Archive for 08/03/2012

فلسطین کے محصور شہر غزہ کی پٹی میں ادویہ کا ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے۔ غزہ وزارت صحت کی رپورٹ کےمطابق اسپتالوں میں 386 اقسام کی بنیادی اور عام ضرورت کی ادویہ ناپید ہو چکی ہیں۔ فلسطین کےمطابق وزارتِ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سرکاری اسپتالوں اور غیرسرکاری ڈسپنسریوں میں ادویہ کی قلت کے باعث مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں بنیادی ضرورت کی 186 دوائیاں اور علاج معالجے کے استعمال ہونےو الی 200 دیگر اشیاء مکمل طورپر ختم ہو چکی ہیں ، جس کے بعد مریضوں اور طبی عملے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 70 ادویات اور 75 دیگر طبی سامان گذشتہ تین ماہ سے ختم ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی ہنگامی طبی امداد میں بھی یہ ادویات نہیں لائی جا سکی ہیں۔ گذشتہ ماہ ادویات کی شدید قلت کے بعد اسپتالوں کو 347 اقسام کی دوائیوں کی قلت کا سامنا تھا جبکہ اس ماہ یہ تعداد بڑھ کر 386 تک جا پہنچی ہے، جو شہرمیں ادویات کی قلت کے سنگین بحران کا واضح ثبوت ہے۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی جانب سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، ریڈ کراس، اقوام متحدہ،ترکی کی حکومت اور مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فوری طبی امداد کی فراہمی کویقینی بنائیں ورنہ شہر میں نیا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سےغزہ کی پٹی کے گذشتہ چھ سال سے جاری معاشی محاصرے کے باعث شہر میں ادویہ کی آمد وترسیل میں سنگین مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے معاشی ناکہ بندی اور ادویہ کی قلت کے باعث سیکڑوں زندگیوں کے چراغ بجھ چکے ہیں۔ شہر میں نہ صرف ادویہ کی قلت ہے بلکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی مریضوں کو دوسرے شہروں میں علاج کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

ذرائع انرجی اور قدرتی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کے ذریعے آنے والی مصری ایندھن کی وصولی اور استعمال کے لیے تمام تکنیکی امور پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ مصر کے ساتھ معاہدے کے بعد کئی ہفتوں سے ایندھن اور بجلی کی کمی کے شکار غزہ کے بجلی گھر کا دوبارہ کام شروع کر دے گیا۔ محکمہ انرجی کے میڈیا ڈائریکٹر احمد ابو العمرین نے بدھ کے روز اپنے بیان میں بتایا کہ مصر کے ساتھ واقع رفح کی سرحدات پر واقع کراسنگ سے آنے والے وفد کے استقبال کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مصری حکومت قیدیوں کے مسائل کا مداوا جلد از جلد کریں گع۔ ابوالعمرین نے مصر سے آنے والے ایندھن کی آمد میں تاخیر کی وجہ کے متعلق پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ اس بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں، یہ سوال مصر سے کیا جانا چاہیے جس کے متعلق ہمیں امید ہے کہ وہ اب سرعت رفتاری سے غزہ کو ایندھن فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے بجلی گھر میں ایک جنریٹر چل رہا ہے اس کو انتہائی قلیل مقدار میں ایندھن فراہم کیا جاتا رہے گا تاہم جیسے ہی مصر سے کیے گئے معاہدے تکے تحت تیل غزہ پہنچے گا غزہ میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا۔ قبل ازیں پیر کی شام غزہ میں محکمہ برقیات نے اعلان کیا تھا کہ اس کا مصر کے ساتھ بجلی گھروں میں استعمال کے لیے مصر سے پٹرول کی درآمد کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئل کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی کے سبب شدید بحران کی کیفیت ہے۔

نامعلوم مسلح افراد نے مصر کے جزیرہ نما سیناء سے اسرائیل اور اردن کے لیے گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن کو ایک سال میں تیرہویں مرتبہ تباہ کر دیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ گیس پائپ لائن میں دھماکہ اسرائیل اور مصرکے درمیان سرحد پر طبل کے مقام پرپیش آیا، جہاں کچھ ہی روزقبل ایک دھماکے میں گیس پائپ لائن کو اڑایا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں آگ کے پچاس میٹر بلند شعلے اٹھتے دیکھے گئےہیں۔ واقعے کے فوری بعد گیس فراہم کرنے والی کمپنی “گیسکو” شہری دفاع،فائربرگیڈ اور سیکیورٹی فورسزکے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ خیال رہے کہ مصر سے اسرائیل کو فراہم کردہ گیس کی پائپ لائن کو گذشتہ ایک سال کے دوران کئی مرتبہ دھماکوں سے تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ پانچ فروری کو اسی مقام پر ہونے والے دھماکےکے بعد پائپ لائن کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم سخت سیکیورٹی کے باوجو دنامعلوم مسلح افراد پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔

بغداد : شمالی عراق میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے جبکہ عراقی وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ بھی بال بال بچ گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے  شمالی صوبہ نائن آئیو کے شہر موصل کے قصبے تلعفر میں معروف ریسٹورنٹ اور مارکیٹ کے نزدیک یکے بعد دیگرے دو کا ر بم دھماکے  ہوئے۔ قصبے کے مئیر عبدالعال عباس کے مطابق دھماکوں سے قریبی ریسٹورنٹس اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق  وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ محمد الدرا جی کے قافلے پر کار بم حملہ ہوا ہے تاہم اس میں وہ محفوظ رہے۔ پولیس  ذرائع کے مطابق کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے اور متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ میئر کے مطابق پولیس نے علاقے کا گھیرائو کر لیا ہے۔ ایمبولینسوں اور عام گاڑیوں کی مدد سے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔

تہران: ایران میں انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام پر کام شروع ہوگیا ہے۔ اس ادارے کے قیام کیلئے ایرانی رہنماٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہدایات جاری کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کیمطابق انٹرنیٹ کی نگرانی کے اس ادارے کے ارکان میں ایرانی صدر، وزیر برائے اطلاعات و ثقافت، پولیس اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر شامل ہوں گے۔ ایران میں انٹرنیٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کیا جانے والا یہ سخت ترین اقدام ہے۔

جینیوا: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں قائم امریکی نواز حکومت شام میں حکومت مخالف باغیوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب و ٹیلی چرکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہیں کہ لیبیا میں شامی باغیوں کے لئے خصوصی طور پر ایک تربیت گاہ قائم کی گئی ہے جہاں لوگوں کو تربیت فراہم کر کے شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جانا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران کو واضح کیا کہ روس اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتا ہے چونکہ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے بھی مترادف ہے۔ چرکین نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

تیونسیہ: حکومت تیونس نے سابق جلا وطن صدر زین العابدین بن علی کو ٹرائل کے لیے وطن واپس لانے بارے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کبھی بھی بن علی کو ملک بدر نہیں کرے گا تاہم کوشش جاری رہے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد منتخب ہونے والے صدر تیونس منصف قرزوقی نے کہا کہ سابق صدر زین العابدین کو ٹرائل کے لیے واپس وطن لانے بارے حکومت تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور سعودی عرب حکومت پر اس حوالے سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سابق صدر کو اپنے ملک کے حوالے کرے تاکہ ان کا ٹرائل کیا جائے تاہم اس امید کا اظہار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب انہیں ملک بدر کرے گا چونکہ وہاں کی اپنی روایات اور قوانین ہیں۔ واضح رہے کہ زین العابدین کو تیونس کی عدالت نے گزشتہ سال کرپشن سمیت مختلف جرائم کے الزام میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

واشنگٹن: بھارت نے رشوت سکینڈل میں اسرائیل کی اسلحہ ساز فرم ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ سمیت چھ فرموں پر دس سال کیلئے پابندی عائد کر دی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت نے اسرائیل کی سرفہرست اسلحہ بنانے والی فرم اسرائیل ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ کو دس سال کیلئے بلیک لسٹ کر دیا۔ بھارتی وزارت دفاع کی اسرئیلی فرم پر دس سال کے پابندی کے فیصلے پر اسرائیل ششدر اور پریشان ہوگیا ہے۔ بھارت نے اپنے ملک کے علاوہ سوئٹزر لینڈ، روس اور سنگاپور کی پانچ فرموں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بھارت نے ان فرموں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے معاہدہ حاصل کرنے کیلئے بھارتی اہلکار کو رشوت دی۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے بھارتی الزامات کے خلاف اپنی فرم کے موقف کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی پابندی کا جواب دینے کیلئے وہ فرم سے مشاورت کرے گا۔ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کیلئے بھارت ایک اہم ترین مارکیٹ ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دو ہزار نو میں رشوت اسکینڈل میں ملوث ہونے پر بھارت نے چھ فرموں پر دس برس کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارت نے اپنی دو فرموں پر بھی پابندی عائد کی ہے، ان فرموں پر پابندی سی بی آئی کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے بعد بھارتی وزارت دفاع نے عائد کی۔ بھارت نے دو ہزار نو میں سات فرموں سے 1.5 ارب ڈالر کا معاہدے کو اس وقت روک دیا تھا جب پولیس نے وزارت دفاع کے اہم عہدے دار کو ان فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

واشنگٹن: وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی زیر قیادت میں نیٹو افواج شام کے اندر حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکہ میں موجود انٹیلی جنس فرم کیلئے کام کرنے والے تجزیہ نگار کی جانب سے فراہم کردہ ایک خفیہ ای میل جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے گزشتہ سال دسمبر میں پنٹاگون کے اندر فرانس اور برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے متعدد فوجی حکام نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے اس اجلاس کے دوران سنا تھا کہ نیٹو کے زمینی فوجی کافی عرصے سے شام میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق نیٹو افواج کی اس تربیت کا مقصد حکومت کے خلاف لوگوں کو گوریلا جنگ کیلئے تیار کرنا تھا۔

تہران: ایران کا شہر شیراز اعضاء کی پیوند کاری کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کوا مداد فراہم کرنے والی خیراتی تنظیم کے سربراہ نادر معینی نے کہا ہے کہ یہ ان خاندانوں کیلئے اعزاز کی بات ہے جنہوں نے اپنے خاندان کا ایک رکن کھو دیا۔ تاہم انہوں نے اعضاء عطیہ کر کے دیگر افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔ شیراز شہر میں پیوندکاری کے اس عمل میں 200 افراد شریک ہوئے ہیں اور نادر معینی کے مطابق اب 251 افراد کے گردوں کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 341 افراد کے جگر کی پیوندکاری اور 23 افراد کے پتا کی پیوندکاری کی گئی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے مطابق بن لادن کے آخری ایام کے دوران اس کی بیویوں کے باہمی شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ وہ تیسری منزل پر اپنی چہیتی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ مسئلہ اس کی پہلی بیوی کے آنے کے شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر شوکت قادر نے اپنی ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کی منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ تک اس موضوع پر تحقیق کی اور انہیں وہ دستاویزات دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، جو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے پوچھ گچھ کے بعد تیار کی تھیں۔ دو مئی کے واقعے کے بعد شوکت قادر کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی آخری رہائش گاہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔ یہ تصاویر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی دکھائی گئیں۔ اس میں ایک تصویر میں مرکزی سیڑھیوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک اور تصویر میں کھڑکیاں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں لوہے کی باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔
گھر کا نقشہ
لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا۔ خاندان کے بقیہ افراد اس عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے، جس میں 2 مئی2011ء کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے اس رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی تفتیشی دستاویزات کے علاوہ القاعدہ کے زیر حراست ارکان کے انٹرویوز سے بھی مدد حاصل کی ہے۔ بن لادن 2005ء سے ایبٹ آباد کے اس تین منزلہ مکان میں رہ رہا تھا۔ اس گھر میں کل 28 افراد تھے، ان میں اسامہ بن لادن، اس کی تین بیویاں، آٹھ بچے اور پانچ پوتے پوتیاں تھے۔ بن لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے کم عمر اہلیہ امل احمد عبدالفتح السدا کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ اس کے بچوں کی عمریں 24 سے تین سال کے درمیان تھیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا خالد ( 24) دو مئی کے آپریشن میں مارا گیا تھا۔ اس آپریشن میں بن لادن کا پیغام رساں اور اس کا بھائی بھی مارے گئے تھے اور اُن کی بیویاں اور بچے بھی اس مکان میں رہائش پذیر تھے۔ 54 سالہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے معدے یا گردے کی شکایت تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ عمر سے بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات موجود تھے۔
بن لادن، امل اور خیرہ
یمنی نژاد امل کی شادی 1999ء میں بن لادن سے ہوئی تھی اور شادی کے وقت وہ 19برس کی تھی۔ بن لادن کی ایک اور اہلیہ سہام صابر بھی اسی منزل پر ایک الگ کمرے میں رہتی تھی اور یہ کمرہ کمپیوٹر روم کے طور بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول امل نے آئی ایس آئی کو بتایا کہ 2011ء میں بن لادن کی سب سے بڑی سعودی نژاد اہلیہ خیرہ صابر کی آمد کے بعد سے گھریلو معاملات میں گڑ بڑ پیدا ہونا شروع ہوئی۔ خیرہ صابر نے دورانِ تفتیش خود بھی تسیلم کیا کہ اس کا اپنا رویہ بھی بہت جارحانہ تھا۔ 2001ء میں خیرہ اپنے شوہر بن لادن کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ افغانستان سے ایران چلی گئی تھی۔ ایران میں اسے نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں تہران حکومت نے پاکستان سے ایک ایرانی سفارت کار کی رہائی کے بدلے اُسے سفر کی اجازت دے دی تھی۔ اس ایرانی سفارت کار کو شمالی علاقہ جات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امل نے دوران تفتیش بتایا کہ خیرہ فروری اور مارچ 2011ء کے درمیانی عرصے میں ایبٹ آباد پہنچی تھی۔ اس دوران بن لادن کا بڑا بیٹا خالد خیرہ سے بار بار پوچھتا رہا کہ وہ وہاں کیوں آئی ہے۔ امل کے بقول خیرہ نے جواب دیا کہ اسے اپنے شوہر کے لیے ایک آخری خدمت انجام دینی ہے۔ اس پر خالد نے فوراً ہی اپنے باپ کو بتا دیا کہ خیرہ اسے دھوکہ دینا یا چھوڑنا چاہتی ہے۔ شوکت قادر کے بقول ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ خیرہ صابر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا۔بن لادن کہاں کہاں روپوش رہا امل نے بتایا ہے کہ بن لادن افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں زیادہ عرصہ قیام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ 2002ء میں وہ کچھ عرصہ کوہاٹ کے قریب ایک علاقے میں روپوش رہا۔ اس دوران گیارہ ستمبر کا منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنے آیا تھا، جسے 2003 ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 2004 ء میں وہ اور خاندان کے کچھ افراد سوات کے قریب شانگلہ منتقل ہو گئے تھے۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 2004ء کے آخر میں یہ لوگ ہری پور اور 2005ء کے موسم گرما میں ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان میں آ گئے، جس کی تیسری منزل پر بن لادن امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ اسامہ کے کچھ اہل خانہ کا خیال ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔
آئی ایس آئی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول فوج میں ان کے ایک دوست نے انہیں بن لادن کی زیر حراست اہلیہ امل سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ تک رسائی دی تھی۔ قادر کے بقول انہوں نے بن لادن کے مکان کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے بقول اس گھر میں فرار ہونے کا کوئی خفیہ راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کوئی انتباہی نظام نصب نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تہہ خانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول ’’یہ گھر اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں وہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘‘۔

بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مسلم اور عرب ملکوں کے نمائندے ایک بحث سے باہر نکل گئے جس میں ہم جنس پرست مرد و خواتین کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کی کوششوں پر بات کی گئی تھی۔ واک آؤٹ کرنے سے قبل ستاون رکنی تنظیم برائے اسلامی تعاون (او آئی سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے ہم جنس پرستی کو ’اخلاق باختگی کا رویہ‘ قرار دیا۔ افریقی گروپ کے رہنما سینیگال نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمگیر معاہدے اس موضوع کا احاطہ نہیں کرتے۔ نائجیریا نے، جہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے گروپوں کے بقول ہم جنس پرست مرد و خواتین پر حملے ہوتے رہتے ہیں، کہا کہ اس کا کوئی بھی شہری جنسی میلان یا صنفی شناخت کی بناء پر تشدد کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ عرب گروپ کی نمائندگی کرنے والے موریطانیہ نے کہا کہ ’جنسی میلان کے متنازعہ موضوع‘ کو مسلط کرنے کی کوششوں سے کونسل میں انسانی حقوق کے حقیقی مسائل پر بحث کمزور ہو جائے گی۔سفارت کاروں کے بقول 47 اراکین پر مشتمل انسانی حقوق کونسل میں یہ بائیکاٹ پہلی بار تین بڑے بلاکس نے ایک ساتھ کیا ہے۔ یہ مقاطعہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اس عالمی ادارے کی انسانی حقوق سے متعلق کمشنر ناوی پیلے نے سیشن کو بتایا کہ تمام حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہم جنس پرست مرد و خواتین کو تحفظ فراہم کریں۔ پینل کے نام اپنے وڈیو پیغام میں بان کی مون نے کہا، ’ہمیں بعض لوگوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا رویہ اس وجہ سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست مرد، خواتین، دونوں جنسوں کی طرف میلان رکھنے والے یا تیسری صنف کے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’یہ متاثرہ افراد کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمارے مشترکہ ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آپ کو انسانی حقوق کونسل کے اراکین کے طور پر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘ اسلامی اور افریقی ملکوں نے کافی عرصے سے کونسل میں اس بحث کو روک رکھا تھا جسے اقوام متحدہ ’جنسی میلان اور صنفی شناخت‘ کا نام دیتا ہے۔کونسل میں بحث کے لیے یہ قرارداد امریکا اور جنوبی افریقہ نے پیش کی تھی۔ کمشنر ناوی پیلے نے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’ہومو فوبیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے خلاف دنیا میں ہونے والے مختلف مظالم کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے کل 192 رکن ملکوں میں سے 76 میں ہم جنس پرست رویے کو جرائم پیشہ قرار دینے کے قوانین موجود ہیں۔ پانچ ملکوں میں اس جرم کے تحت سزائے موت رائج ہے جن میں ایران بھی شامل ہے۔ناوی پیلے نے کہا کہ بعض ملک یہ دلیل دیں گے کہ ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کی طرف میلان ’مقامی ثقافتی یا روایتی اقدار یا پھر مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، یا رائے عامہ اس کے خلاف ہے مگر جہاں تک آفاقی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو ان کا احترام ضروری ہے۔‘

