Archive for 28/03/2012

جنوبی کوریا میں آج ختم ہونے والی ایٹمی سلامتی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے آخری دن شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جوہری دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ تعاون کیا جانا چاہیے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی اس دوسری بین الاقوامی سربراہی کانفرنس میں 53 ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔  کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرنے والوں میں امریکی صدر باراک اوباما بھی شامل تھے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا،’ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ آج بھی موجود ہے۔ دنیا میں ابھی بھی بہت سے برے عناصر خطرناک ایٹمی مادوں کی تلاش میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں سے جوہری مادے ایسے عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔‘امریکی صدر کے بقول کسی ایٹمی تباہی کے لیے بہت سے جوہری ہتھیار یا مادے درکار نہیں ہوں گے بلکہ ایسے تھوڑے سے مادے بھی لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس کی روشن مثال ہیرو شیما اور ناگاساکی ہیں دو سال پہلے باراک اوباما کی تحریک پر اس طرح کی پہلی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی۔ سیول میں آج ختم ہونے والی کانفنرس میں مندوبین کی توجہ کا مرکز اس بارے میں تبادلہ خیال رہا کہ ایٹمی تنصیبات اور جوہری مادوں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے زیادہ سے زیادہ محفوظ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔خاص کر اسرائیل اور امریکہ مین آج ہی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک نے کہا کہ ایٹمی مادوں کے استعمال کو ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کے لیے بڑی پیش رفت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری مادوں کی اسمگلنگ کا پتہ چلانے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ بین لاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔سیول کانفرنس میں مرکزی ایجنڈے سے ہٹتے ہوئے شمالی کوریا کے متنازعہ راکٹ منصوبے پر سخت تنقید بھی کی گئی۔ شمالی کوریا یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپریل میں ایک دور مار راکٹ کے ذریعے اپنا ایک سیٹلائٹ زمین کے مدار میں چھوڑے گا۔ کمیونسٹ کوریا کے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ کئی دوسری ریاستوں کو بھی اس منصوبے پر شدید اعتراض ہے۔ سیول کانفرنس کی دوسرے دن کی کارروائی کچھ دیر کے تعطل کا شکار بھی ہو گئی۔ اس کی وجہ برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جزائر فاک لینڈز کی وجہ سے پایا جانے والا تنازعہ بنا۔ اس حوالے سے ارجنٹائن کے وزیر خارجہ نے لندن حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک ایسی برطانوی آبدوز مبینہ طور پر جنوبی بحر اوقیانوس کے علاقے میں بھیج دی ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کی جا سکتی ہے۔سیول کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اسے مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنے لب و لہجے میں کافی نرم قرار دیا ہے۔ اس میں ایسے اقدامات کی کوئی ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی کہ ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مادوں کو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے کس طرح بچایا جائے گا۔ اس اعلامیے میں کانفرنس میں شریک ملکوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کو محفوظ تر بنائیں گے۔ ساتھ ہی وہ اپنے ہاں انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کے ذخائر میں بھی زیادہ سے زیادہ کمی کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شمالی کوریا اور ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام شامل نہیں تھے۔ ان دونوں ملکوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ چند ناقدین کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس ایک ‘ٹاک شاپ‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی جس میں محض وقت اور پیسے کا ضائع کیا  اور کوئی ٹھوس فیصلے نظر نہ آئے۔

شامی حکومت صدر بشارلاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کسی سمجھوتے پر رضامند دکھائی دی ہے۔ شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تصدیق کی ہے کہ دمشق حکام نے چھ نکاتی امن منصوبہ تسلیم کر لیا ہے۔ عنان کے بقول یہ شام میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شام میں خونریزی رکوانے کے لیے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا  گیا تھا، جس میں شامی فورسز کی جانب سے جنگ بندی، زخمیوں کو طبی امداد اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے لڑائی میں روزانہ دو گھنٹے کا وقفہ اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل چین اور روس بھی کوفی عنان کی حمایت کر چکے تھے

