Archive for 07/03/2012

سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ترجمان نے ممتاز سماجی شخصیت ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی کے موقع پر کہا کہ ملت جعفریہ نے ملک و ملت کی سلامتی اور قومی وحدت و اتحاد کے فروغ کے لئے قیمتی جانوں کی قربانی پیش کی ہیں۔سربراہ شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ترجمان نے میڈیا کے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں نظرثانی کی ضرورت ہے دونوں ممالک کے مابین تعلقات استوار کرنے سے قبل ملک کے مفادات، پاکستانی عوام کے تحفظات اور خواہشات کو مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کو ہی ترجیح دی ہے اور کبھی بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں رہا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں ملک کے محب طبقات اور باشعور عوام ایسا رویہ اب زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر پائیں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے داخلی حالات بارے امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کردہ شرانگیز قرارداد بین الاقوامی قوانین اور سفارتی و اخلاقی آداب کے بھی منافی ہے جو ملک کی خودمختاری اور آزادی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی اطراف و جوانب سے مختلف حیلے بہانوں کے ذریعہ امریکہ تعلقات میں بہتری کے لئے فقط اپنے مفادات کو مقدم رکھے ہوئے ہیں ایسی صورتحال میں ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ملک و قوم کے عزت و وقار اور خودمختاری کے مطابق فیصلے کریں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے مکمل سدباب کے لئے لائحہ عمل طے کریں۔  دریں اثناء سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ترجمان نے ممتاز سماجی شخصیت ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی کے موقع پر کہا کہ ملت جعفریہ نے ملک و ملت کی سلامتی اور قومی وحدت و اتحاد کے فروغ کے لئے قیمتی جانوں کی قربانی پیش کی اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ماہر اور قابل ترین شخصیات، علمائے کرام، ذاکرین عظام، انجینئرز، وکلاء، ڈاکٹرز اور اکابرین و کارکنان کے لاشے اٹھانے کے باوجود اپنی قیادت کے تدبر و تحمل پر مبنی طرز کو اختیار کرکے ملک کی داخلی استحکام کا دفاع کیا۔ ترجمان نے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی ملی و قومی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد ملی و قومی خدمت انجام دینے والے کارکنان کے لئے مشعل راہ ہے۔

