Archive for 05/04/2012

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: نیا سال ملک کی برق رفتار حرکت کے لئے عزم و ہمت اور امید نشاط کی راہ ہموار کرتا ہے اور ملکی اشیاء کے استعمال پرنشریاتی اور تبلیغاتی اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  کل منگل کی سہ پہر کوملک کی تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں تمام حکام کوقومی پیداوار اور اس کی حمایت کے سلسلے میں سنجیدہ تلاش وکوشش ، ہمدلی،ہمفکری اور باہمی تعاون پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: نیا سال اور عید ملک کی برق رفتار پیشرفت و ترقی، قومی اور اندرونی پیداوار کے سلسلے میں عظیم اور سنجیدہ قدم اٹھانے کا نیا حوصلہ، امید ، نشاط اور ہمت عطا کرتا ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے حکام کے لئے  نئی سال کی خوشی اور مبارک بادی کو اسلام کے راستے پران کے گامزن رہنے اور ذمہ داری کو اچھی طرح انجام دینے سے منسلک قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر حکام اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ تلاش و کوشش کے ذریعہ  اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کریں تو یقینی طور پرسال عوام کے لئے بھی مبارک کا باعث  ہوگا۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس سال کو قومی پیداوار،کام اور ایرانی سرمایہ کی حمایت کے عنوان سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک  کی اعلی اہداف کی جانب موجودہ پیشرفت، موجودہ وسائل و شرائط اور اسی طرح  اقتصادی مسائل پر اسلامی نظام کےدشمنوں کی توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی پیداوار کی حمایت موجودہ شرائط میں ایک اہم ضروری امر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے دشمنوں اور معاندوں کی وسیع تلاش و کوشش کے باوجود، ملک کے حکام اورجوان اپنے عزم و ایمان و ہوشیاری و شناخت  اور اسی طرح سرعت عمل ، اندرونی توانائیوں و تمام وسائل کو بروی کار لا کرایک بار پھر دشمنوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی  نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی محاذ کی کوششوں کے ناکام ہونے کی واضح دلیل  اور گذشتہ 30 برسوں سے اسلامی نظام کے خلاف اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کی ناکامی ایران کی روز افزوں  طاقت اور پیشرفت کا مظہر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی حمایت  اور دشمنوں کے شوم منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان ہمدلی اور تعاون کو ضروری قراردیا اور قوہ مقننہ اور مجریہ کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: آج ملک کو مختلف شعبوں میں تلاش و کوشش، نوآوری اور خلاقیت کی ضرورت ہے اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے حکام بالخصوص حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان تعاون اور ہمفکری  بہت ضروری ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراج، رجعت پسند، بڑے سرمایہ داروں ، مفسدوں، دنیا کے سیاہ چہروں اور ان کے پیچھے چلنے والے سست عناصر کے متحدہ محاذکو اسلامی نظام کے مد مقابل قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کو شکست دینے کے لئےگذشتہ 30 برسوں میں کئی بار یہ محاذ تشکیل پاچکا ہے اور ہر بار اس شیطانی محاذ کو شکست ہوئی اور وہ اپنے طے شدہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کے معاندوں اور مخالفوں کی شکست کی ایک بڑی وجہ ملک میں اندرونی سطح پر باہمی اتحاد اور یکجہتی رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی عملی حمایت پر تاکید اور اس سلسلے میں حکومت و پارلیمنٹ کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حکومت اور پارلیمنٹ  کو قومی پیداوار کے لئے باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدام اٹھانے چاہییں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں غیر ملکی اشیاء سے استفادہ کے طریقہ کار کو غلط قراردیا اور داخلی اشیاء کے مصرف کی تبلیغات میں ریڈيواور ٹی وی کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملکی  مصنوعات کے استعمال کی ثقافت کو فروغ دینے کے سلسلے میں ریڈیو اور ٹی وی اہم نقش ایفا کرسکتے ہیں اور اس معاملے کے سماجی ، ثقافتی اور دیگر پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے گہرا مطالعہ اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں آئی آر آئی بی کے ادارے اور دیگر تبلیغاتی اداروں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر تمام حکام کوشوق و نشاط، امید اور باہمی تعاون کے ہمراہ صبر و استقامت، تلاش وکوشش  اور اللہ تعالی سے امداد طلب کرنے کی سفارش کی۔

