گلگت بلتستان اس وقت نہایت نازک حالات سے گذر رہا ہےمرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان

Posted: 07/03/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

 

گلگت بلتستان : جغرافیائی اہمیت کے پیش نظربہت ساری سازشوں کی زدمیں بھی ہے اس صورت حال میں ملت جعفریہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان کے فرزندہونے کے ناطے ایساکرداراداکرے کہ مملکت خداداد پاکستان کے استحکام کے ساتھ گلگت بلتستان کی مکمل ترجمانی کرے ۔عمائدین ملت جعفریه
گلگت بلتستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ 28 فروری 2012 کو ضلع کوہستان میں رونما ہوا جس کی وجہ سے پورا علاقہ بالخصوص اور ملکی و بین الاقوامی انسان دوست سوسائٹی بالعموم سوگوار ہے اس دلخراش واقعہ کے باوجود ملت جعفریہ نے حب الوطنی اوردانشمندی کا مظاہرہ جاری رکھا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محترم جناب رحمان ملک صاحب کی جانب سے مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی .اور ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی حکومت ملت جعفریہ کی احساس محرومی کے ازالہ کیلئے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔ سانحہ کوہستان کے حوالے سے مختلف جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کی جانب سے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب رد عمل سامنے آیا ہے اور ہمیں امید ہے اظہار ہمدردی کے ساتھ مجرموں کو بے نقاب کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے تا کہ ملک دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کا عملی مظاہرہ ہو سکے ۔ گلگت بلتستان نے 1948 میں اپنی مدد آپ کے تحت اس علاقہ کو آزاد کرایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور یہی علاقے متنازعہ رہے اور ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو واضح کیا جائے اس حوالے سے ایک مذہبی تنظیم چترال اور کوہستان کو شامل کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ چترال نہ متنازعہ رہا ہے اور نہ ہی کوہستان اور ایسے مطالبات گلگت بلتستان کے حقوق سے دشمنی کے مترادف ہیں ۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان

Comments are closed.