امریکہ کے ساتھ 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے ساتھ کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح دوسرے موا زنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔عالمی میڈیا میں ایران پر ممکنہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے مختلف سماجی ویب سائٹس پر حال ہی میں اعداد و شمار پر مبنی ایک تصویری رپورٹ نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے، جس میں دنیا کے امن کو حقیقی خطرہ کے عنوان سے اب تک دونوں ملکوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار میں بیان ہو ا ہے کہ امریکہ کے پاس 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح  دوسرے موازنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی تیسری لائن میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء کے دوران امریکا کا جنگی و دفاعی بجٹ 687 بلین امریکی ڈالر تھا، جب کہ ایران کا دفاعی بجٹ صرف 7 بلین امریکی ڈالرز ہے۔ اسی طرح موازنے کی چوتھی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک 16 ممالک پر چڑھائی و جارحیت کرکے حملے اور قبضہ تک کیا ہے  لیکن ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی آخری اور پانچویں لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب بھی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور عالمی تنظیموں کے ذریعے پابندیاں لگانے میں مصروف ہے، جبکہ ایران اس حوالے سے دیگر ممالک پر پابندیاں و دخل انداز ی تو دور کی بات خود ہی پابندیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ مختلف سماجی وییب سائٹس پر اس سروے کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 میں فلسطینیوں پر یہودیوں کے ہفتہ وار حملوں میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں یہودی مہاجرین کی جانب سے مقامی فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسندی کے واقعات پر مبنی جارہ کردہ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 80 شہر ایسے ہیں جہان مقیم اڑھائی لاکھ فلسطینی شہری یہودی مہاجرین کی جانب سے شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کی زد میں ہیں۔ ان میں سے 76 ہزار فلسطینی شہری ایسے ہیں جنکو یہودی مہاجرین کی جانب سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینیوں پر ہفتہ وار حملوں کی تعداد میں جن میں انکا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے موجودہ سال 2011 میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ جبکہ 2009 کی نسبت 165 فیصد دیکھنے کو ملا ہے۔ بدھ کے روز اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق دفتر “اوچا” کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہودی مہاجرین کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات نے مقبوضہ فلسطین میں فلسطینی شہریوں کی جان، مال اور معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہودی مہاجرین کے شدت پسندانہ اقدامات قتل و غارت، فلسطینیوں کے اموال کی تخریب اور ان پر ناجائز قبضہ، انہیں اپنے کھیتوں میں جانے سے روکنے، انکی فصلوں پر حملہ کرنے اور انکے مویشیوں کو نقصان پہنچانے پر مشتمل ہیں۔اس رپورٹ میں ان شدت پسندانہ اقدامات کی ترویج اور اضافے کی ذمہ داری اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم پر عائد کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ایسے یہودی مہاجرین کی جانب سے کثرت کے ساتھ شدت پسندانہ اقدامات دیکھنے کو ملے جو غیرقانونی اجتماعات میں شریک تھے۔ یہ اجتماعات حکومت کی جانب سے اجازت لئے بغیر فلسطینی شہری علاقوں میں تشکیل پائے تھے۔ 2008 کے بعد یہودی بستیوں کے مکینوں نے فلسطینی شہریوں اور انکے اموال کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ وہ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں اور اسے غیرقانونی اجتماعات کو ختم کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ شدت پسندانہ اقدامات “انتقام گیری” نامی جامع منصوبے کے تحت عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2011 میں دس ہزار سے زیادہ درخت جن میں سے اکثر زیتون کے درخت تھے اور فلسطینی شہریوں سے متعلق تھے یہودی مہاجرین کے ہاتھوں اکھاڑ پھینکے گئے۔ یہ اقدام سینکڑوں فلسطینی شہریوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔ رپورٹ میں یہودی مہاجرین کی جانب سے ان شدت پسندانہ اقدامات کی اصلی وجہ اسرائیل کی پالیسیوں کو بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت نے غیرقانونی طور پر یہودی مہاجرین کو فلسطینی شہریوں کی سرزمین پر قبضہ کرنے میں مدد کی ہے اور انکی تشویق بھی کی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو یہودی مہاجرین کے حق میں اور کرانہ باختری میں مقیم 25 لاکھ فلسطینی شہریوں کے نقصان میں ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی شہریوں کی زمین پر یہودی مہاجرین کے ناجائز قبضے کو قانونی بنانے کی حکومتی کوششیں بھی شدت پسندی میں خاطرخواہ اضافے کا باعث بنی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی مہاجرین کے خلاف 90 فیصد مقدمات کی پیروی نہیں کی گئی اور کسی قسم کی عدالتی کاروائی سے گریز کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہودی مہاجرین کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہیں اور انکی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات کو نہیں روک پائے۔ یہودی مہاجرین کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہونے کی ایک اور بنیادی وجہ وہ قانون ہے جسکے مطابق فلسطینی شہری پابند ہیں کہ وہ ایف آئی آر کیلئے یہودی بستیوں میں موجود پولیس اسٹیشنز سے رجوع کریں جہاں تک رسائی ان کیلئے بالکل ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2011 میں 127 افراد نے یہودی مہاجرین کی جانب سے مسلسل حملوں سے تنگ آ کر اپنا آبائی علاقہ ترک کر دیا اور دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کر لی۔ یہودی مہاجرین کے حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کا نقل مکانی کر جانا انکے اہلخانہ پر انتہائی منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ یہ اثرات جو معاشرتی، معیشتی، احساساتی اور مادی حوالے سے ظاہر ہوتے ہیں لمبی مدت تک ان کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیلی حکام انسانی حقوق کے تقاضوں اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسند اور دہشت گردانہ اقدامات کو روکنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح انکا قانونی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ اب تک انجام پانے والے تمام دہشت گردانہ اقدامات کی تحقیقات کروائیں اور فلسطینی شہریوں کا ہونے والا نقصان پورا کریں۔