Advertisements

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے ردعمل میں چلاس کے قریب گونر فارم میں 19 معصوم اور بے گناہ افراد کی شہادت کی اطلاع اور متعدد افراد کے شدید زخمی ہونے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تین روزہ سوگ اور آئندہ جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور گہری سازش کے تحت پہلے سانحہ کوہستان کا رونما ہونا اور اس کے فوراً بعد اتنا بڑا سانحہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے عناصر اور قوتیں کارفرما ہیں جو انتہائی طاقتور ہیں ۔اس سانحہ کے پس پردہ حقائق منظر عام پر لانے کے لئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن کا قیام قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرے۔سیکریٹری اطلاعاتعلامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اگر ذمہ داران سانحہ کوہستان کے مجرموں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے اور متاثرہ عوام کے جائز اور اصولی مطالبات پر عمل درآمد کیا جاتا تو سانحہ چلاس رونما نہ ہوتا۔انہوں نے اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین و پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی اوراسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ اس سانحہ پر ہر سطح پر قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر صدائے احتجاج بلند کریں اور باہم متحد ہوکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کے دشمن ملک کے بدخواہوں کو واضح پیغام دیں کہ وہ مٹھی بھر شرپسندوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گےاس موقع پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس سانحہ چلاس پر علامہ ساجد نقوی سے اظہار افسوس کرتے ہوئے بعض سازشی عناصر گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اورفرقہ وارانہ فسادات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعہ ملک بھر اور گلگت کے داخلی امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں

اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایک بار پھر گلگت بلتستان میں آگ لگائی گئی ہے۔ دہشتگردی میں ملوث ایک شخص کی گرفتاری کیخلاف ہڑتال کا اعلان اور ہڑتال کی آڑ میں فورسز اور پولیس کی بے گناہ عوام اور گھروں پر حملے اور بے دریغ فائرنگ نے علاقے کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اس تمام صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ چلاس کے مقام پر ایک بار پھر مسافر بسوں سے بے گناہ مسافروں کو اتارا گیا اور ان کے شناختی کارڈ چیک کر کے ان میں سے آخری اطلاعات آنے تک 10 افراد کو شہید اور درجنوں مسافروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ مسلح لشکر کوہستان اور دیامر کے علاقوں سے گلگت کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔  ایم ڈبلیو ایم سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی خطرناک نتائج کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس کے نتائج پورے علاقے اور وطنِ عزیز کے باقی علاقوں کو بھی متاثر کریں گے۔ فرقہ واریت اور شدت پسندی پہلے ہی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اگر حکومت اور بالخصوص سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے میں کسی طرح سے بھی کوتاہی کی تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے، بلتستان کی تمام وادیوں میں اس وقت بے چینی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہنزہ نگر میں عوام سڑکوں پر آگئی ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کی سرپرستی اور پشت پناہی سے ملک کی سلامتی کو جو خطرات بلوچستان میں لاحق ہو چکے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، اب اگر یہ ادارے گلگت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس ملک کی بدقسمتی ہو گی۔ آج ہی کے دن کراچی میں 3 بے گناہ شیعہ جوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور خبر آئی ہے کہ اس میں حکومت اتحاد کے مسلح لوگ بھی ملوث ہیں۔  ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے سانحہ کوہستان کے حوالے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے، جس سے عوام میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صوبے میں امن قائم نہیں کر سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بعد گلگت میں حالات خراب کرنے کی عالمی سازش کی جا رہی ہے، اس حوالے مجلس وحدت مسلمین جلد سپریم کورٹ میں رجوع کرے گی۔  اس موقع پر علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے اور دہشتگردوں کو فوراً روکا جائے۔ چلاس سے تمام مسافروں کو ان کے گھروں تک بحفاطت پہنچایا جائے۔ علاقے کے امن کو تباہ کرنے والے عناصر کی سرپرستی ترک کی جائے اور گلگت بلتستان کا امن لوٹایا جائے۔

