Archive for 20/04/2012

ایس یو سی کے زیراہتمام منعقدہ علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی و امن کا درس دیتا ہے، دہشتگردی کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، دہشتگرد انسانیت دشمن درندے ہیں، حکومت سخت ایکشن لے۔شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ “علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں، وہ صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، حکومت دہشتگردی کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لے کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی قوتیں اُمت مسلمہ میں فتنہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں، ایم ایم اے اتحاد اُمت کی طرف اچھا اقدام تھا، مستقبل میں ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے، آمدہ الیکشن میں علماء کرام بھرپور کردار ادا کریں اور متحرک ہو جائیں۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اس موقع پر تحریک جعفریہ پاکستان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ محسن علی نجفی، وزارت حسین نقوی، علامہ شیخ محمد حسین نجفی، علامہ افتخار نقوی، علامہ رمضان توقیر، علامہ افضل حیدری، علامہ تقی نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ ظفر عباس شہانی، علامہ آغا عباس رضوی، علامہ عبدالجلیل نقوی، علامہ امین شہیدی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر میثمی، مفتی کفایت حسین نقوی اور علامہ عارف واحدی، علامہ احسان اتحادی سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔  علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کے دوران مقرریں کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہے، اس کا کسی مذہب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی چاہے بازار میں ہو، سکول میں ہو، تھانہ یا مسجد و امام بارگاہ میں، اس میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوتا ہے اور اسلام کسی ایک انسان کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم سازش کے تحت دہشتگردی کو اسلام سے نتھی کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگرد کی تعریف اتنی ہی کافی ہے کہ وہ صرف اور صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، جن کا کام معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ شرکاء نے ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہے، جبکہ جن دہشتگردوں کو پکڑ کر سزائیں دی جا چکی ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانیت دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں کوئٹہ، گلگت، بلتستان، پارہ چنار، کراچی، پشاور،خانپور سمیت پورے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ غیر ملکی عناصر بھی ملک میں منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں، اس سلسلے میں بھی علماء کرام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اتحاد کا مظاہرہ کریں، کیونکہ جتنی ضرورت اتحاد کی آج ہے اس سے قبل نہ تھی، مقررین نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اتحاد اُمت کی طرف اچھی پیش رفت تھی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مقررین نے تمام مسالک کے باہمی احترام پر بھی زور دیا کہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے کی طرف گامزن ہوا جائے۔  اس موقع پر سیاچن میں دبے فوجی جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ علمائے کرام کے ہزاروں کے اجتماع نے علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قدم بڑھائیں، ہمیں اپنا ہم رکاب پائیں گے، اس موقع پر علماء کرام نے تحریک جعفریہ پاکستان سے حکومت کی طرف سے عائد پابندی اُٹھانے کا بھی پُر زور مطالبہ کیا۔

Advertisements

دہشتگردی کیخلاف منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ کی طرف جانے والی ریلی علامتی مارچ تھا، حکمران ملک میں جاری دہشت گردی کو روکیں ورنہ اگلے مرحلے میں ایسا مارچ کریں گے جس سے حکومتی ایوان ہل جائیں گے، سانحہ کوہستان ہو یا سانحہ چلاس، کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ ہو یا کراچی و پارا چنار میں قتل عام، یہ گھمبیر صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک ایک قتل گاہ ہے، جہاں جنگل کا قانون ہے اور کوئی پرسان حال نہیں، ہم ذمہ داروں پر حجت تمام کر چکے ہیں۔ ایسی سنگین صورتحال میں کسی بڑے اقدام کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا ۔لہذا ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں جا کر حالات کی سنگینی سے آگاہ کریں اور انہیں متحد و بیدار کریں، تاکہ اس ظلم و نا انصافی کے ازالے کیلئے اقدام کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں علمائے کرام کی احتجاجی ریلی سے قبل منعقدہ علماء کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ مکتب تشیع دین اسلام کی سب سے ارفع و اعلٰی تعبیر و تشریح کا نام ہے۔ ہم تمام مکاتب اور مسالک کے احترام کے قائل ہیں اور اُمت مسلمہ کا ایک باوقار اور طاقتور حصہ ہونے کے ناطے اسلام و مسلمین کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر میدان عمل میں ہیں اور دور حاضر میں غیر اسلامی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اصلاح معاشرہ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر جیسے فریضے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے آگاہ علمائے کرام کی بھر پور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ آخر قاتلوں کو کھلی چھٹی کون دے رہا ہے؟ دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟ یہ کہاں پلتے ہیں؟ رول آف لاء کیوں نہیں قائم ہوسکا؟ ان حالات میں ناگزیر ہے کہ قاتلوں کے خلاف بھر پور آپریشن کیا جائے ہم اس حوالے سے ہر باضمیر شخص، ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان سے رابطے کر کے مکمل بریفنگ دی جائے گی۔

ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سب اس پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تمام شیعہ گروہ اور تنظیمیں ملکی وقار اور تشیعُ کی سربلندی کیلئے ایک ہو کر آواز بلندکریں، ملی یکجہتی کا اظہار، وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکتب تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے پیروان ولایت کو ولایت فقیہ کی سرپرستی میں آگے بڑھنا ہو گا، تمام نوجوان علماء کو بزرگ علماء کا احترام کرنا چاہئے اور یہ اُن کا فرض بنتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بزرگ علماء بھی دست شفقت بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کی غلطیوں سے درگزر کریں۔ انہوں نے کہا کہ چار سے سال سے ہم میدان عمل میں ہیں، ہم اس وقت میدان میں آئے جب ملت میں جمود تھا، ملت تشیع کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن آج الحمداللہ ملی بیداری کا سفر شروع ہو چکا ہے، کراچی میں نشتر پارک کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوامی سمندر نے دشمن کو بتا دیا کہ ہم ایک ہیں، علماء کانفرنس میں جس بڑے پن کا مظاہرہ کیا گیا اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اب یہ بیداری عمل آگے تیزی سے بڑھ رہا ہے، تمام علماء کو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں ان افراد پر نظر رکھیں جو ملی اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سلیقے اور کام کرنے کا اختلاف ہو سکتا ہے، یہ اختلاف مدارس میں، علماء میں، ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کی ضد میں کام کر رہا ہے، ملت تشیع کے وقار کی خاطر جس سے جو ہوپا رہا ہے وہ کر رہا ہے۔ علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ تمام علما کو دعوت دی جاتی ہے کہ یکم جولائی کے پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں اور دشمن پر ثابت کریں کہ ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جگہ جمع ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دشمن نے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی اور ہمیں ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہونے کیلئے مختلف ہربے استعمال کئے، لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ یہ قوم ایک بار پھر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلوں کو صاف کرنا ہو گا، کینے اور بغض کو نکال کر ایک دوسرے کیلئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احترام کے رشتہ کو مضبو ط بنانا ہو گا۔ جو لوگ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اُن افراد پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی۔ کچھ ناداں دوستوں کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ان ناداں دوستوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد: ایران نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے کیا ہے جس میں جدید ترین میزائل لانچنگ اور خشکی ، فضا اور سمندر میں فائر پاور دکھائی گئی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان اور ایرانی آرمڈ فورسز کے اتاشی کرنل وجہہ اللہ درویشی ایرانی فورسز کے سالانہ دن کے موقع پر ہونے والے استقبالئے میں میزبان تھے۔ چےئرمین سینیٹ سید نیئر علی بخاری اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کو چےئر مین سینیٹ کے ہمراہ پوڈیم پر بٹھایا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ یورپین ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے نمائندوں کی تعداد بھی مایوس کن حد تک کم تھی۔وفاقی وزراء جو یوں تو تقریبات میں شرکت کے بہت شوقین ہیں وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وزیر سردار الحاج محمد عمر گورگیج اس تقریب میں شریک ہوئے ، انہیں ڈائس پر بٹھایا گیا لیکن اپنی جان پہچان کے لوگوں کو نہ پا کر وہ کچھ بدحواس سے لگ رہے تھے۔مہمان خصوصی کی آمد پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر مہمانوں کی اکثریت سانحہ سیاچن کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آئی ۔ لوگ برف اور چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے جوانوں اور سویلین افراد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ لو گ اس امر پر حیرانی کا اظہار کررہے تھے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پاکستان کو اس جگہ جانے میں 12 دن کا عرصہ لگا اور وہ بھی صرف فضائی جائزہ لے کر واپس آگئے ،وہ برفیلی سطح پر اترے اور نہ ہی انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگوں سے ہاتھ ہی ملایا۔ڈوما پوسٹ جہاں سے وہ واپس آئے ، گیاری اس سے محض 5 منٹ کی دوری پر ہے۔تقریب میں عمان اور شام کے سفراء بھی شریک ہوئے