خانقاہ غوثیہ سرائے بالا میں زائرین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم ایک عرصہ دراز سے اپنی آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس راہ عزیمت میں ہم نے بیش بہا قربانیاں رقم کی ہیں۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے یکسوئی، اتحاد و اتفاق اور مکمل نظم و ضبط قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممبر و محراب، مساجد اور خانقاہوں کو منافرت اور تفرقہ بازی کا ذریعہ یا مرکز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری چار نسلیں جدوجہد کی راہ میں قربان ہو چکی ہیں اور تحریک کے تئیں یکسوئی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق خانقاہ غوثیہ سرائے بالا میں زائرین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس نے ہمیں روحانی قدروں کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا ہے۔ یہ دین ایک عملی دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے اور گوشے میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔حضرت پیر کامل شیخ عبدالقادر جیلانی رہ نے ہمیں دکھا دیا کہ اللہ کا ہو کر کس طرح اور کیسے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ حضرت شیخ کامل کی پاک زندگی سے ہمیں یہی درس ملتا ہے اور آج ہمیں بھی یہاں یہ عہد کرنا ہو گا کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنے ان روحانی پیروں کے فرمودات سے منہ نہیں موڑیں گے۔محمد یاسین ملک نے جملہ مسالک کے ذمہ داروں اور جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا اللہ ایک، ہمارا نبی  ایک، ہمارا کعبہ ایک، ہمارا قرآن ایک ہے تو ہم کیونکر ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائیاں کرتے پھرتے ہیں۔ کیا ہم سب کو اپنے نبی آخر زمان (ص)  کا وہ حکم یاد نہیں ہے جو اپنے آخری خطبے میں آپ (ص) نے ہمیں دیا تھا۔ کیا آپ (ص) نے نہیں فرمایا تھا کہ نمازوں، روزوں اور حج جیسی اعلیٰ ترین عملوں سے بھی بڑھ کر آپس میں اتحاد و اتفاق کا عمل بہتر اور ضروری ہے

بھارت کی ایک عدالت نے قتل کے مقدمے میں ملوث دو اطالوی فوجیوں کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے جیل میں مراعات کے لیے ان کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت پیر کو بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت میں ہوئی۔ اطالوی فوجیوں نے انہی مراعات کی درخواست کی تھی، جو اٹلی میں ملٹری کو جیل میں حاصل ہوتی ہیں، تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ بھارتی قانون کے مطابق جیل میں ایسی سہولتیں نہیں دی جا سکتیں۔ دونوں فوجیوں پر دو مچھیروں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے، جنہیں دراصل قزاق سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اطالوی فوجی گزشتہ ماہ تیل بردار ایک جہاز کی سکیورٹی پر تھے، جس وقت انہوں نے مچھیروں کی کشتی پر فائرنگ کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقعے نے بھارت اور اٹلی کے سفارتی تعلقات کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ روم حکومت کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا جبکہ نئی دہلی حکومت کا اصرار ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ بھارت قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ Guilio Terzi نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فوجیوں پر اطالوی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔تاہم نئی دہلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ہلاکتیں ایک بھارتی کشتی پر ہوئی ہیں اس لیے مقدمہ بھی بھارت میں چلنا چاہیے۔ اٹلی نے کیرالہ ہائی کورٹ میں بھی ایک علیحٰدہ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں دونوں فوجیوں Massimiliano Latorre اورSalvatore Girone کے خلاف مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پیر کو چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ اے کے گوپا کمار نے کہا کہ دونوں اطالوی شہریوں کو کیرالہ کے ریاستی دارالحکومت تھیرو انت پورم کی سینٹرل جیل بھیج دیا جائے۔ اعلیٰ پولیس اہلکار اجیت کمار نے اے ایف پی کو بتایا: ’’اطالوی شہریوں کو جیل میں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے اور انہیں ہر روز ایک گھنٹے کے لیے ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔‘‘ آئندہ دو ہفتوں میں ان کی عدالت میں پھر سے پیشی متوقع ہے۔ پولیس اہلکار الیگزینڈر جیکب نے کہا کہ ان اطالوی فوجیوں نے جیل میں ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور چوبیس گھنٹے سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔ جیکب نے کہا: ’’عدالت نے ان کی یہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں لیکن انہیں ایک خصوصی کمرہ دیا گیا ہے۔ بھارتی جیلوں میں کسی کو دی جانے زیادہ سے زیادہ لگژری سہولت یہی ہے۔‘‘