پاکستانی سياستدان عمران خان اور متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی کے مابين تنازعہ گزشتہ دنوں سوشل ميڈيا پر عوام اور بلاگرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ پاکستانی کرکٹ کے سابق ستارے اور حاليہ سياستدان عمران خان نے رواں ماہ بھارت ميں ايک کانفرنس ميں شرکت سے انکار کر ديا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اس تقريب کا حصہ بننے سے انکار اس ليے کيا کيونکہ اس ميں بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی کی شرکت بھی متوقع تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ رشدی اپنی متنازعہ کتاب کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ بس يہی وجہ تھی کہ عمران ان کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔ ادھر عمران خان کی يہ بات سلمان رشدی کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں عمران خان کو سخت تنقيد کا نشانہ ہی نہيں بنايا بلکہ ذاتيات کی ايک نئی جنگ چھيڑ دی۔ اب ادھر رشدی پاکستانی سياستدان کو ’عِم دا ڈم‘ کے نام سے پکارتے ہيں تو دوسری طرف عمران اس متنازعہ مصنف کو ’چھوٹی ذہنيت‘ کا حامل قرار ديتے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق رشدی تو اب يہ بھی اعلان کر چکے ہيں کہ وہ عمران خان کے بارے میں ايک کتاب بھی لکھيں گے۔ يہ معاملہ گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان ميں فيس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دونوں ممالک اور مغربی دنيا ميں بھی اس موضوع پر بلاگرز نے اپنے خيالات کا اظہار کيا۔ دی انڈیپينڈنٹ بلاگ ويب سائٹ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے جان ايليٹ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں تقرير کے ليے اپنے مقررہ وقت کو بطور مصنف اپنے آپ کو مزيد منوانے کے بجائے محض عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے ليے استعمال کيا۔ بلاگر کے بقول وہ اس اقدام کے ذريعے شہرت حاصل کرنے ميں کامياب ضرور ہوئے ہيں جس کی بدولت ان کی کتاب کی فروخت بڑھے گی۔پاکستان سے روزنامہ ڈان کے آن لائن ايڈيشن کے ليے لکھتے ہوئے نديم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ يہ معاملہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے اور اگر رشدی عمران خان پر واقعی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو يہ تنازعہ پھر سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔ ڈان کے انٹرنيٹ ايڈيشن پر شائع ہونے والے اس بلاگ ميں نعيم اللہ شاہ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی، عمران خان کا نام استعمال کرتے ہوئے ميڈيا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ مزيد مشہور ہو سکيں۔ دوسری جانب دی نيو يارک ٹائمز کے بھارتی ايڈيشن ميں انٹرنيٹ پر شائع بلاگ ميں ہيدر ٹمنز لکھتی ہيں کہ سلمان رشدی بھارت ميں تيزی سے ایک آزاد خيال رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتے جا رہے ہيں۔ فيس بک اور ٹوئٹر پر ان دنوں بھی عوام کی ايک بڑی تعداد اس معاملے پر کھل کے اپنے خيالات کا اظہار کر رہی ہے۔ ديکھنا يہ ہے کہ يہ تنازعہ آگے چل کر کيا رخ اختيار کرتا ہے۔

پولیس کی حراست میں ايک مقامی شخص کے ساتھ مبينہ طور پر جنسی تشدد اور اس کی موت کی خبريں منظر عام پر آنے کے بعد روسی شہر کزان ميں چند مزيد افراد نے مقامی پوليس کے خلاف جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کراديں۔ جب دارالحکومت ماسکو سے تفتیش کاروں کی ايک ٹيم باون سالہ روسی باشندے Sergei Nazarov کے ساتھ پولیس کی حراست میں جنسی تشدد اور موت کی رپورٹوں پر تفتيش کے ليے کزان پہنچی، تو وہاں مزيد چاليس افراد پوليس کی حراست کے دوران جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کرانے کے ليے موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد تفتیش کاروں کی ٹيم نے ڈيلنی پوليس اسٹيشن کے سات متعلقہ اہلکاروں کو حراست ميں لے ليا ہے اور ٹيم تين مزيد واقعات کی تفتيش کر رہی ہے۔ وسطی روس کے شہر کزان ميں واقع ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں مبينہ طور پر تشدد کا شکار بننے والے بائيس سالہ Oskar Krylov يہ الزام عائد کرتے ہيں کہ گزشتہ سال اکتوبر ميں پوليس نے انہيں مشتبہ طور پر چوری کے الزام ميں گرفتار کرنے کے بعد جنسی تشدد کا شکار بنايا۔ اے ايف پی سے بات کرتے ہوئے Krylov نے کہا، ’Sergei Nazarov کا انجام ديکھتے ہوئے ميں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کيونکہ ميں زندہ ہوں اور ميری صحت ٹھيک ہے‘۔اگرچہ مقامی ميڈيا کی متعدد رپوٹيں ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں پوليس کے مبينہ تشدد کی نشاندہی کرتی آئی ہيں، کزان کے پوليس اہلکار ان الزامات کی ترديد کرتے ہيں۔ خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کزان کے پوليس چيف Rustem Kadyrov کا کہنا تھا کہ لوگوں کو پوليس پر بھروسہ کرنا چاہيے۔ انہوں نے مزيد کہا، ’ايک شرمناک واقعے کی بناء پر پورے ادارے کو الزام دينا درست نہيں ہے‘۔ دوسری جانب ملک ميں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظيميں کزان کے پوليس چيف کے بيان سے اتفاق نہيں کرتیں۔ کزان رائٹس سينٹر کے ڈائريکٹر Igor Sholokhov کا کہنا ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے پوليس تشدد سے متعلق سترہ فائلز استغاثہ کو جمع کروائی ہيں۔ ان کے مطابق پانچ کيسز ميں ملزمان کی موت بھی واقع ہو چکی ہيں۔ البتہ Sholokhov کا دعوٰی ہے کہ يہ صورتحال محض Tatarstan تک محدود نہيں بلکہ ملک کے ديگر حصوں ميں بھی جيلوں ميں مختلف مظالم جاری ہيں۔ اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے روسی صدر Dmitry Medvedev نے ملکی پوليس کے نظام کو بہتر بنانے کو کافی ترجيح دی تھی ليکن پچھتر فيصد روسی عوام کا ماننا ہے کہ نظام ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے

عراق یا افغانستان میں فرائض انجام دینے کے بعد لوٹنے والے امریکی فوجیوں میں روزانہ سر درد معمول کی بات ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جو امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جنگی فرائض انجام دینے کے بعد  وطن لوٹتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی دماغی چوٹ یا بڑے دھچکے کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فوجیوں میں سے ہر پانچویں فوجی کو مہینے میں کم از کم پندرہ دن سر میں مستقل درد رہتا ہے۔ اس جائزے کے دوران بہت سے فوجی روزانہ بنیادوں پر سر درد کے مریض پائے گئے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج امریکی میڈیکل ریسرچ میگزین Headache کے تازہ شمارے میں شائع ہو گئے ہیں۔ اس طبی تحقیقی سروے کے دوران امریکی فوج کے محققین نے قریب ایک ہزار فوجیوں کے موجودہ اور پرانے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ یہ سارے فوجی ایسے تھے جنہیں عراق یا افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے یا چھوٹی بڑی دماغی چوٹ کا سامنا رہا تھا۔اس سروے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ان فوجیوں میں سے ہر پانچواں یا مجموعی طور پر قریب بیس فیصد فوجی بار بار ہونے والے سر کے ایسے درد کا شکار رہتے ہیں جسے مستقل بنیادوں پر روزانہ سر درد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں سے ہر ایک کم از کم بھی تین مہینے تک اس سر درد کا شکار رہا۔ ان ایک ہزار امریکی فوجیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے تھے جنہیں ہر روز کئی کئی گھنٹے تک شدید سر درد رہتا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق جن امریکی فوجیوں کو مستقل سر میں درد رہتا تھا، ان میں کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے کے بعد پائے جانے والے جذباتی یا اعصابی دباؤ کے عارضے PTSDکے واضح آثار بھی پائے گئے۔ اس کے برعکس دیگر فوجیوں میں جنہیں مسلسل سر درد کی شکایت نہیں تھی، ایسے کسی دباؤ کے کوئی آثار دیکھنے کو نہ ملے۔طبی ماہرین اس حالت سے پہلے کے دھچکے کو Concussion کا نام دیتے ہیں۔ ‘کن کشن‘ کسی ذہنی دھچکے کی وجہ سے دماغ کو لگنے والی وہ ہلکی سی چوٹ ہوتی ہے جس کے بعد عموما سر درد کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ فوجی اہلکار کتنی بڑی تعداد میں ایسے کسی ذہنی دھچکے کے بعد سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ اس سے پہلے عام اندازہ یہ تھا کہ اگر کسی Concussion کے بعد متعلقہ فرد دائمی سر درد کا مریض بن جاتا ہے تو یہ شرح بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس طبی تحقیقی جائزے کی سربراہی امریکی فوج کے ریاست ٹیکساس میں تعینات میجر بریٹ تھیلر نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار کے قریب فوجیوں کی صحت اور ان کے میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ وہ سارے فوجی عراق یا افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں وہاں ’کن کشن‘ کا سامنا بھی رہا تھا۔ میجر بریٹ تھیلر کے مطابق ایسے 98 فیصد فوجیوں نے امریکا واپسی کے بعد بار بار سر کے درد کی شکایت کی۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن نے پاکستان میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم کو بچانے کے لیے پاکستان کو بعض اہم رعایتوں کی پیشکش کی تھی مگر پاکستانی حکام نے انہیں ٹھکرا دیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے جنوری میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے لندن میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کو آئندہ ڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کی پیشکش کی تھی۔ ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ سی آئی اے کے سربراہ نے نشانہ بنائے جانے والے اہداف پر نئی حدود کے اطلاق کی بھی پیشکش کی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے والے دو پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ جنرل پاشا نے پاکستانی پارلیمان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین پر سی آئی اے کے خود مختار ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یہ مطالبہ کرے گا کہ امریکا دہشت گردوں کے بارے میں معلومات پاکستانی سکیورٹی فورسز کو فراہم کرے تا کہ وہ خود ان عسکریت پسندوں کا تعاقب کریں یا پھر ان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کریں۔ گزشتہ برس مختلف ایسے واقعات پیش آئے تھے جن کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ سی آئی اے کے ایک سکیورٹی افسر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل، مئی میں اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی کارروائی میں ہلاکت اور نومبر میں پاکستان کی ایک سرحدی چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔اس کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف ملک سے گزرنے والی نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی بلکہ امریکیوں سے بلوچستان کی شمسی ایئر بیس بھی خالی کروا لی جہاں سے مبینہ طور پر ڈرون طیارے اڑا کرتے تھے۔ فوجی سطح پر تعاون میں پاکستانی اہلکاروں کو تربیت دینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال دیا گیا اور پاکستان نے امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی شرکت سے انکار کر دیا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمان نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ بعض دیگر امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاشا پیٹریاس ملاقات میں پاکستان کو کسی قسم کی رعایتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب جنوری میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو اس وقت امریکی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ جلد ہی آئی ایس آئی کے سربراہ تبدیل ہو جائیں گے۔ اے پی کے مطابق امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ سفارتی تناؤ کے باعث کہیں پاکستان میں ڈرون حملوں کا پروگرام روکنا نہ پڑ جائے۔ لانگ وار جرنل ویب سائیٹ کے اہلکار Bill Roggio کے مطابق آٹھ برسوں کے دوران پاکستان میں کل 289 ڈرون حملے کیے گئے جن میں 2,223 مشتبہ عسکریت پسند، دہشت گرد اور طالبان ہلاک ہوئے۔ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ان ڈرون حملوں میں کافی کمی واقع ہو چکی ہے