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

کراچی: پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ سانحہ بنوں جیل حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ انتہا پسند دہشت گرد جب جیل توڑ کر خطرناک قیدیوں کو لے جاسکتے ہیں تو اس کا مقصد ہے کہ دہشت گرد اتنی جدید ٹیکنالوجی رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں جب چاہیں خون کی ہولی کھیل سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف اگر مثبت اقدامات نہ کیے گیے تو یہ پاکستان اور عوام کے لیے مزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کراچی، کوئٹہ، گلگت، بلتستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مثبت سوچ اپنا کر دہشت گردوں کے گرد قانون کے شکنجے کو سخت کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہل سنت پر لاڑکانہ سے آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ حکومت عوام کو جواب دہ ہے وہ حقائق سامنے لائے کہ بنوں جیل سے راتوں رات دہشت گرد جیل توڑ کر 300 سے زائد دہشت گردوں کو کس طرح بھگا کر لے گئے۔

کراچی : ہم پاکستان کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت ہماری سرپرستی نہیں کررہی ۔ کوہستان اور چلاس میں ہمارا قتل عام ہورہا ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ہمارا بچہ بچہ محب وطن ہے لیکن ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، ہمیں ایک جامع اور مکمل آئینی پیکیج کی ضرورت ہے۔جب سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں تو خطے کے حالات بگڑے ہیں اس صورتحال کا ذمے دار امریکا اور پاکستان کے وہ دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اسلام آباد تک 750 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم کو پاک فوج کے ذریعے مکمل تحفظ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسکردو کے باسیوں نے جیو نیوز پر”کیپٹل ٹاک “ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔علاقے میں موجود مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب متحد ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ یہاں کو ئی تنازع پیدا ہی نہ ہو۔اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین کا کہنا تھا کہ علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود ہر موقع پر شیعہ علمائے کرام اور لوگوں کا کردار انتہائی مثالی رہا ہے۔

لندن: مجلس علمائے شیعہ یورپ کے چار رکنی وفد نے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی ہے۔وفد کی قیادت مجلس کے صدر سید علی رضا رضوی نے کی۔ اس موقع پر واجد شمس الحسن نے پاکستان میں ان کی کمیونٹی کے ممبروں کے قتل پر سخت تشویش ظاہر کی۔ وفد نے تین نکاتی سفارشات غور کے لئے حکومت کو پیش کیں۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گلگت میں کرفیو کی پابندیاں ختم کرے۔سازشی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،نشانہ بننے والوں کے اقارب کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ واجد شمس الحسن نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی پابند ہے۔