سانحہ کوہستان گلگت و بلتستان،  سانحہ پارہ چنار اور شہید حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ حافظ سید ثقلین نقوی کے غم میں ایک زبردست احتجاجی جلسہ عام مسجد و امام بارگاہ نیچاری علمدار روڈ کوئٹہ میں منعقد کیا گیا۔ جس میں تمام مقامی تنظیمیں شیعہ علماء کونسل بلوچستان ، بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزارہ قومی جرگہ،ایم دبلیو ایم کوئٹہ، ابوتراب اسکاوٹس اس احتجاج جلسہ عام میں مومنین نے بھرپور شرکت کی اور ان تازہ سانحات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا، اور حکومت سے احتجاج کیا۔ جلسہ سے علامہ مہدی نجفی صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل ، جناب محمد علی شاہ نائب صدر بلوچستان شیعہ کانفرنس، جناب مولانا سید ہاشم موسوی، حجت الاسلام والسلمین جمعہ اسدی، جناب میجر ریٹائررڈ نادر علی صاحب اور نے خطاب کیا۔ اس موقع پرعلما  نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک منظم سازش کے تحت پاکستان کے حالات کو خراب کیا جا رہا ہے اور مخصوصاً اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد کو زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ خطبا کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو تو ان واقعات سے کوئی فکر ہی نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری دیگر واقعات کا تو ازخود نوٹس لیتے ہیں لیکن گلگت بلتستان اور پارہ چنار جیسے انسانیت سوز واقعات انہیں نظر نہیں آتے۔ افسوس ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اور عدالتیں کسی کو بھی انصاف نہیں دے سکتیں۔ انهوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان سانحات میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے اور آخر میں شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبرجمیل کی دعا کی۔ تمام مقررین نے سانحہ کوہستان گلگت بلتستان اور سانحہ پاراچنار  اور علامہ حافظ سید ثقلین نقوی کے المناک شہادت پر حکومتی مجرمانہ غفلت کی شدید مذمت کی اور عدلیہ سے سخت نوٹس لینے اور حکومت سے دہشتگردوں کی گرفتاری کا پر زور مطالبہ کیا۔

 

گلگت بلتستان : جغرافیائی اہمیت کے پیش نظربہت ساری سازشوں کی زدمیں بھی ہے اس صورت حال میں ملت جعفریہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان کے فرزندہونے کے ناطے ایساکرداراداکرے کہ مملکت خداداد پاکستان کے استحکام کے ساتھ گلگت بلتستان کی مکمل ترجمانی کرے ۔عمائدین ملت جعفریه
گلگت بلتستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ 28 فروری 2012 کو ضلع کوہستان میں رونما ہوا جس کی وجہ سے پورا علاقہ بالخصوص اور ملکی و بین الاقوامی انسان دوست سوسائٹی بالعموم سوگوار ہے اس دلخراش واقعہ کے باوجود ملت جعفریہ نے حب الوطنی اوردانشمندی کا مظاہرہ جاری رکھا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محترم جناب رحمان ملک صاحب کی جانب سے مطالبات کی منظوری کیلئے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی .اور ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی حکومت ملت جعفریہ کی احساس محرومی کے ازالہ کیلئے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔ سانحہ کوہستان کے حوالے سے مختلف جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کی جانب سے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب رد عمل سامنے آیا ہے اور ہمیں امید ہے اظہار ہمدردی کے ساتھ مجرموں کو بے نقاب کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے تا کہ ملک دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کا عملی مظاہرہ ہو سکے ۔ گلگت بلتستان نے 1948 میں اپنی مدد آپ کے تحت اس علاقہ کو آزاد کرایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور یہی علاقے متنازعہ رہے اور ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو واضح کیا جائے اس حوالے سے ایک مذہبی تنظیم چترال اور کوہستان کو شامل کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ چترال نہ متنازعہ رہا ہے اور نہ ہی کوہستان اور ایسے مطالبات گلگت بلتستان کے حقوق سے دشمنی کے مترادف ہیں ۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان