عالمی القدس ملین مارچ روکنے کے لیے اسرائیل بھی میدان میں

Posted: 28/03/2012 in All News, Important News, Palestine & Israel, Survey / Research / Science News

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل نے عالمی القدس ملین مارچ کو عرب ممالک کے اندر سے گذرنے کی اجازت دینے اور اسے مقبوضہ فلسطین کی سرحد تک لانے میں معاونت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صہیونی حکومت کا کہنا ہے کہ القدس ملین مارچ کے پس پردہ “اسرائیل دشمن” قوتیں کار فرما ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اردن، شام، لبنان اور مصر سمیت مختلف عرب اور اسلامی ممالک کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو القدس ملین مارچ کے شرکا کو گذرنے کے لیے راستہ فراہم نہ کریں۔ ان خطوط میں خبردار کیا گیا ہے کہ صہیونی حکومت ملین مارچ کو اسرائیلی حدود کے قریب آنے سے روکنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔ اسرائیل نے پڑوسی عرب ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ القدس ملین مارچ کی راہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں، کیونکہ یہ احتجاجی جلوس خطے میں ایک نئے کشیدگی کا محرک بن سکتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بھی القدس ملین مارچ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ فوج کی مختلف یونٹوں کو مصر اور اردن کی سرحدوں پر تعینات کرنے سے قبل انہیں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے خصوصی تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں تمام جنگی ساز و سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ القدس ملین مارچ کی منتظم کمیٹیوں نے بیت المقدس کے لیے قافلوں کو روانہ کرنے اور فلسطین کی سرحد پر جمع کرنے کے لیے 30 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ القدس ملین مارچ کی منتظم اور رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اس قافلے میں دنیا بھر کی 700 تنظیمیں اور 64ممالک کے عوام شرکت کریں گے۔ادھر دنیا کے سات میں سے چھ براعظموں میں سرگرم تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس کی طرف ملین مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کرانے کے لیے صہیونی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی منظم کیے جا رہے ہیں

Comments are closed.