عمران خان بمقابلہ سلمان رشدی

Posted: 28/03/2012 in All News, Breaking News, Important News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

پاکستانی سياستدان عمران خان اور متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی کے مابين تنازعہ گزشتہ دنوں سوشل ميڈيا پر عوام اور بلاگرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ پاکستانی کرکٹ کے سابق ستارے اور حاليہ سياستدان عمران خان نے رواں ماہ بھارت ميں ايک کانفرنس ميں شرکت سے انکار کر ديا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اس تقريب کا حصہ بننے سے انکار اس ليے کيا کيونکہ اس ميں بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی کی شرکت بھی متوقع تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ رشدی اپنی متنازعہ کتاب کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ بس يہی وجہ تھی کہ عمران ان کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔ ادھر عمران خان کی يہ بات سلمان رشدی کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں عمران خان کو سخت تنقيد کا نشانہ ہی نہيں بنايا بلکہ ذاتيات کی ايک نئی جنگ چھيڑ دی۔ اب ادھر رشدی پاکستانی سياستدان کو ’عِم دا ڈم‘ کے نام سے پکارتے ہيں تو دوسری طرف عمران اس متنازعہ مصنف کو ’چھوٹی ذہنيت‘ کا حامل قرار ديتے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق رشدی تو اب يہ بھی اعلان کر چکے ہيں کہ وہ عمران خان کے بارے میں ايک کتاب بھی لکھيں گے۔ يہ معاملہ گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان ميں فيس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دونوں ممالک اور مغربی دنيا ميں بھی اس موضوع پر بلاگرز نے اپنے خيالات کا اظہار کيا۔ دی انڈیپينڈنٹ بلاگ ويب سائٹ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے جان ايليٹ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں تقرير کے ليے اپنے مقررہ وقت کو بطور مصنف اپنے آپ کو مزيد منوانے کے بجائے محض عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے ليے استعمال کيا۔ بلاگر کے بقول وہ اس اقدام کے ذريعے شہرت حاصل کرنے ميں کامياب ضرور ہوئے ہيں جس کی بدولت ان کی کتاب کی فروخت بڑھے گی۔پاکستان سے روزنامہ ڈان کے آن لائن ايڈيشن کے ليے لکھتے ہوئے نديم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ يہ معاملہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے اور اگر رشدی عمران خان پر واقعی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو يہ تنازعہ پھر سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔ ڈان کے انٹرنيٹ ايڈيشن پر شائع ہونے والے اس بلاگ ميں نعيم اللہ شاہ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی، عمران خان کا نام استعمال کرتے ہوئے ميڈيا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ مزيد مشہور ہو سکيں۔ دوسری جانب دی نيو يارک ٹائمز کے بھارتی ايڈيشن ميں انٹرنيٹ پر شائع بلاگ ميں ہيدر ٹمنز لکھتی ہيں کہ سلمان رشدی بھارت ميں تيزی سے ایک آزاد خيال رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتے جا رہے ہيں۔ فيس بک اور ٹوئٹر پر ان دنوں بھی عوام کی ايک بڑی تعداد اس معاملے پر کھل کے اپنے خيالات کا اظہار کر رہی ہے۔ ديکھنا يہ ہے کہ يہ تنازعہ آگے چل کر کيا رخ اختيار کرتا ہے۔

Comments are closed.