گلگت :دہشتگردوں نے بہت سے اسلکول اور کالجوں میں طلبہ،طلبات اور اساتذہ محصور کردیا، 6 بسین جلائی، 2بسون کو دریائے سندھ میں گرایا اور 17مومنین کو شہید،وزیر اعلی غائب

Posted: 03/04/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

سانحہ کوہستان کا زخم ابھی تازہ تھا کہ چلاس میں پھر بربریت کی انتہا کر دی گئی۔گلگت میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں جانی نقصان اور زخمیوںکے واقعہ کے بعد چلاس میں سانحہ کوہستان کو دہرایا گیا۔17شیعہ مومنین کو بسوں سے اُتار کر شہید کردیا گیا ہے جبکہ بہت سے اسکول اورکالجوں کے طلبہ، طلبات اور اساتذہ اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں کے محاصرے میں ہیں۔6بسوں کو جلانے کے علاوہ 2بسوں کو دریائے سندھ میں گرادیا گیا ہے۔گلگت میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اور وزیر اعلی گلگت مہدی شاہ بھی اپنی زمہ داریوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے غیر ضروری دورے پر سندھ کے شہر گھڑی خدا بخش پہنچے ہوئے ہین، وہ بروز بدھ کو گلگت واپس آئین گے،اس کے بعد کوئی لائے عمل طے کریں گے، جب تک اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں کو مکمل آزادی ہے، یہاں ایک بات قابلے غور ہے کہ وزیر اعلی کا تعلق بھی شیعہ فرقہ سے ہے، اس کے باوجود اتنی لاپروائی۔ جبکہ دوسری طرف  دہشتگردوں کا دن دیہاڑے کھلے عام معصوم لوگوں کو اس طرح تشدد کر کے شہید کرنا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حکومت فوری طور پر اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں   کیخلاف ایکشن لین سے کترارہی ہے، ان دہشتگردوں،قاتلوں، شرپسندوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرنے مین ناکام ہو چکی ہے  امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے گلگت بلتستان کے تمام راستوں کی سیکورٹی کو مکمل یقینی بنایا جائے۔ سانحہ کوہستان میں معصوم لوگوں کو شہید کیے جانے کے بعد وزیرداخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم نے شاہراہ قراقرم روڈ پر سیکورٹی تعینات کر دی ہے۔ سیکورٹی کی تعینات کے باوجود ایسا واقعہ دوبارہ پیش آنا حیران کن ہے۔ امن وامان کے قیام کے ذمہ دار ادارے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ رپوٹ کے مطابق گلگت کے مظلوم شیعہ مومنین نے کہا کہ تسلسل سے گلگت کے امن کو خراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ سازشی عناصر گلگت میں مذہبی فسادات چاہتے ہیں۔سانحہ کوہستان بھی اسی عنصر کی ایک کڑی ہے۔ حکومت آج سانحہ کوہستان میں ملوث ملزموں اور ان کے سرپرستوںکو بے نقاب کرتی تو گلگت کے امن کو خراب کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی۔امن قائم نہ کر سکنا ذمہ داران کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شرپسندوں کوفوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلائیں۔

Comments are closed.