اپنے مذمتی بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، کوئٹہ میں شیعوں کی ٹارگٹ کلنگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کے قتل عام میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں، صدر اور رحمان ملک کی کراچی میں موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 بے گناہ شیعہ عمائدین کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کالعدم دہشتگرد گروہ کراچی، گلگت اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں 3 شیعہ عمائدین (اصغر جعفری، نسیم عباس، سید ساجد حسین) کی ٹارگٹ کلنگ اور گلگت میں مسافر بسون پر دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے عمائدین کی شہادت اور کوئٹہ میں 2 افراد کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت، پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور ملک کے دیگر حصوں میں بے گناہ انسانوں اور شیعان حیدر کرار کا قتل عام حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کی شہادت میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا کہ کالعدم دہشتگرد گروہ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، صدر اور رحمان ملک کی موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے بے گناہ افراد کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ درایں اثناء ایم ڈبلیو ایم کراچی کے ترجمان آصف صفوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہید ہونے والے اصغر زیدی، نسیم عباس اور ساجد حسین کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں۔ سیاسی اور لسانی تنظیمیں شیعہ عمائدین کے قتل عام پر اپنی مکاری کی سیاست نہ کریں، شہید ساجد حسین کا تعلق کسی لسانی تنظیم سے نہیں، اُنہوں نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، چیف جسٹس اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس ملک میں شیعہ عمائدین کی نسل کشی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے تو اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جائیں ورنہ ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اگر کوہستان میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر درندگی کا نشانہ بنانے والے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آ ج ملت تشیع کو مزید جنازے نہ اٹھانے پڑتے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور جوانان کے زیراہتمام، سانحہ چلاس اور گلگت بلتستان کی مخدوش صورتحال کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین کی قیادت ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور جوانان کے مرکزی سیکرٹری علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی، مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود نثار علی فیضی، پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری، راولپنڈی اسلام آباد کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ فخر علوی سمیت دیگر قائدین نے کی، اس دوران سینکڑوں جوانوں نے چلاس میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہونے والی 10 بے گناہ افراد کی مظلومانہ شہادت، گلگت بلتستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور حکومت و سکیورٹی اداروں کے جانبدارنہ رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردی کے خلاف نعرے درج تھے۔  مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور جوانان کے مرکزی سیکرٹری علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی نے کہا کہ سانحہ چلاس در اصل سانحہ کوہستان کا تسلسل ہے، اگر کوہستان میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر درندگی کا نشانہ بنانے والے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آ ج ملت تشیع کو مزید جنازے نہ اٹھانے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبانی سوچ رکھنے والے ملک دشمن عناصر سرزمین پاکستان پر سکیورٹی و تعلیمی اداروں اور شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر وطن عزیز کو تاریکی اور تباہی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔   مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں پرامن رہنے کی سزا دی جا رہی ہے، ہم نے گلگت میں 16 شہداء کے جنازے اٹھائے، لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہونے کے باوجود اشتعال انگیزی سے گریز کیا اور حکومت و انتطامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر کے ثابت کیا ہم پرامن قوم ہیں اور ہمیں ملک و قوم کی سلامتی عزیز ہے، جس کے نتیجہ میں ہمیں 10 مزید جنازے اٹھانے پڑے، دوسری جانب ایک دہشتگرد کی گرفتاری کے خلاف ہونے والی کالعدم تنظیم کی ہڑتال کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے، دستی بموں اور بھاری اسلحہ کا بے دریغ استعمال ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے بیسوں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں امن و امان کی بحالی، دہشگردوں کی گرفتاری، طالبانہ سوچ کے خاتمہ اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر برادر نثار علی فیضی، علامہ فخر علوی، علامہ اصغر عسکری اور علامہ عابد حسین بہشتی نے بھی خطاب کیا۔

کراچی  میں 24گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک ہے، گلگت اور کراچی میں ملت جعفریہ کے عمائدین کے قتل میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیمیں اور ریاستی ادارے ملوث ہیں، آصف زرداری اور رحمان ملک کی موجودگی میں بے گناہ شیعہ عمائدین کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری علامہ راجہ ناصر عباس مولانا عون نقوی شیعہ علماء کونسل کے علی محمد نقوی ارو دیگر نے علیحدہ علیحدہ مذہبی بیانات میں کہا، ان کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت، پارا چنار، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور ملک کے دیگر حصوں میں بے گناہ انسانوں اور اہل تشیع کا قتل حکومت ناکامی کا ثبوت ہے