گلگت: یزیدیوں کے حملے جاری،چلاس میں شیعہ مسافروں کی بسوں پر فائرنگ، کئی شیعہ مومنین شہید و زخمی

Posted: 03/04/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

اطلاعات کے مطابق گلگت کے علاقے چلاس میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے بس میں فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 12 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہے۔ مزید اطلاعات کے مطابق کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں نے آج پورے گلگت میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ آج صبح سے ہی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد پورے شہر میں دندناتے نطر آرہے تھے البتہ سکیورٹی اداروں کی دہشتگردوں کی لگام دینے کی تمام تر کوشش ناکام نطر آئی۔ واضع رہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے اسکاوٹس کا شیعہ اہلکار بھی شہید ہوچُکا تھا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی حالیہ دہشتگردی میں مزید 12 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتحاد چوک گلگت میں لشکر یزید نے گرنیڈ سے حملہ کردیا۔ جس کے نتیجہ میں دو عزادار زخمی ہوگئے۔جبکہ لالی محلہ میں فائرنگ سے شیراز ولد شیر افضل بھی زخمی ہوگئے۔جنہیں ڈی-ایچ-کیو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزید اطلاعات کے مطابق لشکر یزید نے گلگت کے امن کو خراب کرنے کیلئے گلگت مین پر تشدد ہرتال کا اعلان کیا۔ جس کے بعد یزیدیوں نے کھلے عام فائرنگ اور حملوں کا سلسہ شروع کردیا۔ اور کرفیوں کے نفاذ کے باوجود شدید فائرنگ اور ھنگامہ آرائی کرکے گلگت کے امن کو سبو تاش کردیا۔جبکہ اتہائی افسوس ناک بات یہ ہیں کہ گلگت کے مسلح یزیدیوں نے فائرنگ کرکے تین سیکیورٹی ادارے کے اھلکاروں کو بھی زخمی کردیا۔ جو لشکر یزید کی درندگی اور وحشی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افسوس کہ رحمان ملک سانحہ کوہستان کے بعد شیعہ قوم سے کئیے جانے والے وعدوں کو تو آج تک پورا نہ کرسکا جس کے نتیجہ میں آج تک گلگت کا امن بحال نہ ہوسکا۔ دوسری طرف اس بات کا بھی قوی امکان ہےکہ ان دہشت گرد گروپس مین سعوی حمایت بافتہ طالباں کے افراد کثیر تعداد میں شامل ہیں جو کہ امریکی اور سعودی اشارہ پر یہ تمام دہشت گردی کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں جین کے ساتھ معاملات کو خراب کیا جائے اور ایران پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانے والے شیعہ مسلمانوں پر دباو بڑھایا جائے تاک کہ مستقبل میں ہونے والی ایران کے خلاف کسی بھی کاروائی میں سعودی اور امریکی مفادات کو نقصان نہ بہنچا سکیں

Comments are closed.