Archive for 02/04/2012

صنعاء – یمن کے دینی علماء اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انصار الشریعہ کی جانب سے تین افراد پر جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزا دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا اور یہ تنظیم کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے انصاف کا استحصال ہے۔ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم انصار الشریعہ نے 12 فروری کو صوبہ ابیان کے شہر جعار اور صوبہ شبوہ کے شہر عزن میں ان موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا۔ تنظیم نے ان تینوں افراد پر الزام لگایا تھا کہ وہ مقامی، علاقائی اور عالمی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں۔ ان افراد کو دن دیہاڑے مقامی رہائشیوں کے سامنے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ انصار الشریعہ کے خبر رساں ادارے مدد نے اپنی ویب سائیٹ پر اس سزائے موت کے بارے میں اعلان اور ایک وڈیو کلپ شائع کیا تھا۔ وڈیو کلپ کا عنوان “عين على الحدث [واقعات پر نظر] چوتھا ایڈیشن” تھا جس میں تینوں ملزمان کے اعترافی بیانات ریکارڈ تھے۔ انصار الشریعہ نے جعار اور عزن میں ان سزاؤں کو دیکھنے کے لئے آنے والے افراد میں اعترافی بیانات کی ہزاروں نقول بھی تقسیم کیں۔‘کوئی قانونی اختیار نہیں’ یمن کے سابق وزیر برائے اوقاف اور رہنمائی حمود الھتار نے کہا کہ انصار الشریعہ کو دوسروں پر اپنے خلاف جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزائیں دینے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ اس کے پاس تو قانونی فیصلے سنانے کا کوئی قانونی اختیار ہی نہیں ہے، چاہے یہ ان افراد کے خلاف ہوں یا کسی اور گروپ کے۔ الھتار نے الشرفہ ویب سائیٹ سے گفتگو میں کہا کہ گروپ کو الزامات لگانے یا کوئی قانونی فیصلہ سنانے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ یہ صرف یمنی حکومت کے عہدیداروں کا بلا شرکت غیرے حق ہے۔ الھتار نے کہا کہ یمن میں سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے ایسے قانونی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو قانون کے ضوابط کی پاسداری کرتے ہوں۔ ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے اور اس پر آئین، لاگو قوانین، انسانی حقوق کے آفاقی اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ جب کوئی مقدمہ چلانے والی عدالت یا اپیل منظور کرنے والی عدالت فیصلہ جاری کرتی ہے تو ملزم کو اپیل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو اٹارنی جنرل پھر اس اپیل کو منظوری کے لئے صدر کو بھجواتے ہیں۔الھتار نے کہا کہ القاعدہ کے پاس سزائے موت یا حد کے تحت دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کے لئے قانونی، آئینی یا شرعی قانون کا اختیار نہیں ہے۔ شریعہ قانون ان شرائط کی وضاحت کرتا ہے ‘جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے’
وزارت اوقاف و رہنمائی کے نائب وزیر شیخ حسن الشیخ نے کہا کہ اسلام میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حد کے تحت سزا پر عمل درآمد یا ان افراد کی بریت جن پر غلط الزام لگایا گیا ہے صرف اعلٰی مذہبی حکام کی منظوری سے ہی ہو سکتی ہے جن کی عملداری کی عوام نے اجازت دی ہو۔ انہوں نے الشرفہ سے گفتگو میں کہا کہ سربراہ مملکت یا اعلٰی مذہبی قیادت کو سزائے موت یا دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک کہ اس بارے میں عدالت نے فیصلہ نہ دیا ہو۔ یہ فیصلہ بھی صرف اس وقت مؤثر ہے جب یہ ثبوت یا جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کے اعتراف پر مبنی ہو۔ الشیخ نے کہا کہ کسی گروپ، فرقے، جماعت یا قبیلے کو قانونی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ورنہ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دائرہ اختیار کی اجازت امہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور یہ اپنے طور پر فرض نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انصار الشریعہ کا یہ اعلان کہ اس نے اسلامی امارت قائم کر دی ہے، اسے جاسوسوں یا دیگر افراد کے خلاف فیصلے سنانے یا ان پر عمل درآمد کرنے کا کوئی حق نہیں دیتا کیونکہ اسلام میں شریعہ قانون پر مبنی ایسی پابندیاں رکھی گئی ہیں جو وقت، جگہ اور ان شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اپنے مفادات سے مطابقت رکھنے والے فیصلے