ایک انتہائی طاقتور شمسی طوفان سورج سے زمین کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ طوفان آج جمعرات کے روز زمین تک پہنچے گا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان توانائی کے نظام، پروازوں، سیٹیلائٹ نیٹ ورک اور جی پی ایس سروسز کو متاثر کر سکتا ہے۔ چھ برس میں اس نوعیت کا آنے والا یہ سب سے شدید شمسی طوفان ہے۔ جہاں اس طوفان سے نقصانات ہوں گے وہاں دنیا کے بعض حصوں میں آباد افراد اس کی دلکشی سے بھی محظوظ ہو سکیں گے۔ وسطی ایشیا کے علاقوں میں لوگ رات کی سیاہی پھیلنے پر اس شمسی طوفان سے پھوٹنے والی ’شمالی روشنی‘ کا خوبصورت منظر بھی دیکھ سکیں گے۔ناسا کے ماہرین نے اس طوفان کی شدت سے نہ صرف زمین بلکہ مریخ کے متاثر ہونے کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر دو ہزار چھ کے بعد یہ شمسی طوفان سب سے طاقتور ہے تاہم گزشتہ برس اگست میں زمین پر ایک طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ طوفان سے نہ صرف سیٹیلائٹ اور پاور گرڈز متاثر ہوں گے بلکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں موجود خلا نوردوں کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ خلا نورد ماضی کی طرح مخصوص جگہوں پر اپنی حفاظت کی غرض سے قیام کریں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس نوعیت کے شمسی طوفان آئندہ دنوں میں بھی آ سکتے ہیں۔ خلائی طوفان نئی بات نہیں ہیں۔ پہلا بڑا شمسی طوفان اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی خلا نورد رچرڈ کیرنگٹن نے ریکارڈ کیا تھا۔ انیس سو بہتّر میں ایک بڑے شمسی طوفان تے امریکی ریاست الینوئے کے مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق انیس سو نواسی میں اس نوعیت کے ایک طوفان نے کینیڈا کے کیوبیک صوبے میں بجلی کے نظام کو متاثر کیا تھا۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

امریکہ شام میں فوجی مداخلت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اس سلسلے میں نو فلائی زون کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی مشنوں، بحری راستوں کی نگرانی اور محدود فضائی حملوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی مفصل منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی مختلف امکانات پر صدر باراک اوباما کے ساتھ تبادلہء خیال کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سرِدست اوباما شامی صدر بشار الاسد کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ ہی کو مناسب طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

شام کے نائب وزیر تیل عبدحسام الدین نے حکومت سے علیحٰدہ ہوتے ہوئے باغیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر جاری کیا ہے۔عبدحسام الدین شام میں گزشتہ برس سے جاری شورش کے بعد بشار الاسد کا ساتھ چھوڑنے والے پہلے اعلیٰ عہدے دار بن گئے ہیں۔ ان کے اس بیان پر مبنی ویڈیو یو ٹیوب پر بدھ کو اپ لوڈ کی گئی ہے، جسے جمعرات کو دیکھا گیا ہے۔ اس میں ان کا کہنا ہے: ’’میں عبد حسام الدین، نائب وزیر تیل اور معدنی دولت حکومت سے علیحٰدگی، استعفے اور بعث پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’جنہیں تم اپنے لوگ کہتے ہو، تم ان پر مسلط ہو گئے ہو۔ دکھ سے بھرے ایک پورے سال سے تم نے ان پر زندگی تنگ کر رکھی ہے اور شام کو پاتال کی تہہ تک لے جا رہے ہو۔‘‘ دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں حمص کا ضلع بابا عمرو ویران ہو گیا ہے۔ حکومت مخالفین کا مؤقف ہے کہ دمشق انتظامیہ زیادتیوں کے ثبوت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سربراہ برائے انسانی ب‍حران ویلاری آموس نے بدھ کو حمص کے ضلع بابا عمرو کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس ضلع کو ویران پایا ہے اور وہاں سے زیادہ تر شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ حمص کے اس علاقے کو تقریباﹰ ایک ماہ تک شام کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدترین کریک ڈاؤن کا سامنا رہا، جس پر عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات بھی سامنے آئے۔ ویلاری آموس اس عرصے میں وہاں پہنچنے والی پہلی غیرجانبدار مبصر ہیں۔ حکومتی فورسز نے یکم مارچ کو اس علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کیا ہے اور اس وقت سے اس کے داخلی راستے بند کر رکھے تھے۔ اب امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ صدر باراک اوباما نے محکمہ دفاع کو شام کے حوالے سے عسکری کارروائی کے امکانات کے ابتدائی جائزے کے لیے کہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما اور سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا کا تاحال یہ خیال ہے کہ اقتصادی پابندیاں اور دمشق کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دینا بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

