گلگت، کراچی اور کوئٹہ کی دہشتگردی میں ریاستی ادارے ملوث ہیں، علامہ ناصر عباس

Posted: 05/04/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

اپنے مذمتی بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، کوئٹہ میں شیعوں کی ٹارگٹ کلنگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کے قتل عام میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں، صدر اور رحمان ملک کی کراچی میں موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 بے گناہ شیعہ عمائدین کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کالعدم دہشتگرد گروہ کراچی، گلگت اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں 3 شیعہ عمائدین (اصغر جعفری، نسیم عباس، سید ساجد حسین) کی ٹارگٹ کلنگ اور گلگت میں مسافر بسون پر دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے عمائدین کی شہادت اور کوئٹہ میں 2 افراد کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت، پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور ملک کے دیگر حصوں میں بے گناہ انسانوں اور شیعان حیدر کرار کا قتل عام حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کی شہادت میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا کہ کالعدم دہشتگرد گروہ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، صدر اور رحمان ملک کی موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے بے گناہ افراد کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ درایں اثناء ایم ڈبلیو ایم کراچی کے ترجمان آصف صفوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہید ہونے والے اصغر زیدی، نسیم عباس اور ساجد حسین کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں۔ سیاسی اور لسانی تنظیمیں شیعہ عمائدین کے قتل عام پر اپنی مکاری کی سیاست نہ کریں، شہید ساجد حسین کا تعلق کسی لسانی تنظیم سے نہیں، اُنہوں نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، چیف جسٹس اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس ملک میں شیعہ عمائدین کی نسل کشی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے تو اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جائیں ورنہ ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Comments are closed.