ایک وکیل اور ہود تنظیم برائے حقوق و آزادیاں کے سربراہ محمد ناجی علاؤ نے کہا کہ القاعدہ جاسوسوں اور دیگر افراد کو جس طرح موت کے گھاٹ اتار رہی ہے وہ بلا جواز اور غیر آئینی اقدامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسلح گروپ اس حقیقت کے باوجود ریاست کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے کہ قانونی حیثیت وہ ہوتی ہے جس پر عوام کی اکثریت کا اتفاق ہو۔ انہوں نے کہا القاعدہ سمیت مسلح گروپ اپنے مقاصد و مفادات کے لئے ان قانونی فیصلوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ ایک مسلح گروپ ہے جو ہلاکتوں کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتا ہے۔ ……….کسی بھی شک ہو شبہ کے بغیر یہ ہی صورت حال پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ہے اور اس سے بھی بدتر صورت حال پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی کی ہے جہاں پر کچھ سیاسی اور مذہبی تنظیمیں  شیعہ مسلمانوں کو بڑی ہی بے دردی سے بغیر کسی جرم و خظا کے بس شوقیہ طور پر قتل کرتی ہین جس کی واضح مثال حالیہ چنددنوں مین شہر کراچی میں رونما ہونے والے واقعات ہیں جس میں شیعہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کو کبھی بسوں سے اتار کر، کبھی پیدل چلتے ہوئے، کبھی پس اسٹاپ پر، کبھی اور دیگر طرح سے شہید کر دیا جاتا ہے۔

Advertisements

کراچی – اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے اکاؤنٹس کا جائزہ لینے کے لئے 30 جون تک کی مہلت دی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان گروپوں کے دہشت گردی کی مالی امداد اور منی لانڈرنگ سے کوئی روابط تو نہیں۔ یہ بات مرکزی بینک کے ترجمان سید وسیم الدین نے 15 مارچ کو سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہیانہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض کالعدم عسکریت پسند تنظیموں نے نام بدل کر نئے اکاؤنٹس کھول لیے ہیں اور وہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دے کر چندے جمع کر رہی ہیں۔ وسیم الدین نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے بینکاری نظام کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ کے لئے مرکزی بینک نے تمام تجارتی بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور دیگر خیراتی اداروں کے موجودہ اکاؤنٹس کی چھان بین کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں کو عسکریت پسند تنظیموں کے اکاؤنٹس کا سراغ ملے تو ان کا کام ہے کہ وہ ان اکاؤنٹس کی اطلاع مالیاتی نگرانی یونٹ (ایف ایم یو) کو دیں تاکہ ان کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی چھان بین کے بعد مالیاتی نگرانی یونٹ ان معاملات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے یا پولیس کے سپرد کر سکتا ہے تاکہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں مرکزی بینک نے بینکوں کے چیف ایگزیکیٹو افسران کے لئے تازہ رہنما اصول جاری کیے ہیں جن میں انہیں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کو بینکاری نظام سے دور رکھنے کے لئے نئی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ہدایت نامے کے مطابق مرکزی بینک نے ان رہنما اصولوں میں کہا ہے کہ بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرتے وقت قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بینک اکاؤنٹس صرف قانونی مقاصد کے لئے ہیں۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا کہ کسی غیر سرکاری تنظیم یا غیر منافع بخش تنظیم کے نام پر اکاؤنٹس کھولنے والے صارفین کو اس کے اندراجی دستاویزات میں دیے گئے نام کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے والے مجاز افراد کو قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان افراد کا کسی بھی کالعدم ادارے سے تعلق نہ ہو۔ غیر سرکاری تنظیموں/غیر منافع بخش تنظیموں کی جانب سے چندوں کے لئے دیے گئے اشتہارات میں بینکوں کو اکاؤنٹس اور اکاؤنٹ نمبروں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مالی امداد یا عطیات جمع کرنے کی غرض سے کسی بھی شخص کو اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس ہدایت نامے کے مطابق بینکوں کو نئے اکاؤنٹس کھولتے وقت غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں سے مندرجہ ذیل دستاویزات طلب کرنا ہوں گی  اندراج کی دستاویزات/اسناد، ذیلی قوانین/قواعد و ضوابط کی مصدقہ نقول؛   نئے اکاؤنٹس کھولنے اور افراد کو ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لئے گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کی قرارداد؛   مجاز افراد اور گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کے اراکین کے مؤثر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز، سالانہ کھاتوں/مالی گوشواروں یا اقرار ناموں کی مصدقہ نقول تا کہ بینکوں کو متوقع صارفین کے خطرے کا تخمینہ لگانے کے لئے ان کی سرگرمیوں، فنڈز کے ذرائع اور استعمال کو جاننے کے بارے میں مدد مل سکے۔ ہدایت نامے میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ بینکاروں کو اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی آن لائن تربیت دی جائے تا کہ نگرانی کا نظام سخت کیا جا سکے۔ اس میں بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 اپریل 2012 تک اپنے تربیتی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کریں۔ شراکتی ترقی کے منصوبے نامی کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے رابطہ کار فہیم رضا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ نئے قواعد کے ذریعے عسکریت پسندوں کی کسی غیر سرکاری تنظیم/غیر منافع بخش تنظیم کی آڑ میں بینک اکاؤنٹس کھولنے یا بینکوں کے ذریعے عطیات جمع کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 20 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں/غیر منافع بخش تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر سرکاری تنظیموں کو شہری، ضلعی اور صوبائی سطح پر اندراج کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نہ تو حکومت اور نہ ہی کوئی نگران ادارہ غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے مالی ذرائع کی نگرانی کر رہا ہے مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی ہدایات سے یہ تنظیمیں اپنے مالی لین دین کو زیادہ محتاط انداز میں سر انجام دیں گی۔ پاکستان نے 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ بڑی کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں: القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، جماعت الدعوتہ، تحریک نفاذ شریعت محمدی، لشکر اسلام، حزب التحریر، خدام اسلام، جمعیت الانصار اور بلوچستان لبریشن آرمی۔

پشاور – علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔ پار ہوتی، مردان کے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ خودکش بمبار روئے زمین پر سب سے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ مرنے کے بعد انہیں نہ تو عام مسلمانوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہوتی ہے۔ مردان کے علاقہ پار ہوتی کے محلہ نیو اسلام آباد میں امام کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ انہیں رحمان اللہ کی حالت پر افسوس ہے جسے نماز جنازہ پڑھائے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔ 17 سالہ رحمان اللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں افغان اور اتحادی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا۔ رحمان اللہ کے والد غفران خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا اب تک غم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے رحمان اللہ کو اغوا کر کے اس کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے تھے۔ انہیں اپنے بیٹے کی لاش یا اس کی تدفین کا عمل دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا تاحال یقین نہیں ہے۔
عسکریت پسندوں کی گرفت سے آزاد ہونے والے بعض افراد
اسی علاقے کے ایک اور لڑکے سیف اللہ کو اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا جب طالبان نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مئی 2005 میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو فراج اللبی کی مردان سے گرفتاری سے پہلے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔اس کے والد نے بتایا کہ طالبان سیف اللہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے اور وہ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ دیگر افراد نے اس کے والد کو اپنے بیٹے کے بحفاظت جرمنی پہنچ جانے پر مبارک باد دی ہے۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر طالبان میرے بیٹے کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر لیتے تو وہ غسل، نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہ جاتا، جو کہ مسلمانوں کے لئے موت کے بعد اہم رسومات ہیں۔ پشاور کے علاقے داؤد زئی کے ایک امام اجمل شاہ نے واضح لفظوں میں ان رسومات کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے طالبان کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دینے کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بم دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو دھماکے سے اڑا کر بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے افراد کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ان کے تربیت کاروں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔
طالبان کے ذہنی خیالات بدلنے کے طریقے
طالبان کے بھرتی کار نیم خواندہ، بے روزگار نوجوانوں کو اغوا کرنے یا ہلانے پھسلانے کے بعد انہیں پراپیگنڈا مواد پڑھنے کو دیتے ہیں اور جہادی وڈیوز دکھاتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی پر کاربند ہو جائیں۔ وہ ان نوجوانوں کو یہ بات کبھی نہیں بتاتے کہ خودکش حملہ کرنے سے وہ اسلامی طریقے سے تدفین اور نماز جنازہ کی رسومات کے پیدائشی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ وہ قرآن میں جنت میں جانے کی آیات کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں۔ شاہ نے جذباتی انداز میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے کہ خودکش حملے کرنے والے نوجوانوں کے خیال میں وہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں انہیں خدا کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں۔ خدائی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے خودکش بمبار بننے کا انتخاب کرنے والے افراد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ بھرتی کار نوجوانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے ہدف بنائے جانے والے افراد کو “کافر” قرار دیتے ہیں اور انہیں موت کی سزا سنانے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ تربیت کار اپنے لڑکوں کی گمشدگی پر غمگین خاندانوں کو بتاتے ہیں کہ وہ “شہید” ہو چکے ہیں۔
خودکش بمباروں کا شرمناک انجام
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ حادثات و ہنگامی صورت حال کے سربراہ ڈاکٹر شراق قیوم نے بتایا کہ حکام خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بننے والے افراد کی جسمانی باقیات کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی کارکن ڈی این اے کے ذریعے ناموں کی شناخت ہونے کے بعد پہلے دفنائے گئے افراد کو قبر سے نکال کر دوبارہ دفن کرتے ہیں۔ تاہم خودکش بمباروں کی جسمانی باقیات کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پورے پاکستان میں جاری رواج کے حوالے سے کہا کہ ہم خودکش بمباروں کی باقیات کو کبھی دفن نہیں کرتے، انہیں فورنزک معائنوں کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر قیوم نے کہا کہ خودکش بمبار جنازے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کی کارروائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خودکش بمباروں کی باقیات کی یہ توہین اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ پاکستان میں تو ایسے افراد کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو بیرون ملک انتقال کر گئے تھے اور ان کی لاشیں وطن واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ شبقدر کے رہائشی رحیم اللہ نے کہا کہ خودکش بمبار کا کردار اختیار کرنا اسلام چھوڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ رحیم اللہ کا 19 سالہ بیٹا قاری نقیب اللہ ایک خودکش بمبار تھا جس نے مارچ 2011 میں افغانستان کے شہر قندھار میں اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 10 فوجی جاں بحق ہو گئے تھے۔ چار سدہ کے علاقے سرخ ڈھیری کا رہائشی واحد اللہ جنوری 2008 میں لاپتہ ہو گیا۔ دو ماہ بعد طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس کے بزرگ والد جمعہ گل کو مطلع کیا کہ ان کا “شہید” بیٹا جنت میں چلا گیا ہے۔ والد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ایک دن علی الصبح طالبان نے جب مسجد میں داخل ہو کر مجھے یہ خبر سنائی تو پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میری ناپسندیدگی کے باوجود وہ مجھے مبارک بادیں دیتے رہے مگر میں اپنے بیٹے کے اس اقدام پر اب بھی لعنت ملامت کر رہا ہوں۔ واحد اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کا سوگ تنہا ہی منایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنا رحم دلی کی ایک اہم نشانی ہے جس کا اظہار نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں نے بھی کیا تھا مگر میں انتہائی بدقسمت ہوں کہ میرے اکلوتے بیٹے کی موت پر کسی شخص نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لوگ خودکش حملوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی نے بھی میرے ساتھ تعزیت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اموات والدین کے لئے تکلیف کا باعث ہیں اور انہیں بالکل یہ امید نہیں ہے کہ اللہ خود کو دھماکے سے اڑانے اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے بیٹوں پر کوئی رحم کرے گا۔ جمعہ گل نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آوروں کے لئے کوئی شخص بھی “اللہ اس پر رحمت نازل کرے” یا “اس کی روح کو سکون پہنچائے” جیسے رحم دلانہ الفاظ نہیں کہتا جس سے ان کے اہل خانہ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں خود کشی حرام ہونے کے باوجود وہ لوگ جو خود کشی کرتے ہیں رشتہ داروں سے رسم غسل، نماز جنازہ اور دفن ہوتے ہیں- لیکن خود کش بمبار جو دوسروں کو مارتے ہیں ان کو کویئ قبول نہي کرتا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رسومات کی تردید ہوتی ہے، شاہ نے کہا خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو تمام زندگی ایک اور دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے اور وہ ان کی قبر کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دوست رشتہ دار مغفرت کی دعا کرنے کے لئے نہیں جا سکتے

گزشتہ اتوار سے بحیرہ شمالی میں معدنی گیس کے ایک پلیٹ فارم سے گیس کی بھاری مقدار خارج ہو رہی ہے۔ ابھی اس زہریلی گیس کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ اس سے ماحول کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔ سکاٹ لینڈ کے ساحلوں سے 240 کلومیٹر دور سمندر کے بیچوں بیچ واقع Elgin نامی یہ پلیٹ فارم فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی ملکیت ہے۔ گیس کا اخراج شروع ہونے پر یہ پلیٹ فارم بند کیا جا چکا ہے۔ چونکہ اس پلیٹ فارم سے تیزابی گیس کے ساتھ ساتھ مائع شکل میں معدنی گیس بھی نکالی جاتی ہے، اس لیے ماہرین کے خیال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اخراج بھی انہی گیسوں کا ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے اردگرد 4.8 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل کی پتلی سی تہہ پانی کی سطح پر نظر آ رہی ہے، جو غالباً مائع معدنی گیس کے مرکب ہی کا نتیجہ ہے۔ تیزابی گیس میں زیادہ مقدار معدنی گیس کی ہوتی ہے جبکہ اس میں کچھ فیصد ہائیڈروجن سلفائیڈ نامی مادہ بھی شامل ہوتا ہے، جس کی بُو خراب انڈوں کی سی ہوتی ہے اور جو بہت زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ یہ گیس انسانی خون میں موجود اُس سرخ مادے کو تباہ کرتی ہے، جو جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم مقدار میں بھی یہ گیس انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔تحفظ ماحول کے علمبردار حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فضا اور پانی میں اس گیس کی زیادہ مقدار میں آمیزش کے نتیجے میں اردگرد کے علاقے کا پورا ماحولیاتی نظام تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ آکسیجن کی مخصوص مقدار کے ساتھ مل کر یہ گیس بہت تیزی سے آگ پکڑ سکتی ہے اور یوں گیس کے دھماکے سے پورا پلیٹ فارم تباہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح کے خطرات کی وجہ سے اس پلیٹ فارم کی مالک کمپنی Total نے اپنے عملے کے تمام 238 ارکان کو وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال کر خشکی پر پہنچا دیا ہے۔ معدنی تیل اور گیس نکالنے والے دو قریبی پلیٹ فارم بھی، جو Shell کمپنی کی ملکیت ہیں، خالی کروا لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پولیس نے اس پلیٹ فارم کے اردگرد تین میل کے علاقے میں طیاروں کے اور دو میل کے علاقے میں بحری جہازوں کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ معدنی گیس کے کاروبار پر نظر رکھنے والے ایک ماہر اسٹوآرٹ جوائنر نے، جن کا تعلق Investec-Bank سے ہے، بتایا:’’خراب ترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پائپ لائن میں گیس کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اضافی کنواں کھودا جانا پڑے۔ تاہم ابھی یہ بہت دور کی بات لگتی ہے۔ اگر اضافی کنواں کھودنا پڑ گیا تو اس میں چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘دریں اثناء یہ پتہ چلا لیا گیا ہے کہ یہ گیس چار ہزار میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی ایک پائپ لائن سے خارج ہو رہی ہے۔ ٹوٹل کمپنی نے شگاف کا سراغ لگانے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے ایک آبدوز اور آگ بجھانے والے دو بحری جہاز اس پلیٹ فارم کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں بازارِ حصص میں ٹوٹل کے شیئرز کی قدر و قیمت میں بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ چین کا دوست پاکستان کا دوست ہے  چین کی سلامتی ہماری سلامتی ہے  پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں چینی تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہربائو میں چین کے نائب وزیراعظم لی کیکیانگ سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کی خودنگرانی کررہے ہیں  پاکستان چین کے ساتھ صنعت و تجارت  توانائی و زراعت  اور گیس کی تلاش کی تلاش کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں بے نظیر بھٹو میڈیا یونیورسٹی کے قیام کے لئے تعاون کرے۔ عالمی اور علاقائی امور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پالیسی احترام اور مفاد پر مبنی ہوں گے اور اس حوالے سے پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چین کے ایگزیکٹو وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات کچھ بھی ہوں چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

بیجنگ: چین نے ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی بارے امریکی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کو اجتماعی سزا دے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پالیسی بالکل واضح اور موقف ٹھوس ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ چین نے ہمیشہ ایسی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ عمل کریگا جس کے تحت کسی دوسرے ملک کو اجتماعی سزا دی جائے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہمارے قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

اسلام آباد: اوگرا میں گیس چوری میں معاونت اور غیر قانونی سی این جی لائسنس  اور 52 ارب روپے کے فراڈ کے انکشاف ہوا ہے اور نیب نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کے دور میں 52 ارب روپے کا فراڈ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اوگرا نے 860 لائسنس جاری کئے اور 30 سے 40 لاکھ روپے فی لائسنس وصول کیا ہے۔ اس کے علاوہ 55 غیر قانونی   بھرتیاں کی گئیں اور وکلاء کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد رقم فیس کی مد میں ادا کی گئی، اس کے علاوہ گیس چوری کی اجازت دی گئی۔

طرابلس: لیبیا میں مسلح قبائل کے درمیان گزشتہ چھ روز سے جاری جھڑپوں میں ایک سو سینتالیس افراد ہلاک اور تین سو پچانوے زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لیبین وزیر صحت فاطمہ المروشی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک سو اسی شدید زخمیوں کو طرابلس منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جنوبی ریجن میں یہ جھڑپیں عرب ابوسیف اور افریقین تبسو قبائل کے درمیان ایک ہفتہ قبل اس وقت شروع ہوئیں تھیں جب تبسو قبائل کی فائرنگ سے ابو سیف قبائل کا ایک رکن ہلاک ہوا۔ ابو لیف سابق صدر قذافی کا حامی جبکہ تبسو مخالف ہے۔ ان دونوں قبائل کے درمیان اس سے قبل فروری میں بھی جھڑپیں ہوئیں تھیں جن میں دو اطراف سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لندن: برطانیہ نے شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے مینشن ہاؤس میں اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ برطانیہ شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد کو دوگنا کرتے ہوئے پانچ لاکھ پاؤنڈ دیگا اور یہ امداد سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی معاونت پر بھی خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم شام سے باہر رہنے والے اپوزیشن گروپوں کی معاونت کیلئے بھی استعمال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کو یہ جان لینا چاہئے کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کیلئے کوئی صورتحال نہیں ہے۔