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل نے عالمی القدس ملین مارچ کو عرب ممالک کے اندر سے گذرنے کی اجازت دینے اور اسے مقبوضہ فلسطین کی سرحد تک لانے میں معاونت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صہیونی حکومت کا کہنا ہے کہ القدس ملین مارچ کے پس پردہ “اسرائیل دشمن” قوتیں کار فرما ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اردن، شام، لبنان اور مصر سمیت مختلف عرب اور اسلامی ممالک کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو القدس ملین مارچ کے شرکا کو گذرنے کے لیے راستہ فراہم نہ کریں۔ ان خطوط میں خبردار کیا گیا ہے کہ صہیونی حکومت ملین مارچ کو اسرائیلی حدود کے قریب آنے سے روکنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔ اسرائیل نے پڑوسی عرب ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ القدس ملین مارچ کی راہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں، کیونکہ یہ احتجاجی جلوس خطے میں ایک نئے کشیدگی کا محرک بن سکتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بھی القدس ملین مارچ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ فوج کی مختلف یونٹوں کو مصر اور اردن کی سرحدوں پر تعینات کرنے سے قبل انہیں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے خصوصی تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں تمام جنگی ساز و سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ القدس ملین مارچ کی منتظم کمیٹیوں نے بیت المقدس کے لیے قافلوں کو روانہ کرنے اور فلسطین کی سرحد پر جمع کرنے کے لیے 30 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ القدس ملین مارچ کی منتظم اور رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اس قافلے میں دنیا بھر کی 700 تنظیمیں اور 64ممالک کے عوام شرکت کریں گے۔ادھر دنیا کے سات میں سے چھ براعظموں میں سرگرم تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس کی طرف ملین مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کرانے کے لیے صہیونی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی منظم کیے جا رہے ہیں

برسلز:  فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودیوں کے فلسطینیوں پر حملوں میں تیزی کا ایک نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین کے عہدیداروں کی جانب سے ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے جسے انہوں نے اپنے تئیں خفیہ رکھا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2011 میں انتہا پسند یہودیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں کم سے کم 411 حملے کیے جن میں ایک فلسطینی شہید، درجنوں زخمی اور بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی املاک کو تباہ کیا گیا۔مرکز اطلاعات فلسطین کو یورپی یونین کے عہدیداروں کی جانب سے تیار کردہ اس رپورٹ کے اعدادوشمار ملے ہیں جن میں فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے حملوں کو”جارحانہ” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2010 کی نسبت سنہ 11 میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملوں میں تین گنا اضافہ کیا۔ 2010 میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی املاک پرکل 132 حملے رجسٹرڈ کیے گئے تھے جبکہ گذشتہ برس رجسٹرڈ حملوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر گئی ہے۔یورپی عہدیداروں نے رپورٹ کی تیاری کے ساتھ ساتھ صہیونی سیکیورٹی حکام اور حکومت کے کردار کا بھی تجزیہ کیا ہے جس کے بعد کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت دانستہ طور پر انتہا پسند یہودیوں کی کارروائیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ مغربی کنارے میں جہاں یہودی آباد کاروں کو ہرقسم کا تحفظ اور شہری سہولتوں کا حق حاصل ہے وہیں ، عربوں، فلسطینیوں اور غیریہودیوں کو بھی اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی حکومت اور فوج کی پالیسی سے ایسے لگتا ہے گویا وہ فلسطینیوں کے ساتھ دانستہ طور پر امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے گذشتہ ایک برس کے دوران مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے مکانات پر حملے کر کے انہیں گرا دیا، فلسطینیوں کے فصلوں سے لہلاتے کھیت اجاڑ دیے گئے۔ کم سے کم ایک سال کے دوران زیتون کے دس ہزار درخت جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے یا انہیں جلا دیا گیا۔دوسری جانب اسرائیلی انتظامیہ کے انصاف کا یہ حال ہے کہ اس نے فلسطینی شکایت کندگان کی شکایت پر کان دھرنے کے بجائے الٹا انہیں زد و کوب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ فلسطینیوں کی نوے فی صد شکایات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔رپورٹ میں مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد اور ان کے فلسطینیوں پر حملوں کے بارے میں لکھا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں تین لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ 200 سے زیادہ مقامات میں ٹھہرائے گئے ہیں۔ یہودی آباد کار فلسطینیوں حملے کرتے رہتے ہیں لیکن اسرائیلی فوج اور پولیس اس وقت وہاں جاتے ہیں جب وہ فلسطینی جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انتہا پسند یہودیوں کو تو اپنی کارروائیوں کی کھلی چھٹی ہوتی ہے لیکن قابض اسرائیلیوں پر جب فلسطینی جوابی کارروائی کے تحت حملہ کرتے ہیں تو یہودی فوجی انتہا پسند یہودیوں کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل کی ایک عدالت میں پیش کیے گئے ایک فلسطینی بچے “مجاہدانہ جرات”کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے جج کو بھی کھری کھری سنا دیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت “عوفر” میں پیش کیے گئے ایک کم سن بچے نے جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا کہ”آپ ایک منظم گینگ اور دہشت گرد مافیا ہیں۔ ہم سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن میں اسرائیل کو نہیں مانتا”۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کیے گئے سات فلسطینی بچوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی گاڑیوں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ اس پرعدالت نے جب بے سے اس کا موقف پوچھا تووہ اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ “وہ اور اس کے دوست اسرائیل کی کسی عدالت کو مانتے ہیں اور نہ ہی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک اسرائیل اور اس کے تمام ادارے “منظم گینگ” ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے تیار کیا گیا ہے”۔ عدالت میں پیش کیے گئے تمام فلسطینی مقبوضہ الخلیل شہر کے شمال میں بیت امر سے گرفتار کیے گئے تھے۔فلسطینی انسانی حقوق کے ایک مندوب اور کلب برائے اسیران کے وکیل نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت “عوفر”میں جس بچے نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم جج کے سامنے کلمہ حق کہا اس کی احمد الصلیبی کے نام سے شناخت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوفرکی عدالت میں جب بچوں کو پیش کیا گیا تو عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ وہ ان محروس لڑکوں کے خلاف تیار کی گئی فرد جرم پڑھ کر سنائیں۔ ابھی ملٹری پراسیکیوٹر نے فرد جرم پڑھنا شروع کی تھی کہ ان میں سے ایک بچہ بول پڑا۔ اس نے کہا کہ میری عمر پندرہ سال ہے اور میں عالمی قوانین کی رو سے ابھی بچہ ہوں، میرا شعور اور وجدان یہ کہتا ہے کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ٹرائل ظالمانہ ہے، میں نہ عدالت کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس کے فیصلے اور نہ صہیونی ریاست کو، کیونکہ یہ سب منظم مافیا اور دہشت گرد گینگ ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جب جج نے فلسطینی بچے کے یہ ریمارکس سنے توغصے سے آگ بگولا ہو گیا اور تمام بچوں کو دھمکیاں دیتا ہوا کمرہ عدالت سے نکل گیا اور کہا کہ میں تمہیں سخت ترین سزائیں سناؤں گا۔ خیال رہے کہ احمد الصلیبی کو رواں بارہ تاریخ کو الخلیل میں بیت امر کے مقام سے حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اسرائیلی فوج نے اس پر ظالمانہ تشدد کیا ہے اور اسے ہولناک اذیتیں دی گئیں۔ تاہم اس نے تمام تر مظالم سہتے ہوئے صہیونی مجرم کے سامنے کلمہ حق کہہ کر فلسطینیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں

قلقیلیہ :  فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں فلسطینیوں کے اسرائیل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران صہیونی فوج کے تشدد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں سمیت دسیوں غیرملکی اور مقامی شہری زخمی ہو گئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گزشتہ روز د مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفرقدوم کے مقام پر فلسطینیوں نے اسرائیلی مظالم، یہودی آباد کاری انتہا پسندوں کے حملوں اور نسلی دیوارکے خلاف ایک ریلی نکالی۔ احتجاجی ریلی میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے فلسطین میں متعین سفیروں سمیت کئی غیرملکی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا میں کئی افراد کا تعلق یورپی ملکوں سے بھی تھا۔قلقیلیہ کے وسط سے نکلنے والی احتجاجی ریلی شہر کے کئی سال سے بند داخلی دروازے کی طرف بڑھی، لیکن وہاں پر تعینات صہیونی فوج نے ریلی پراشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کئی غیرملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں رام اللہ میں متعین جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں کے علاوہ ایک فرانسیسی انسانی حقوق کی خاتون سماجی کارکن بھی زخمی ہو گئیں۔ادھر گزشتہ روز بلعین میں بھی ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اشک اور گیس کی شیلنگ سے کئی بچوں اور خواتین سمیت ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔ آنسوگیس کے شیل لگنے سے زخمی اور زہریلی گیس کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے

ریاض:  سعودی عرب کی حکومت نے نوجوانوں کے اکیلے شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جانے پر عائد پابندی ختم کردی ۔ سعودی میڈیا کے مطابق ریاض کے گورنر شہزادہ شیطام بن عبدالعزیز نے اعلان کیا ہے کہ اکیلے مردوں پر شاپنگ مارکیٹوں میں خریداری پرعائد پابندی ختم کی جا رہی ہے اور اب مرد اکیلے بھی خریداری کرسکیں گے۔ اس سے قبل سعودی حکومت نے شام کے وقت اور تعطیلات کے دوران مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں اکیلے مردوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ زیادہ تر نوجوان لڑکے خریداری کے دوران مارکیٹوں میں خواتین کوہراساں کرتے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے اکیلے مردوں پر جن کے ساتھ اہل خانہ موجود نہ ہوں پابندی عائد کررکھی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے منفی ردعمل ہوا اور اب نوجوان مارکیٹوں کے باہر جمع ہوکر خواتین کو ہراساں کرتے تھے پابندی اٹھانے کا یہ فیصلہ مقامی حکام اور مذہبی پولیس کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے کیا ہے جس کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب جہاں پر تفریحی مواقع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی نوجوان زیادہ تر مارکیٹوں میں گھوم پھر کر تفریح طبع کا سامان کا سامان کر لیتے تھے

