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان تک قیام امن کے لیے رسائی کی ہے۔ گلگت بلتستان اسلام کا قلعہ ہے۔ امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر علماء بروقت مداخلت نہ کرتے تو بلتستان کے حالات انتہائی خراب ہو جاتے۔ شیخ محمدحسن جعفری نے کہا کہ ۸۸ء کے سانحے کے بعد سانحہ کوہستان بڑا سانحہ ہے اور صرف 40روز کے اندر دوسرا سانحہ رونما ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ قراقرام اب موت کا کنواں بنا ہوا ہے.ہمارے بارہا کہنے کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی امن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم امن کے ٹھیکدار نہیں ہیں، ہم نے اپنا کردار ادا کیا، اب حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ ابھی جو امن قائم ہے وہ علماء کی وجہ سے قائم ہے، ہماری امن پسندی کو بزدلی نہ سمجھا جائے، ہم نے ہمیشہ صبر کیا اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔  دوسری جانب گورنر  اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے سکردو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہ قراقرم نو گو ایریا نہیں یہاں سے ہر شہری سفر کر سکتا ہے، جن کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ شاہراہ کو ایف سی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، متبادل راستوں پر بھی جلد از جلد کام شروع کرایا جائے گا، جبکہ جہاز کے کرایوں میں کمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ گورنر اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کے لواحقین کو سانحہ کوہستان کے شہدا کے برابر معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے دوران تماشائی بننے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کی تعداد کا علم نہیں، تاہم صرف ایک شخص لاپتہ ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے دریا میں چلانک لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موبائل نیٹ ورکس آج شام سے بحال ہو جائیں گے۔ سکردو کے حالات کو بگڑنے سے بچانے کا سارا کریڈٹ علماء کو جاتا ہے۔  انہوں نے علماء کرام سے گفتگوکرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سانحہ چلاس کے ذمہ داران کوکسی طورپر نہیں بخشا جائے گااوراس سانحے میں ملوث افرادکوضرورسزاملے گی،انہوں نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح میں امن ہے۔ اس موقع پرعلامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہاکہ ایسے واقعات نیم ملاؤں اورنیم مفتیوں کی وجہ سے پیش آرہے ہیں جواسلام کی اصل تعلیمات سے نابلدہیں ،شیخ محمد حسن جعفری نے پرزورمطالبہ کیاکہ ایسے سانحوں سے بچنے کے لئے حکومت اعلیٰ سطحی اقدامات کرے اورسنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

Comments are closed.