چین کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، چین کا اعلان

Posted: 28/03/2012 in All News, China / Japan / Koriea & Others, Important News, Pakistan & Kashmir

بیجنگ :  چین نے کہا ہے کہ اسکی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کشمیر پاکستان اور بھارت ونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ آزادکشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں۔۔ چینی وزارت خارجہ میں ایشین ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سن ویڈونگ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’جنوب چینی سمندرکومتنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے معدنیات سے مالامال ویت نامی خطوں سے تیل نکالنے کی کوشش نہ کریںانہوں نے کہا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کیلئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس علاقے سے تیل نکالنے کی کوشش کرے‘‘۔ جب اْن سے پوچھاگیا کہ بھارت متنازعہ معاملات کا حصہ نہیں بننا چاہتا تو اْن کا کہنا تھا ’’خطے میں موجودجزیروں کی خودمختاری ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور بھارت کو یہ معاملہ طے ہونے تک تیل نکالنے کی کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں‘‘۔ چینی عہدیدار نے کہا ’’ہم خطے میں یکساں تعمیر و ترقی چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت ان متنازعہ معاملات کا حصہ نہ بنے اور اس بات کی امید بھی کرتے ہیں کہ خطے کی حفاظت اور امن قائم کرنے کیلئے بھارت مزید اقدامات اٹھائے‘‘۔ جب اْن کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی کہ بھارت میں تیل نکالنے کیلئے وسیع ذخائر ہیں تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور چین اس بات کی حتی الامکان کوشش کر رہا ہے کہ پرامن ذرائع سے اس معاملے کا حل نکالا جاسکے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ چین ویتنامی تیل بلاکوںمیں بھارت کے منصوبوں کی مخالفت کیوں کر رہا ہے جبکہ چین آزادکشمیر میں بنیادی ڈھانچوں کے منصوبے تعمیر کر رہا ہے تو مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔اْن کا کہنا تھا ’’یہ دونوں معاملات بالکل جداگانہ ہیں،جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں اور چین کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ چینی کمپنیاں وہاں اپنی توجہ تعمیر وترقی کے ڈھانچے پر مرکوز کر رہی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی کے بھی خلاف ہیںجبکہ جنوب چینی سمندر کا معاملہ بالکل ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں بہت ساری پارٹیاں ملوث ہیں‘‘۔ چین جنوب چینی سمندری خطے میں تیل نکالنے کیلئے نہ صرف بھارت کی مخالفت کرتا ہے بلکہ وہاں ہورہی کسی بھی سرگرمی کا مخالف ہے۔ کیونکہ چین کی آسیان ممالک کیساتھ تنازعات چل رہے ہیں جس میں ویتنام اور فلپائن بھی شامل ہیں۔ چینی مخالفت کے باوجود بھارت نے اکتوبر میں ویتنام کیساتھ ایک معاہدہ کر کے جنوب چینی سمندر میں تیل نکالنے کیلئے اپنا دائرہ وسیع کر دیا۔ بھارت اور ویتنام کی سرکاری آئل کمپنیوں کیساتھ بھی اِسی طرح کی مفاہمت ہوئی ۔چین کی جانب سے جنوب چینی سمندر پردعویٰ کرنے کا معاملہ بھارت اور ویتنام نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یہ سارے علاقے ویتنام کی ملکیت ہیں۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری کمپنیاں اس علاقے میں اپنے مواقع تلاش کرتی رہیں گی۔بھارت کا یہ موقف ہے کہ سارا بحیرہ عرب کا خطہ مشرقی افریقہ ساحل سے لیکر جنوب چینی سمندر تک بین الاقوامی تجارت ،توانائی اور قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے

Comments are closed.