حرین میں سعودی مداخلت امریکہ کی خدمت اور صیہونی حکومت کی حمایت کرنا ہے، لبنانی اھلسنت و شیعہ علماء

Posted: 18/04/2012 in All News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔لبنان کے اھل سنت اور شیعہ علماء نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کی مذمت کی ہے۔ جمعیت علماء لبنان کے سینئر رکن شیخ احمد ال زین نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت امریکہ کی خدمت اور صیہونی حکومت کی حمایت کرنا ہے۔ ادھر شہر صیدا کے معروف عالم دین شیخ ماہر حمود نے کہا ہے کہ بحرین سے سعودی عرب کی جارح افواج کو فورا نکل جانا چاہیے کیونکہ بحرین میں سعودی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ فلسطین علماء کونسل کے رکن شیخ محمد موعد نے آل خلیفہ کی حکومت سے کہا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے جارح فوجیوں کو بحرین سے نکل جانا چاہیے۔ادھر سعودی عرب میں طلباء نے آل سعود کے کارندوں کی تشدد آمیز روشوں کی مذمت کی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔ طلباء نے کہا ہے کہ وہ پولیس کی اس بربریت کے خلاف دھرنا دیں گے۔ سعودی کارندوں کے تشدد میں ایک طالبہ شہید ہو گئی تھی۔ ادھر شہر قطیف کے امام جمعہ نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کو روکنے کے لئے نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ شیخ حسن الصفار نے جمعے کی نماز میں کہا کہ ملک میں ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جن سے فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ منافرت کا سدباب ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے عناصر سے مقابلہ کرے۔ یاد رہے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانون کے خلاف شدید تعصب اور امتیازی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔

Comments are closed.