نابلس :  فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم نے پنتیس روز سے اسرائیلی عقوبت خانے میں بھوک ہڑتال جاری رکھنے والی فلسطینی اسیرہ ھنا الشلبی کی ابتر صحت کے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشلبی اپنی نازک حالت کے باعث کسی بھی وقت موت کے منہ میں جا سکتی ہیں۔ گزشتہ برس حماس اور اسرائیل کے مابین تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی پا کر دوبارہ گرفتار کی جانے والی ھنا الشلبی نے بغیر کسی فرد جرم کے اپنی چار ماہ کی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسیرہ کی زندگی شدید خطرے میں ہے اور وہ کسی بھی وقت موت سے ہمکنار ہو سکتی ہیں۔ ان کی دل کی دھڑکنیں انتہائی کمزور ہو چکی ہیں۔ جگر نے کام کرنا بند کر دیا،نظام انہضام تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خون بھی زہر آلود ہوچکا ہے۔ فلسطین میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسیرہ ھنا الشلبی اور انتظامی بنیادوں پر حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور زیر حراست افراد کی زندگیوں کی ذمہ داری بھی اسرائیلی حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریڈ کراس سے بھی اسرائیلی حکام پر بے گناہ فلسطینی اسیرہ کی رہائی کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد سمیت دیگر بارہ اہلِ خانہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن کے تحت نہ صرف ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں بلکہ ان کے یورپ آنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے جن بارہ افراد پر یہ پابندیاں عائد کی ہیں ان میں صدر بشار الاسد کی والدہ اور بہن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی اہلیہ اسمائ[L:4 R:4] الاسد برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں اس لیے برطانوی شہریوں کو یورپی یونین کی پابندی کے باوجود برطانیہ میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ صدر بشارالاسد کی اہلیہ کے مغرب میں پروان چڑھنے کی وجہ سے مغرب میں یہ تاثر تھا کہ وہ شام میں اصلاحات کی وجہ بن سکتی ہیں۔چھتیس سالہ شامی نڑاد اسمائ[L:4 R:4] الاسد نے زندگی کا بیشتر حصّہ مغربی لندن میں گزارا ہے اور برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے ان کے برطانوی شہری ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسماء الاسد جلد برطانیہ کا دورہ کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں اور برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہے۔واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں بشار الاسدسے شادی سے پہلے اسماء لندن میں انویسٹمینٹ بینکر رہی ہیں اور بشار الاسد کی حکومت میں کبھی پیش پیش نہیں رہیںگزشتہ ہفتے صدر بشار الاسد کے مخالفین نے اسماء الاسدکی تین ہزار ای میلز شائی کی تھیں جن کے مطابق وہ صدر کے خلاف بغاوت کے باوجود بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے قیمتی اشیاء خریدتی رہیں تاہم ان پیغامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی

بیجنگ :  چین نے کہا ہے کہ اسکی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کشمیر پاکستان اور بھارت ونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ آزادکشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں۔۔ چینی وزارت خارجہ میں ایشین ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سن ویڈونگ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’جنوب چینی سمندرکومتنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے معدنیات سے مالامال ویت نامی خطوں سے تیل نکالنے کی کوشش نہ کریںانہوں نے کہا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کیلئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس علاقے سے تیل نکالنے کی کوشش کرے‘‘۔ جب اْن سے پوچھاگیا کہ بھارت متنازعہ معاملات کا حصہ نہیں بننا چاہتا تو اْن کا کہنا تھا ’’خطے میں موجودجزیروں کی خودمختاری ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور بھارت کو یہ معاملہ طے ہونے تک تیل نکالنے کی کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں‘‘۔ چینی عہدیدار نے کہا ’’ہم خطے میں یکساں تعمیر و ترقی چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت ان متنازعہ معاملات کا حصہ نہ بنے اور اس بات کی امید بھی کرتے ہیں کہ خطے کی حفاظت اور امن قائم کرنے کیلئے بھارت مزید اقدامات اٹھائے‘‘۔ جب اْن کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی کہ بھارت میں تیل نکالنے کیلئے وسیع ذخائر ہیں تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور چین اس بات کی حتی الامکان کوشش کر رہا ہے کہ پرامن ذرائع سے اس معاملے کا حل نکالا جاسکے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ چین ویتنامی تیل بلاکوںمیں بھارت کے منصوبوں کی مخالفت کیوں کر رہا ہے جبکہ چین آزادکشمیر میں بنیادی ڈھانچوں کے منصوبے تعمیر کر رہا ہے تو مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔اْن کا کہنا تھا ’’یہ دونوں معاملات بالکل جداگانہ ہیں،جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں اور چین کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ چینی کمپنیاں وہاں اپنی توجہ تعمیر وترقی کے ڈھانچے پر مرکوز کر رہی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی کے بھی خلاف ہیںجبکہ جنوب چینی سمندر کا معاملہ بالکل ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں بہت ساری پارٹیاں ملوث ہیں‘‘۔ چین جنوب چینی سمندری خطے میں تیل نکالنے کیلئے نہ صرف بھارت کی مخالفت کرتا ہے بلکہ وہاں ہورہی کسی بھی سرگرمی کا مخالف ہے۔ کیونکہ چین کی آسیان ممالک کیساتھ تنازعات چل رہے ہیں جس میں ویتنام اور فلپائن بھی شامل ہیں۔ چینی مخالفت کے باوجود بھارت نے اکتوبر میں ویتنام کیساتھ ایک معاہدہ کر کے جنوب چینی سمندر میں تیل نکالنے کیلئے اپنا دائرہ وسیع کر دیا۔ بھارت اور ویتنام کی سرکاری آئل کمپنیوں کیساتھ بھی اِسی طرح کی مفاہمت ہوئی ۔چین کی جانب سے جنوب چینی سمندر پردعویٰ کرنے کا معاملہ بھارت اور ویتنام نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یہ سارے علاقے ویتنام کی ملکیت ہیں۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری کمپنیاں اس علاقے میں اپنے مواقع تلاش کرتی رہیں گی۔بھارت کا یہ موقف ہے کہ سارا بحیرہ عرب کا خطہ مشرقی افریقہ ساحل سے لیکر جنوب چینی سمندر تک بین الاقوامی تجارت ،توانائی اور قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے

واشنگٹن: امریکہ کے قانون سازوں نے فلسطین کے لیے چھ ماہ سے بند کی گئی8 کروڑ80 لاکھ ڈالر سے زائد کی ترقیاتی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اقدام امریکی ایوانِ نمائنداگان کے دو سینیئر ریپبلیکن ارکان کی جانب سے امداد کی بحالی پر مخالفت واپس لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک الیانا روز لیہٹینن کا کہنا تھا کہ یہ رقم غزہ کی پٹی کا جانب نہیں جانی چاہئیے، جس کا انتظام حماس کے پاس ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ باقی پانچ کروڑ اسی لاکھ کی امداد بند رکھیں گی۔ایک خط میں انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ امداد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو سکتی ہے۔الیانا روز لیہٹینن امریکی امورِ خارجہ کی کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آٹھ کروڑ اسی لاکھ ڈالر سے زائد کی یہ امداد اس اتفاقِ رائے کے ساتھ جاری کر رہی ہیں کہ فلسطینی حکومت اسے مغربی کنارے میں سڑک کی تعمیر، تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی۔یہ امداد فلسطین میں صحت، پانی کے منصوبے اور خوراک کی فراہمی کے لیے استعمال کی جانی ہے۔امریکی قانون سازوں نے فلسطین کی امداد اس وقت بند کر دی تھی جب فلسطین نے گذشتہ سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی درخواست پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔امریکہ نے اعتراض کیا تھا کہ فلسطینی درخواست کی باعث امریکی قیادت میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے امداد روکے جانے پر تنقید کی تھی

نئی دہلی: بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں غیر معیاری فوجی گاڑیوں کو کلیرکرنے پر 14کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ لابسٹ جو حال ہی میں فوج سے ریٹائر ہو چکا ہے اس نے انہیں کہا کہ اگر وہ فوج کے کچھ سامان کی خرید کو کلئیر کردیں تو وہ انہیں 14کروڑ روپے رشوت کے طور پر دے گا، جنرل سنگھ نے مزید بتایا کہ فوجی سامان میں 600غیر معیاری گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی کلئیرنس کے لئے انہیں معاوضہ کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے استعمال میں 7ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں جن کی خرید و فروخت کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔جنرل سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی اطلاع وزیر دفاع اے کے انتھونی کو بھی دے دی تھی

کنساس: افغانستان کے شہر قندھار میں 17 معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجی پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں۔امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز پر 11 مارچ کو قندھار میں اندھا دھند فائرنگ کرکے افغان شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت فورٹ لیون ورتھ بیس کنساس میں زیر حراست ہے۔ لیکن اب یہ کیس لوئس میک کورڈ بیس منتقل کردیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی امریکی فوجی پر مقدمہ چلانے کے مقام کا تعین کرنے کے اس عمل میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں جس کے بعد کورٹ مارشل کی اصل کارروائی شروع ہوگی

کابل : قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثا کو کو معاوضے دیے گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق قبائلی بزرگوں کے مطابق امریکی فوج نے جان سے جانے والے ہر فرد کے وارث کو چھیالیس ہزار ڈالر اور زخمی ہونے والے فرد یا اس کے وارث کو دس ہزار ڈالر کے مساوی رقم ادا کی ہے۔مقتولوں اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں نے قندھار کے گورنر کے دفتر میں امریکی فوج اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی ایساف افواج کے اہلکاروں سے ایک نجی اجلاس میں ملاقات کی۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ جب11 مارچ کو ہونے والے اس سانحے کے ذمہ دار سارجنٹ بیلز کے خلاف کارروائی شروع ہو گی تو کچھ لوگوں کو گواہی دینے کے لیے امریکہ جانا پڑے گا جب کہ باقی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہوں گے۔اس واقعے میں امریکی فوجی سارجنٹ بیلز نے گھروں میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت سولہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔صوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فا تحہکے لیے آتے ہیں