Archive for 11/04/2012

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ بان کی مون نے الخلیفہ حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ الخواجہ کو علاقہ کے لئے  ڈنمارک کے حوالے کردے کیونکہ الخواج کے پاس ڈنمارک کی شہریت بھی موجود ہے۔ الخواجہ کی گرفتاری اور اور اس کی بھوک ہڑتال کے بعد بحرین میں عوامی مظاہروں میں شدت آگئی ہے

Advertisements

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن نواف الموسوی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی مقاومت کی کامیابی شام کے حالات کو درک کرنے کی اصلی کلید ہے اس نے کہا کہ مقاومت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو علاقہ میں شکست و ناکامی سے دوچار کیا ہے اور امریکہ اپنی  شکست و ناکامی کی تلافی کے لئے شام میں اسرائيل کی حامی حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے انھوں نے کہا کہ لبنان اور فلسطین میں اسلامی مقاومت کی کامیابی میں شام کا کلیدی کرداررہا  ہے اور امریکہ نے مقاومت کو شکست دینے کے لئے اب شام کو نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن: نائیجیریا کی وزیر خزانہ اور عالمی بینک کی صدارت کی امیدوار نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا ہے کہ امریکہ اس روایت کو توڑے کہ ہمیشہ کوئی امریکی ورلڈ بینک کی سربراہی کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ بات ورلڈ بینک کے بورڈ کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے کے انٹرویو کے بعد کہی۔ نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا کہ عالمی بینک کی سربراہی کا معیار اہلیت اور مہارت پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو کے دوران بورڈ پر واضح کیا ہے کہ انتخاب کا طریقہ کار واضح اور شفاف ہونا چاہئے۔ انہوں نے ممالک سے حمایت طلب نہیں کی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ کے غیر رسمی معاہدے کے تحت ہمیشہ ورلڈ بینک کی سربراہی کسی نہ کسی امریکی کے پاس رہے گی جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا سربراہ یورپی ہوگا۔ چین، بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں طویل عرصے سے جاری مالیاتی اداروں میں اثر و رسوخ کی روایت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نائیجیریا کی وزیر خزانہ نے گزشتہ سال عالمی بینک کا عہدہ چھوڑا تھا۔ عالمی بینک کی صدارت کیلئے کولمبیا کے سابق وزیر خزانہ اور امریکہ کی طرف سے نامزد کوریا نژاد امریکی شہری ان کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

پاکستان کے معاشی ہب کراچی میں رواں برس پُر تشدد واقعات کی ایک تازہ لہر نے اب تک سینکڑوں زندگیوں کے چراغ گل کر دیے ہیں اور اس سے ملک کو اقتصادی لحاظ سے شدید نقصانات کا سامنا ہےگزشتہ چار برسوں میں ملک کے دیگر شہروں میں اسلامی انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے تو یہ شہر قدرے بچا رہا مگر اندرونی طور پر فرقہ وارانہ اور لسانی تنازعات کے باعث اس شہر کو بھاری جانی اور مالی نقصانات کا سامنا رہا۔ گزشتہ برس کراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر خونریز واقعات میں 1800 افراد ہلاک ہوئے تاہم رواں برس کے آغاز سے اب تک اس شہر میں تین سو سے زائد افراد مختلف پُر تشدد واقعات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان خونریز واقعات کی وجہ منشیات، بھتے، اسلحے اور لینڈ گریبنگ کی مافیا کے درمیان جاری جھگڑے ہیں، جن کے سلسلے میں سرگرم عمل گروہوں کو مبصرین کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہےکراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی کسی بھی ہلاکت کے بعد پورا شہر بند کر دیا جاتا ہے اور کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ خبر رساں ادارے AFP کے مطابق کراچی میں اب یہ معمول کی بات ہے کہ کسی پُر تشدد واقعے کے اگلے روز تمام دفاتر، اسکول اور کاروباری ادارے بند رہیں۔ کراچی مارکیٹ الائنس کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق گزشتہ ہفتے کراچی شہر مسلسل چھ روز بند رہا۔ ’’کراچی میں گزشتہ ہفتے فائرنگ کے مختلف واقعات میں 24 افراد کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (کراچی کی بڑی سیاسی جماعت) کی اپیل پر ایک یوم سوگ بھی منایا گیا۔‘‘ عتیق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے مختلف کاروباری اداروں کو 20 بلین روپے (220 ملین ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ صنعتی اداروں کو 45 بلین روپے ( 495 ملین ڈالر) کا مالی نقصان ہوا۔‘‘ کراچی ملکی جی ڈی پی ( مجموعی قومی پیداوار) میں 42 فیصد حصہ ملاتا ہے، ٹیکس کی مد میں ملک بھر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد جبکہ سیلز ٹیس کا 62 فیصد کراچی سے ہی حاصل ہوتا ہے تاہم عتیق میر نے کراچی کی صورت حال کو ملک کے شمال مغربی علاقے سے مماثل قرار دیتے ہوئے کہا، ’کراچی ایک شہری وزیرستان بنتا جا رہا ہے، جہاں حکومت اپنی عمل داری کھو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کراچی سیاسی اور لسانی اعتبار سے اب جغرافیائی طور پر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، جہاں مسلح مافیا گروہ حکومت کرتے ہیں اور عملی طور پر پولیس یا سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری موجود نہیں