نئی دہلی: بھارتی قومی سلامتی کے سابق مشیر برجیش مشرا نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اپنا ذہنی تواز ن کھو چکے ہیں اور انہیں ریٹائرمنٹ تک جبری رخصت پر بھیج دینا چاہیے۔ برجیش مشرا سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر تھے۔ آرمی چیف کے حالیہ تنازع پر ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں برجیش مشرا نے کہا کہ جنرل وی کے سنگھ اب تک کے سب سے برے آرمی چیف ہیں، جس طرح کا  رویہ انھوں نے رکھا وہ کوئی آرمی چیف نہیں رکھ سکتا۔ انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر جنرل وی کے سنگھ کو برخاست نہیں کیا جاتا ہے تو اس سے دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں اکتیس مئی تک جبری رخصت پر بھیج دینا چاہیے۔ جنرل وی کے سنگھ اکتیس مئی کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کے فوجی گاڑیاں کلیر کرنے پر چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کے انکشاف اور وزیراعظم کو دفاعی سازو سامان کی کمی سے متعلق لکھے گئے خط نے بھارت میں ہلچل مچادی تھی جس میں انہوں نے فوج کے پاس ہتھیاروں اور ساز و سامان کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ خط افشا کرنے میں ان کا ہاتھ نہیں ہے اور اس طرح کے خط کو ظاہر کرنا ملک کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔ تاہم برجیش مشرا نے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایسی حساس نوعیت کی دستاویزات افشا نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کے دفتر کا کوئی افسر ایسا کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر خود جنرل وی کے سنگھ نے ایسا نہیں کیا تو پھر ان کے کسی دوست نے ایسا کیا ہوگا۔ چند روز پہلے ہی فوج کے سربراہ نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ انہیں ہتھیاروں کے سودے بازی میں چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس کی تصدیق وزیر دفاع اے کے انتھونی نے بھی کی تھی لیکن بعض وجوہات کی بنا پر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر برجیش مشرا نے کہا کہ کارروائی نہ کرنے کے لیے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ دونوں ذمہ دار ہیں۔

لندن: لکشمی میتھل اور اس کا خاندان 13.5 بلین پاؤنڈ کے ساتھ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں دوسری بار بھی پہلے نمبر پر برقرار رہے۔ ایشیئن میڈیا اینڈ مارکیٹنگ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں لکشمی میتھل اور ان کا خاندان اپنی مجموعی آمدنی میں دو بلین پاؤنڈ کمی کے باوجود بھی ایشیاء کا پہلا امیر ترین شخص برقرار رہے ہیں۔ فہرست کے مطابق ہنذو جیس دوسرا اور ویدانت گروپ کے چیئرمین انیل اگروال بالترتیب تیسرے نمبر پر رہے۔

پیرس: فرانسیسی عدالت نے پولیس کی جانب سے گزشتہ روز گرفتار کئے گئے 17 مسلمانوں کا 24 گھنٹے کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ دہشت گرد حملے کی انکوائری سے منسلک ایک ذریعہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پولیس نے ان 17 افراد کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے جنہیں جمعہ کو مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ فرانس کی علاقائی انٹیلی ایجنسی کے سربراہ بینرڈ اسکوارسنی نے   بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد فرانسیسی ہیں اور دہشت گرد حملوں کی تربیت کے شبہ میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

ماسکو: سائبیریا کے مغربی علاقے میں روس کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق انتیس مسافر ہلاک جبکہ چودہ افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ روس کی وزارت ہنگامی امور کے مطابق طیارہ روس چینو سے سائبیریا کے شہر شورگٹ جا رہا تھا۔ طیارے میں انتالیس مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے جب ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی طیارہ تباہ ہوگیا۔ زخمی افراد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ابھی مزید ارکان کی تلاش جاری ہے