تیونس: لیلٰی بنی علی کی آپ بیتی,کتاب کے ذریعے جوابات دوں گی

Posted: 11/04/2012 in All News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلٰی بن علی نے اپنی آپ بیتی مکمل کر لی ہے۔ امید ہے کہ ’مائی ٹرتھ‘ یعنی ’میرا سچ‘ کے عنوان سے یہ کتاب اگلے ماہ سے دستیاب ہو گی۔تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کی یہ کتاب ابھی صرف فرانسیسی زبان میں شائع ہو گی۔ فرانسیسی ناشرLes Editions du Moment نے اسے شائع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تناظر میں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناشر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ادارے کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تیونس کی ایک ویب سائٹ Tunisia live کےمطابق ناشر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ کتاب اشاعتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیلٰی بن علی کے بقول انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جو زین العابدین کے دور حکومت میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے تھے۔لیلٰی بن علی کا تعلق طرابلیسی خاندن سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ہیر ڈریسر تھیں۔ ان کے انتہائی پر تعیش طرز زندگی اور امیر خاندان کی وجہ سے تیونس کے بہت سے شہری ان پر بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بن علی کے دور حکومت میں کی جانے والی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف کرپشن، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور آزادیء اظہار پر پابندی کی وجہ سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس طرح بن علی عرب دنیا کے وہ پہلے رہنما تھے، جنہیں عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ گزشتہ برس جنوری میں جب احتجاجی مظاہرے تیونس کے دارالحکومت تک پہنچ گئے تو لیلٰی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھیں۔ جون میں تیونس کی ایک عدالت نے زین العابدین اور ان کی اہلیہ کو چوری اور غیر قانونی طور پر جواہرات اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ان دنوں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق بن علی کے دور میں طرابلیسی خاندان نے بڑے پیمانے پرفوائد حاصل کیے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپ بیتی کے منظر عام پر آنے کے بعد تیونس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سماجی ویب سائٹس پر چند افراد نے ابھی سے ’مائی ٹرتھ‘ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بن علی نے اپنے 23 سالہ دور حکومت میں متعدد تصانیف پر پابندی عائد کی تھی تو اس کتاب کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی زبان میں Ma Verite کے ٹائٹل والے یہ کتاب 24 مئی کو فروخت کے لیے جاری کر دی جائے گی اور اس کی قیمت تقریباً 16 یورو ہو گی۔

Comments are closed.