پاکستان ميں انٹرنيٹ اور متنازعہ ويب سائٹس پر ممکنہ پابندی کی سرکاری کوششيں ملک ميں موجود آزادانہ اظہار خيال کرنے والے افراد، اداروں اور ويب سائٹس کے ليے پريشانی کا باعث بنتی جا رہی ہيں۔ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے اشتہاری مہم کے ذريعے ايک ايسے سسٹم کی مانگ کی گئی تھی جس کی بدولت حکومت قريب پچاس ملين ويب سائٹس تک صارفين کی رسائی کو ناممکن بنا سکے۔ مختلف ملکی اخبارات اور انٹرنيٹ ويب سائٹس پر شائع ہونے والے ان اشتہارات ميں ملک ميں کام کرنے والی کمپنيوں کو اس سلسلے ميں اپنی تجاويز پيش کرنے کے ليے کہا گيا تھا۔ اس سرکاری مطالبے کے نتيجے ميں پاکستانی عوام ميں اب يہ خدشہ پايا جاتا ہے کہ پابنديوں کا دائرہ کار بڑھا کر اسے آزادانہ اظہار رائے کی رکاوٹ کے ليے استعمال کيا جا سکتا ہے۔ پاکستان ميں انٹرنيٹ کی آزادی سے متعلق کام کرنے والی ايک کمپنی بائٹس کے ڈائريکٹر شہزاد امجد اس حوالے سے دعوٰی کرتے ہيں، ’حکومت نے پہلے ہی متعدد ويب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اب اس پروگرام کے تحت حکومت سياسی اظہار رائے کو کنٹرول کرنا اور روکنا چاہتی ہے‘۔ شہزاد امجد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی مطلب نہيں ہونا چاہيے کہ کوئی بھی شخص انٹرنيٹ پر کيا کرتا اور کیا دیکھتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنيوں کی ايسوسی ايشن کے سربراہ وحاجس سراج کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اس ممکنہ اقدام کے حق ميں ہيں اور يہ کہ عوام کی جانب سے اس کو سمجھنے ميں غلطی کی جا رہی ہے۔ ايسوسی ايشن کے سربراہ کے بقول دراصل يہ ايک مثبت قدم ہے اور کمپنيوں اور ايسے افراد کو جو انٹرنيٹ کے ذريعے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہيں، اس اقدام سے پريشان ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔ملک ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنياں پاکستان ٹيلی کميونيکيشن اتھارٹی کے ماتحت کام کرتی ہيں اور ان کمپنيوں کو پابنديوں سے متعلق ہدايات بھی اس سرکاری ريگوليٹری اتھارٹی کی جانب سے ہی دی جاتی ہيں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان ميں ديگر ايشيائی ممالک کی طرح کئی عرياں ويب سائٹس اور اسلام کے خلاف مواد پر مشتمل ويب سائٹس پر پابندی عائد ہے۔ جبکہ مختلف تنازعات کی بناء پر ماضی ميں عارضی طور پر يو ٹيوب اور فيس بک پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ پاکستان ميں ان دنوں انٹرنيٹ پر حکومتی نگرانی سخت بنانے کی يہ کوششيں اس وقت منظر عام پر آ رہی ہيں جب ملک ميں تيزی سے ترقی پانے والے ٹيلی وژن ميڈيا پر بھی پابندياں عائد کيے جانے کے امکانات موجود ہيں۔ اس سلسلے ميں پاکستان اليکٹرانک ميڈيا ريگوليٹری اتھارٹی کو تجاويز پيش کی جا چکی ہيں۔ اگرچہ وفاقی وزير اطلاعات فردوس عاشق اعوان ان تجاويز کے دفاع ميں کہہ چکی ہيں کہ ان کا مقصد منفی نہيں بلکہ ميڈيا کی ترقی کو فروغ دينا ہے، تاہم ملک ميں موجود تجزيہ نگار يہ دعوی کر رہے ہيں کہ يہ اقدامات آئندہ عام انتخابات سے قبل ميڈيا پر حکومت کے خلاف کی جانے والی تنقيد کو روکنے کے ليے ہيں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی مرکزی ریسرچ ایجنسی نے زمین پر دوڑنے والا اب تک کا تیز رفتار ترین روبوٹ تیار کیا ہے، جسے چیتا کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ روبوٹ 29 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ پینٹاگون کی’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی‘ (DARPA)کی طرف سے پیر پانچ مارچ کو جاری کی جانے والی تصاویر اور ویڈیو میں بغیر سر کے ایک چھوٹے کتے کے برابر اس روبوٹ کو ٹریڈ مِل پر دوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ DARPA کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق: ’’اس روبوٹ کے دوڑنے کا انداز تیز رفتار جانوروں کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ ہر قدم پر اپنی کمر کی حرکت کے ذریعے یہ روبوٹ اپنی رفتار بڑھاتا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایک چیتا کرتا ہے۔‘‘ اس روبوٹ چیتے نے ٹانگوں کے ذریعے چلنے اور دوڑنے والے روبوٹس کا رفتار کے حوالے سے اب تک کا ریکارڈ بھی توڑا ہے۔ ریسرچ ایجنسی کے مطابق اس سے قبل یہ ریکارڈ میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کے تیار کردہ ایک روبوٹ کے پاس تھا، جو 21.1 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا تھا۔ یہ روبوٹ 1989ء میں تیار کیا گیا تھا۔ ’چیتا‘ نامی یہ روبوٹ ایک عام انسان کے مقابلے میں زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے، تاہم یہ ابھی تک اولمپک چیمپئن یوسین بولٹ کی رفتار تک نہیں پہنچ سکا، جو 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ والٹہام Waltham میساچیوسٹس میں قائم بوسٹن ڈائنامکس میں DARPA کے ایک پروگرام ’میکسیمم موبیلٹی اینڈ مینیپولیشن‘ (MP3) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد روبوٹ ٹیکنالوجی میں بہتری لانا ہے۔پینٹاگون کی اس ریسرچ ایجنسی کو امید ہے کہ امریکی فوج جلد اس طرح کے روبوٹس کو نہ صرف سڑک کنارے نصب بموں کو ناکارہ بنانے بلکہ میدان جنگ کی صورتحال معلوم کرنے اور وہاں موجود خطرات کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کر سکے گی۔ DARPA کے بقول بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے پہلے ہی روبوٹس سے مدد لی جا رہی ہے، جس سے انسانی ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ان روبوٹس کے دوڑنے اور رفتار سے متعلق صلاحیت میں مزید بہتری کی صورت میں اس طرح کے کام زیادہ بہتر انداز سے ادا کیے جا سکتے ہیں۔یہ روبوٹ تیار کرنے والے ادارے بوسٹن ڈائنامکس کے چیف روبوٹکس سائنٹسٹ الفریڈ رِیزی کے مطابق دوڑنے والے اس روبوٹ کی قدرتی حالات میں آزمائش رواں برس کے اختتام تک کی جائے گی۔