ڈيرہ غازي خان…ملک بھر ميں دہشت گردي کا لامتناہي سلسلہ حکومتي ناکامي کا کھلا ثبوت ہے جنوبي پنجاب سميت ملک بھر ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن کياجائے،کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرکے پاکستان کيلئے بے پناہ قربانياں دينے والے مظلوم ہزارہ قبيلے کي نسل کشي روکي جائے ،زيارات مقدسہ اور گلگت ببلتستان وپاراچنار جانے والے راستوں کي سيکيورٹي کا خصوصي بندوبست کيا جائے ،درگاہ حضرت سخي سرور?اور ڈيرہ غازي خان ميں چہلم شہدائے کربلا کے جلوس ميں دہشت گردي کے سانحات کے مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جائے، دہشت گردي کے خاتمہ کيلئے قائد ملت جعفريہ آغاسيد حامد علي شاہ موسوي کي جانب سے سپريم کورٹ ميں پيش کرہ امن تجاويز پر عمل کرايا جائے ،کالعدم گروپوں کي نئے ناموں سرگرميوں پر پابندي عائدکي جائے.يہ مطالبات دربار آل محمد ڈيرہ غازي خان ميں تحريک نفاذ فقہ جعفريہ صوبہ پنجاب کے زير اہتمام سہ روزہ عزاداري سيدالشہداء کنونشن ميں شاعر اہلبيت عقيل محسن نقوي کي جانب سے پيش کئے جانے والے اعلاميہ ميں کيے گئے. عقيل محسن نقوي نے ملک ميں امن و امان کي مخدوش صورتحال پرگہري تشويش کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردي ‘ٹارگٹ کلنگ اورخود کش حملوں کي پرزورمذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ دہشتگردي کے مجرموں کو في الفور گرفتار کرکے کيفر کردار تک پہنچائے.اعلاميہ ميں ذاکرين عظام واعظين کرام بانيان مجالس ا ورلاکھوں ماتمي عزاداران مظلوم کربلا کي جانب سے قائد ملت جعفريہ آغا سيد حامد علي شاہ موسوي کي قيادت پر غيرمتزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کيا گيا .اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے جنرل سيکرٹري سيد ظفر عباس نقوي نے کہا کہ چيف جسٹس سجاد علي شاہ اگر دہشتگردي کے واقعات کا ازخود نوٹس ليکر اس کے علل و اسباب اور خاتمہ کيلئے تمام مکاتب ، مسالک ، تنظيموں ، ليڈران و سياستدانو ں سے رابطہ کر سکتے ہيں تو موجودہ چيف جسٹس ايسا کيوں نہيں کر سکتے؟.اس موقع پر تحريک نفاذ فقہ جعفريہ کے مرکزي سيکرٹري اطلاعات علامہ قمر حيدر زيدي ،تحريک تحفظ ولاء و عزا کے صدر سلطان الذاکرين مداح حسين شاہ ،مخدوم نزاکت حسين نقوي ،آغا نسيم عباس رضوي ،علامہ آغا علي حسين نجفي ،ذاکر ضرغام شاہ جھنگ،ذاکرناصر عباس نوتک ،ذاکر آغا علي نقي بھکر،ذاکر عامر رباني ،ذاکر الياس رضا شاہ ڈي جي خان ،ذاکر علي رضا ساہيوال سميت ملک بھر کے سينکڑوں علماء واعظين اور ذاکرين نے خطاب ک

اسلام آباد… سپريم کورٹ ميں انساني اعضا کي پيوند کاري سے متعلق قانون مجريہ 2010 کي خلاف ورزي روکنے سے متعلق انساني حقوق کي کارکن عاصمہ جہانگير اور ديگر کے مقدمے کي سماعت ہوئي. عدالت نے اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي کي قوم کيلئے خدمات پر ان کا شکريہ ادا کيا. سپريم کورٹ ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کي سربراہي ميں بنچ نے درخواست کي سماعت کي ،اس موقع پر جسٹس خلجي عارف نے ڈاکٹر اديب رضوي کا ان کي خدمات پر شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کيلئے دعاگو ہے . چيف جسٹس نے بھي ڈاکٹر اديب رضوي کي خدمات کي تعريف کي. اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي عدالت ميں موجود تھے ،درخواست ميں کہا گيا کہ 1994کے بعد سے پاکستان انساني اعضا کي خريدوفروخت کا سب سے بڑا بازار بن گيا ہے، ملک ميں سال 2007تک ڈھائي ہزار گردے ٹرانسپلانٹ کيے گئے ليکن ان ميں تقريبا ڈيڑھ ہزار غير ملکيوں نے فائدہ اٹھايا، ايک اندازے کے مطابق اسي فيصدکيسز ميں گردے لينے اور دينے والے ميں کوئي تعلق نہيں تھا ، گردے لينے والے نے اس کيلئے رقم اد اکي . درخواست کے مطابق گردے کي پيوند کاري کيلئے بھارت ،يورپ اور مشرق وسطي سے امير مريض پاکستان کا رخ کرتے ہيں اور دس ہزار ڈالرز سے تيس ہزار ڈالرز ميں گردہ خريدليتے ہيں. عدالت نيانساني اعضا کي پيوند کاري اور گردوں کيامراض سے متعلق عوام کيلئے خدمات پر ڈاکٹر اديب رضوي کا شکريہ ادا کرتے ہوئے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان حکومت کو اس بارے ميں جواب 29مئي تک جمع کرانے کي ہدايت کي ،،خيبر پختونخو ا حکومت پہلے ہي اپنا جواب جمع کراچکي ہے

