سپریم کورٹ نے مارچ اور اپریل میں شہید کیے گئے شیعہ مسلمانوں کی تفصیل طلب کر لی

Posted: 18/04/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق کیس کی سماعت کرتے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہرشخص کا احترام کرتے ہیں، عقیدہ کچھ بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔ ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے پولیس والے بھی مارے گئے کوئٹہ میں نارمل صورتحال نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کہہ رہا ہے کہ کوئٹہ میں جنگ جاری ہے، 25،25 کروڑ روپے ایک ایک رکن صوبائی اسمبلی کو دیے گئے، چیف سیکرٹری کو بلا لیں کہ کتنے فنڈز ملے اور عام آدمی کو بھی بلائیں جس کے پاؤں میں چپل نہیں ہےچيف جسٹس نے ريمارکس ميں کہاکہ کوئٹہ ميں اہل تشيع کے 26 افراد قتل کردئے گئے، حالات کو کس نے کنٹرول کرنا ہے؟ ايڈووکيٹ جنرل نے کہاکہ کوئٹہ ميں سرد جنگ ہو رہی ہے، چيف جسٹس نے کہاکہ اتنے فنڈز مل رہے ہيں ليکن کنٹرول کيوں نہيں ہو رہا،

Comments are closed.