پاکستان: لاکھوں ويب سائٹس پر پابندی کا امکان

Posted: 08/03/2012 in All News, Educational News, Important News, Pakistan & Kashmir

پاکستان ميں انٹرنيٹ اور متنازعہ ويب سائٹس پر ممکنہ پابندی کی سرکاری کوششيں ملک ميں موجود آزادانہ اظہار خيال کرنے والے افراد، اداروں اور ويب سائٹس کے ليے پريشانی کا باعث بنتی جا رہی ہيں۔ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے اشتہاری مہم کے ذريعے ايک ايسے سسٹم کی مانگ کی گئی تھی جس کی بدولت حکومت قريب پچاس ملين ويب سائٹس تک صارفين کی رسائی کو ناممکن بنا سکے۔ مختلف ملکی اخبارات اور انٹرنيٹ ويب سائٹس پر شائع ہونے والے ان اشتہارات ميں ملک ميں کام کرنے والی کمپنيوں کو اس سلسلے ميں اپنی تجاويز پيش کرنے کے ليے کہا گيا تھا۔ اس سرکاری مطالبے کے نتيجے ميں پاکستانی عوام ميں اب يہ خدشہ پايا جاتا ہے کہ پابنديوں کا دائرہ کار بڑھا کر اسے آزادانہ اظہار رائے کی رکاوٹ کے ليے استعمال کيا جا سکتا ہے۔ پاکستان ميں انٹرنيٹ کی آزادی سے متعلق کام کرنے والی ايک کمپنی بائٹس کے ڈائريکٹر شہزاد امجد اس حوالے سے دعوٰی کرتے ہيں، ’حکومت نے پہلے ہی متعدد ويب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اب اس پروگرام کے تحت حکومت سياسی اظہار رائے کو کنٹرول کرنا اور روکنا چاہتی ہے‘۔ شہزاد امجد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی مطلب نہيں ہونا چاہيے کہ کوئی بھی شخص انٹرنيٹ پر کيا کرتا اور کیا دیکھتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنيوں کی ايسوسی ايشن کے سربراہ وحاجس سراج کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اس ممکنہ اقدام کے حق ميں ہيں اور يہ کہ عوام کی جانب سے اس کو سمجھنے ميں غلطی کی جا رہی ہے۔ ايسوسی ايشن کے سربراہ کے بقول دراصل يہ ايک مثبت قدم ہے اور کمپنيوں اور ايسے افراد کو جو انٹرنيٹ کے ذريعے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہيں، اس اقدام سے پريشان ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔ملک ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنياں پاکستان ٹيلی کميونيکيشن اتھارٹی کے ماتحت کام کرتی ہيں اور ان کمپنيوں کو پابنديوں سے متعلق ہدايات بھی اس سرکاری ريگوليٹری اتھارٹی کی جانب سے ہی دی جاتی ہيں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان ميں ديگر ايشيائی ممالک کی طرح کئی عرياں ويب سائٹس اور اسلام کے خلاف مواد پر مشتمل ويب سائٹس پر پابندی عائد ہے۔ جبکہ مختلف تنازعات کی بناء پر ماضی ميں عارضی طور پر يو ٹيوب اور فيس بک پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ پاکستان ميں ان دنوں انٹرنيٹ پر حکومتی نگرانی سخت بنانے کی يہ کوششيں اس وقت منظر عام پر آ رہی ہيں جب ملک ميں تيزی سے ترقی پانے والے ٹيلی وژن ميڈيا پر بھی پابندياں عائد کيے جانے کے امکانات موجود ہيں۔ اس سلسلے ميں پاکستان اليکٹرانک ميڈيا ريگوليٹری اتھارٹی کو تجاويز پيش کی جا چکی ہيں۔ اگرچہ وفاقی وزير اطلاعات فردوس عاشق اعوان ان تجاويز کے دفاع ميں کہہ چکی ہيں کہ ان کا مقصد منفی نہيں بلکہ ميڈيا کی ترقی کو فروغ دينا ہے، تاہم ملک ميں موجود تجزيہ نگار يہ دعوی کر رہے ہيں کہ يہ اقدامات آئندہ عام انتخابات سے قبل ميڈيا پر حکومت کے خلاف کی جانے والی تنقيد کو روکنے کے ليے ہيں۔

Comments are closed.