گلگت ميں 16 دن سے نافذ کرفيو ميں آج صبح 6 سے شام 5 بجے تک 11 گھنٹے کا وقفہ ديا گيا ہے، وقفے کے دوران قانون نافذ کرنے اداروں کے اہلکاروں کا گشت جاري ہے،تين اپريل کو گلگت ميں پرتشدد مظاہروں کے بعد سے کرفيو نافذ ہے، جس ميں مختلف اوقات ميں نرمي کي گئي، آج 16 ويں روز بھي صبح 6 سے شام 5 بجے تک کرفيو ميں وقفہ ديا گيا ہے، وقفے کے دوران چادر اوڑھنے ، جيکٹ پہننے اور دو سے زائد افراد کے ايک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندي ہے، موبائل فون سروس بھي بدستور بند ہے، 16 روز سے مسلسل کرفيو کے باعث اکثر علاقوں ميں خوراک، ادويات اور پٹروليم مصنوعات کي قلت پيدا ہوگئي ہے، کرفيو ميں وقفے کے دوران شہر کے داخلي و خآرجي راستوں سے کسي آنے جانے کي اجازت نہيں ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا گشت بھي جاري ہے.

غداد… عراق کے 4 صوبوں ميں متعددبم دھماکوں سے 30 افراد ہلاک ہوئے ہيں. وزارت داخلہ حکام کے مطابق دارالحکومت بھي کئي دھماکوں سے لرز آٹھا جس ميں 17 افراد ہلاک ہوئے.کرکوک ميں دو کار بم دھماکوں ميں 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سمارا بھي دو دھماکوں سے گونج اٹھا، ان دھماکوں سے 3 افراد جان سے گئے. تاجي ميں سڑک کنارے نصب بم پھٹا جبکہ بعقوبہ ميں خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا ليا. دھماکوں کے بعد سيکورٹي فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئيں .زخميوں کو اسپتال منتقل کياجارہاہے.

واشنگٹن …ايک ا مريکي شہر ي نے اپني نو کري اورتما م دولت چھو ڑ چھا ڑ کر پہاڑو ں ميں مو جو د غا ر کو اپنے گھر ميں تبديل کر ليا ہے . ڈينيل سوئلوپيشے کے لحا ظ سے ايک با ورچي تھا ليکن سن 2000 ء ميں امريکہ ميں آنے والے معا شي بحران کے بعد اس نے پيسے اور نو کري پر انحصا ر ختم کر کے رياست Utah کے غاروں ميں رہا ئش اختيار کر لي ہے .ڈينيل سوئلو کا نہ تو کو ئي بينک اکا ؤ نٹ ہے اور نہ ہي وہ حکو مت سے کسي قسم کي کوئي مالي امدا د وصول کر تا ہے . غار ميں رہنے وا لا ڈينيل سوئلو پہاڑوں ميں اگنے والي گھا س پھونس اور سڑ ک کے کنا رے ہلا ک ہو جانے والے جانوروں پر گزراکر تا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اسے زندگي گز ارنے کے ليے رقم کي کو ئي ضر ورت نہيں رہي .