ایم ڈبلیو ایم کا گلگت میں جاری قتل و غارت پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنیکا فیصلہ

Posted: 05/04/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایک بار پھر گلگت بلتستان میں آگ لگائی گئی ہے۔ دہشتگردی میں ملوث ایک شخص کی گرفتاری کیخلاف ہڑتال کا اعلان اور ہڑتال کی آڑ میں فورسز اور پولیس کی بے گناہ عوام اور گھروں پر حملے اور بے دریغ فائرنگ نے علاقے کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اس تمام صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ چلاس کے مقام پر ایک بار پھر مسافر بسوں سے بے گناہ مسافروں کو اتارا گیا اور ان کے شناختی کارڈ چیک کر کے ان میں سے آخری اطلاعات آنے تک 10 افراد کو شہید اور درجنوں مسافروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ مسلح لشکر کوہستان اور دیامر کے علاقوں سے گلگت کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔  ایم ڈبلیو ایم سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی خطرناک نتائج کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس کے نتائج پورے علاقے اور وطنِ عزیز کے باقی علاقوں کو بھی متاثر کریں گے۔ فرقہ واریت اور شدت پسندی پہلے ہی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اگر حکومت اور بالخصوص سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے میں کسی طرح سے بھی کوتاہی کی تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے، بلتستان کی تمام وادیوں میں اس وقت بے چینی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہنزہ نگر میں عوام سڑکوں پر آگئی ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کی سرپرستی اور پشت پناہی سے ملک کی سلامتی کو جو خطرات بلوچستان میں لاحق ہو چکے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، اب اگر یہ ادارے گلگت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس ملک کی بدقسمتی ہو گی۔ آج ہی کے دن کراچی میں 3 بے گناہ شیعہ جوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور خبر آئی ہے کہ اس میں حکومت اتحاد کے مسلح لوگ بھی ملوث ہیں۔  ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے سانحہ کوہستان کے حوالے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے، جس سے عوام میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صوبے میں امن قائم نہیں کر سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بعد گلگت میں حالات خراب کرنے کی عالمی سازش کی جا رہی ہے، اس حوالے مجلس وحدت مسلمین جلد سپریم کورٹ میں رجوع کرے گی۔  اس موقع پر علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے اور دہشتگردوں کو فوراً روکا جائے۔ چلاس سے تمام مسافروں کو ان کے گھروں تک بحفاطت پہنچایا جائے۔ علاقے کے امن کو تباہ کرنے والے عناصر کی سرپرستی ترک کی جائے اور گلگت بلتستان کا امن لوٹایا جائے۔

Comments are closed.