اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بینکوں کو کالعدم تنظیموں کے اکاؤنٹس کا سراغ لگانے کی ہدایت

Posted: 02/04/2012 in All News, Breaking News, Important News, Pakistan & Kashmir

کراچی – اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے اکاؤنٹس کا جائزہ لینے کے لئے 30 جون تک کی مہلت دی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان گروپوں کے دہشت گردی کی مالی امداد اور منی لانڈرنگ سے کوئی روابط تو نہیں۔ یہ بات مرکزی بینک کے ترجمان سید وسیم الدین نے 15 مارچ کو سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہیانہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض کالعدم عسکریت پسند تنظیموں نے نام بدل کر نئے اکاؤنٹس کھول لیے ہیں اور وہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دے کر چندے جمع کر رہی ہیں۔ وسیم الدین نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے بینکاری نظام کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ کے لئے مرکزی بینک نے تمام تجارتی بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور دیگر خیراتی اداروں کے موجودہ اکاؤنٹس کی چھان بین کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں کو عسکریت پسند تنظیموں کے اکاؤنٹس کا سراغ ملے تو ان کا کام ہے کہ وہ ان اکاؤنٹس کی اطلاع مالیاتی نگرانی یونٹ (ایف ایم یو) کو دیں تاکہ ان کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی چھان بین کے بعد مالیاتی نگرانی یونٹ ان معاملات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے یا پولیس کے سپرد کر سکتا ہے تاکہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں مرکزی بینک نے بینکوں کے چیف ایگزیکیٹو افسران کے لئے تازہ رہنما اصول جاری کیے ہیں جن میں انہیں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کو بینکاری نظام سے دور رکھنے کے لئے نئی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ہدایت نامے کے مطابق مرکزی بینک نے ان رہنما اصولوں میں کہا ہے کہ بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرتے وقت قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بینک اکاؤنٹس صرف قانونی مقاصد کے لئے ہیں۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا کہ کسی غیر سرکاری تنظیم یا غیر منافع بخش تنظیم کے نام پر اکاؤنٹس کھولنے والے صارفین کو اس کے اندراجی دستاویزات میں دیے گئے نام کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے والے مجاز افراد کو قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان افراد کا کسی بھی کالعدم ادارے سے تعلق نہ ہو۔ غیر سرکاری تنظیموں/غیر منافع بخش تنظیموں کی جانب سے چندوں کے لئے دیے گئے اشتہارات میں بینکوں کو اکاؤنٹس اور اکاؤنٹ نمبروں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مالی امداد یا عطیات جمع کرنے کی غرض سے کسی بھی شخص کو اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس ہدایت نامے کے مطابق بینکوں کو نئے اکاؤنٹس کھولتے وقت غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں سے مندرجہ ذیل دستاویزات طلب کرنا ہوں گی  اندراج کی دستاویزات/اسناد، ذیلی قوانین/قواعد و ضوابط کی مصدقہ نقول؛   نئے اکاؤنٹس کھولنے اور افراد کو ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لئے گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کی قرارداد؛   مجاز افراد اور گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کے اراکین کے مؤثر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز، سالانہ کھاتوں/مالی گوشواروں یا اقرار ناموں کی مصدقہ نقول تا کہ بینکوں کو متوقع صارفین کے خطرے کا تخمینہ لگانے کے لئے ان کی سرگرمیوں، فنڈز کے ذرائع اور استعمال کو جاننے کے بارے میں مدد مل سکے۔ ہدایت نامے میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ بینکاروں کو اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی آن لائن تربیت دی جائے تا کہ نگرانی کا نظام سخت کیا جا سکے۔ اس میں بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 اپریل 2012 تک اپنے تربیتی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کریں۔ شراکتی ترقی کے منصوبے نامی کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے رابطہ کار فہیم رضا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ نئے قواعد کے ذریعے عسکریت پسندوں کی کسی غیر سرکاری تنظیم/غیر منافع بخش تنظیم کی آڑ میں بینک اکاؤنٹس کھولنے یا بینکوں کے ذریعے عطیات جمع کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 20 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں/غیر منافع بخش تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر سرکاری تنظیموں کو شہری، ضلعی اور صوبائی سطح پر اندراج کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نہ تو حکومت اور نہ ہی کوئی نگران ادارہ غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے مالی ذرائع کی نگرانی کر رہا ہے مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی ہدایات سے یہ تنظیمیں اپنے مالی لین دین کو زیادہ محتاط انداز میں سر انجام دیں گی۔ پاکستان نے 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ بڑی کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں: القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، جماعت الدعوتہ، تحریک نفاذ شریعت محمدی، لشکر اسلام، حزب التحریر، خدام اسلام، جمعیت الانصار اور بلوچستان لبریشن آرمی۔

Comments are closed.