پاکستان میں ڈاکٹروں اور فلاحی اداروں کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں ان کے وارث مختلف وجوہات کی بنا پر یا تو قتل کر دیتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے جھولے میں ڈال دیتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے لاوارث گمنام بچوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ان بچوں کی پرورش کرنے والے ہر ادارے کے پاس انفرادی ریکارڈز تو موجود ہیں تاہم مجموعی اعدادوشمار اب تک جمع نہیں کئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں کئی ایسے غیر سرکاری فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے وہ بچوں کو پال نہیں سکتے تو انہیں اداروں کے سپرد کردیا جائے جہاں ان کو گود لینے کے لئے کئی جوڑے رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاونڈیشن کے ملک بھر میں چار سو مراکز قائم ہیں جن کے باہر جھولے لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس بات کی جانب آمادہ کرنا ہے کہ وہ ایسے بچے جن کی پرورش وہ نہیں کرنا چاہتے، انہیں قتل کرنے یا کسی گلی محلے اور کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے ان جھولوں میں ڈال دیں۔ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدلاستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے ان جھولوں سے ملنے والے بچوں کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ چھ دہائی قبل ان کے شروع کئے گئے جھولا پراجیکٹ کے تحت سولہ ہزار بچوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ تاہم مردہ حالت میں بچے اب بھی شہر کے مختلف علاقوں سے ملتے رہتے ہیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف ایدھی فاونڈیشن کو ہی ملک بھر سے سالانہ اوسطاً تین سو پینسٹھ بچے ملتے ہیں،’’زیادہ تر مرے ہوئے بچے ملتے ہیں۔ انہیں پلاسٹک بیگ میں بند کرکے، منہ میں کپڑا ڈال کر یا گلے میں رسی ڈال کر پھینک دیتے ہیں۔عبدلاستار ایدھی کے مطابق ملنے والے ان بچوں میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے جبکہ مردہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے، ’’ہمیں سال میں اگر پچیس بچے زندہ ملتے ہیں تو اڑھائی سو مردہ ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو معذور یا دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں بھی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے‘‘۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف مئی دو ہزار بارہ میں تیرہ گمنام نوزائدہ بچوں کی لاشیں ان کی تنظیم کو ملی جنہیں دفن کیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے بچوں کو فوری طور پر گود لینے کے خواہش مند جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ عبدلاستار ایدھی کے مطابق اب تک چھبیس ہزار بچوں کو ان کے ادارے نے گود دیا ہے۔ان میں دیگر طریقوں سے ایدھی سینٹر کو ملنے والے بچے بھی شامل ہیں ۔ ان بچوں کو گود دینے سے قبل جوڑوں کی اچھی طرح سے چھان بین کی جاتی ہے، ’’ہم بچے صرف بے اولاد جوڑوں کو دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ لمٹس رکھی ہیں ۔ مثلاً شادی کو دس سال ہوئے ہوں، اولاد نہ ہو تو اپلائی کر سکتے ہیں ۔ جائداد دیکھتے ہیں، مکان پکا ہے اور اپنا ہے تو دیتے ہیں۔ چھ ہزار سے کم تنخواہ والوں کو نہیں دیتے کیونکہ بچے کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہوتی ہے۔ جبکہ بچہ حوالے کرنے کے بعد پانچ سال تک خبر گیری رکھتے ہیں۔ آگے اسلئے نہیں کرتے کہ تاکہ بچے کو احساس نہ ہو کہ وہ گود لیا ہوا بچہ ہے‘‘۔ ان بچوں کو گمنام چھوڑ دینے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ بلقیس ایدھی کے مطابق بعض ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو زنا یا زیادتی کے باعث مائیں بن جاتی ہیں اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ان کی پرورش نہیں کرنا چاہتی۔ بعض عورتیں دوسری شادی کے لئے بچے چھوڑ جاتی ہیں۔ اور بعض دیگر مجبوریوں کے باعث بچے سے دستبردار ہوتی ہیں، اُن کے بقول،’’ایک غربت اور دوسرا جہالت، ہمارے ملک میں غربت بہت ہے، ہمارے ملک میں بے روزگاری ہے، ملک میں منصوبہ بندی نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہوتی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عورت کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں‘‘۔ پاکستان میڈیکل ایسوسیشن سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کہتی ہیں کہ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنہیں لاوارث اور گمنام چھوڑا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا،’’ ان میں صرف ناجائز بچے نہیں ہوتے بلکہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ماں باپ غربت کے باعث انہیں پال نہیں سکتے۔ بچے پر بچہ پیدا ہوتا جاتا ہے، کوئی فیملی پلاننگ نہیں ہوتی۔ نہ ہی درمیان میں کوئی وقفہ ہوتا ہے۔ انہیں نہ کچھ بتایا جا رہا ہوتا ہے نہ انہیں اسے کنڑول کرنے کے لئے کوئی چیز دی جارہی ہوتی ہے۔اگر ایسے میں بچہ پیدا ہو جائے تو لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیتے ہیں‘‘۔جرمنی سمیت دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہسپتالوں میں ایسے جھروکے قائم ہیں جہاں نومولود کو مائیں مختلف وجوہات کے باعث چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں‘‘۔ ہسپتالوں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں ایسے کسی نظام کے نافذ کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ یہاں اتنی کرپشن سے کہ اگر ایسے نظام قائم کئے گئے تو یہ کاروبار کی صورت اختیار کر جائیں گے، وہ کہتی ہیں،’’ لوگ اس کاروبار کے تحت بچوں کی خرید و فروخت شروع کر دیں گے۔اسلئے میرے خیال میں ایسا کوئی نظام سرکاری اداروں میں نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں لیکن ایدھی سینٹرز کی طرح کے ادارے ہوں تو ان کے حوالے کیا جا سکتا ہے جہاں نہ صرف بچوں کی مناسب دیکھ بھال ہوتی ہے بلکہ انہیں گود لینے کے خواہشمند جوڑوں کے حوالے بھی کیا جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں baby hatches یا ایسا کوئی نظام قطعی طور پر ہونا چاہئے جس کے تحت لاوارث چھوڑ دئیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام ہو۔ کیونکہ یہ ان کو قتل کرنے سے بہتر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’جو بچہ نہیں رکھنا چاہتا وہ ہر صورت میں نہیں رکھے گا۔ وہ اس کو مار کر پھنک دے گا، گلا دبا دے گا ،سانس روک دے گا، غلط ہاتھوں میں بچہ چلا جائے گا۔ اس سے بہتر نہیں ہے کہ آپ ایک جھولا لگائیں جس میں بچہ چھوڑ کر جانے والے بچے کو ڈال جائیں ۔ کم از کم اس کی جان تو بچ جائے گی،اس کو تعلیم اور کھانا تو مل جائے گا‘‘ ۔ملک میں baby hatches کے حق میں جہاں ایک طرف پزیرائی پائی جاتی ہے وہیں اس نظام کے حوالے سے کچھ مخالفت بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق لاوارث بچوں کی پرورش اور انہیں گود دینے پر بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’مولویوں نے کہا کہ عبدلاستار ایدھی اور ان کی بیوی واجب القتل ہیں کیونکہ یہ حرام کے ناجائز بچے پالتے ہیں اس لیے یہ جنت میں نہیں جائیں گے اور اسلام سے خارج ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آج تک تنقید کر رہے ہیں‘‘ ۔ ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ظہیر عابدی کا کہنا ہے کہ ماؤں کا اپنے بچوں کو کسی خیراتی ادارے میں چھوڑ جانا احسن عمل نہیں اور اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن بچوں کو قتل کرنے سے کم از کم بہتر ہے کہ انہیں ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا ، ’’انسانی معاشرہ میں اس بات کی کہیں اجازت نہیں کہ بچوں کو کسی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ اور اسلام میں تو پہلے ہی بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ جن پر عمل درآمد کیا جائے تو نوبت ہی نہ آئے کہیں بچہ حوالے کرنے کی ۔ اور اگر غربت کے باعث ایسا کیا جا رہا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ غربت کے باعث اپنے بچوں کو نہ مارو کیونکہ اس کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ لیکن اسلام میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ناجائز بچوں کی پرورش کرنے والے جرم کرتے ہیں یا وہ واجب القتل ہیں‘‘۔

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلٰی بن علی نے اپنی آپ بیتی مکمل کر لی ہے۔ امید ہے کہ ’مائی ٹرتھ‘ یعنی ’میرا سچ‘ کے عنوان سے یہ کتاب اگلے ماہ سے دستیاب ہو گی۔تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کی یہ کتاب ابھی صرف فرانسیسی زبان میں شائع ہو گی۔ فرانسیسی ناشرLes Editions du Moment نے اسے شائع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تناظر میں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناشر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ادارے کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تیونس کی ایک ویب سائٹ Tunisia live کےمطابق ناشر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ کتاب اشاعتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیلٰی بن علی کے بقول انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جو زین العابدین کے دور حکومت میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے تھے۔لیلٰی بن علی کا تعلق طرابلیسی خاندن سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ہیر ڈریسر تھیں۔ ان کے انتہائی پر تعیش طرز زندگی اور امیر خاندان کی وجہ سے تیونس کے بہت سے شہری ان پر بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بن علی کے دور حکومت میں کی جانے والی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف کرپشن، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور آزادیء اظہار پر پابندی کی وجہ سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس طرح بن علی عرب دنیا کے وہ پہلے رہنما تھے، جنہیں عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ گزشتہ برس جنوری میں جب احتجاجی مظاہرے تیونس کے دارالحکومت تک پہنچ گئے تو لیلٰی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھیں۔ جون میں تیونس کی ایک عدالت نے زین العابدین اور ان کی اہلیہ کو چوری اور غیر قانونی طور پر جواہرات اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ان دنوں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق بن علی کے دور میں طرابلیسی خاندان نے بڑے پیمانے پرفوائد حاصل کیے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپ بیتی کے منظر عام پر آنے کے بعد تیونس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سماجی ویب سائٹس پر چند افراد نے ابھی سے ’مائی ٹرتھ‘ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بن علی نے اپنے 23 سالہ دور حکومت میں متعدد تصانیف پر پابندی عائد کی تھی تو اس کتاب کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی زبان میں Ma Verite کے ٹائٹل والے یہ کتاب 24 مئی کو فروخت کے لیے جاری کر دی جائے گی اور اس کی قیمت تقریباً 16 یورو ہو گی۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ تہران حکام  کی جانب سے یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب وہ رواں ہفتے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہے ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے مذاکرات کے موقع پر اس اہم معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کو ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بجلی بنانے کے لیے کم سطح پر یورینیئم کی پیداوار جاری رکھتے ہوئے، 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی پیداوار روکنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ فریدون عباسی کا کہنا ہے: ’’ضرورت کے مطابق ایندھن دستیاب ہونے پر، ہم پیداوار کم کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسے تین اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر لے آئیں۔‘‘ ساتھ ہی عباسی نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تبادلے کے معاہدے کا خیال مسترد کر دیا، جو تین سال پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسے دیگر ملکوں سے 20 فیصد ایندھن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس حوالے سے ایران خود سرمایہ لگا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ہفتے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں صالحی کا کہنا تھا: ’’اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط لاگو کرنا مذاکرات سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی مانند ہے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ مذاکرات سے پہلے کوئی بھی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ردِعمل میں کہی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران سے فردو کے زیر زمین نیوکلیئر بنکر کو بند کرنے اور بیس فیصد تک یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کریں گے

فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں یوپے نے کہا ہے کہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے شامی حکومت کے وعدے جھوٹ پر مبنی تھے۔ ترکی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر بشار الاسد نے کوفی عنان سے جھوٹ بولا۔‘ یوپے کے مطابق، ’ نہ ہی بھاری ہتھیاروں سے حملے بند ہوئے ہیں۔ نہ ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ نہ صرف دمشق بلکہ دیگر علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور شامی حکومت جسے فوجی دستوں کا انخلا قرار دے رہی ہے وہ اصل میں متاثرہ علاقوں میں مزید فوجیوں کا بھیجا جانا ہے۔‘یوپے نے کہا کہ وہ یہ معاملہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے: ’’ہم زور دیں گے کہ 12 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال سے تمام تر نتائج اخذ کرے اور دیکھے کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور وہاں سیاسی مکالمت کے آغاز کے لیے کیا نئے اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ کا یہ بیان کوفی عنان کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے جانے والے اس خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عنان نے کہا تھا کہ اسد حکومت ’امن کا اشارہ‘ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عنان نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے ’بنیادی نکتے‘ کا خیال رکھتے ہوئے 12 اپریل تک مکمل طور پر سیز فائر کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 اپریل تک ہر حال میں فائربندی کرے اور ایسے واضح اشارے دے کہ وہ جنگ مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ اگر شام جمعرات کی ڈیڈ لائن کا احترام کرتے ہوئے فائربندی نہ کرے تو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، ’’اگر شامی حکومت اگلے 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل طور پر فائربندی کرنے میں ناکام ہو، تو اقوام متحدہ ایک قرارداد کے ذریعے وہاں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘‘ ترک وزارت خارجہ کے اس بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل سے کس طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے

بھارتی عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ایک تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے دس برس قبل مسلمانوں کے خلاف ہونے والے بلووں میں بھارتی وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ملوث ہونے سے متعلق شواہد نہیں ملے۔ منگل کے روز یہ بات بھارتی عدالت نے کہی۔ اس سے قبل حقوق انسانی کے کارکنان یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ سن 2002ء میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے خلاف خونریز حملے کیے گئے لیکن وزیراعلیٰ مودی نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سن 2002ء میں ہونے والے ان حملوں میں تقریبا دو ہزار افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ مودی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں نہیں پہنچایا۔ بھارتی خبر رساں ادارے PTI نے بھارتی مجسٹیریل کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ان حملوں میں مودی یا شکایت میں شامل دیگر 57 افراد کے خلاف ایسے ثبوت یا شواہد نہیں ملے، جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ افراد ان حملوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تھے۔نریندر مودی ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سن 2014ء کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس اعلان سے مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان افراد کے خلاف شکایت گزار ذکیہ جعفری تھیں، جو کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابقہ رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔ احسان جعفری سن 2002ء میں ہونے والے ایک حملے میں مسلح گروہ کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں گجرات کی ایک ہاؤسنگ کالونی میں دیگر 68 افراد کے ہمراہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل مودی کے وکلا ان الزامات کو ’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دیتے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب نریندر مودی ریاستی انتخابات میں چوتھی مرتبہ وزرات اعلیٰ کے لیے کھڑے ہونے والے ہیں۔ گجرات بھارت کی صنعتوں کی تعداد کے اعتبار سے دیگر ریاستوں سے اوپر ہے۔ اس ریاست میں رواں برس انتخابات ہوں گے۔ اس سے قبل پیر کے روز ایک بھارتی عدالت نے سن 2002ء کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 23 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ان حملوں میں شرکت کرتے ہوئے تقریبا دو درجن افراد کو ہلاک کیا تھا۔