Archive for March, 2012

خیرپور : مذہبی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مرکزی امام بارگاہ انجمن حیدری میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت معروف شیعہ عالم علامہ سید محمد عون نقوی نے کی جبکہ مولانا مظہر نقوی، مولانا غلام شبیر، حسن عباس کاظمی، صغیر عابد رضوی ، ظفر عباس ظفر، اصغر عباس ، اختر عباس اور قمر عباس زیدی مہمانان خصوصی تھے۔ علامہ محمد عون نقوی نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور کوئٹہ کے سانحات افسوس ناک ہیں جبکہ پورا ملک مذہبی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے لیکن حکمران مفاہمت کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچائے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوگا اس لئے دہشت گردی کو سختی سے کچلنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جلسہ عام میں ایک قرارداد منظور کر کے شہداء کے بچوں کو نوکریاں دینے اور دہشت گردی میں ملوث حکومتی افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

کراچی : انجمن وظیفہ سادات مومنین کی جانب سے قرآن خوانی و مجلس ترحیم برائے ایصال ثواب و بلندی درجات اراکین و ممبران انجمن اور دیگر مرحومین ہفتہ 31 مارچ کو شام 4 بجے امام بارگاہ رضویہ سوسائٹی میں ہوگی۔ سوز خوانی پروفیسر سبط جعفر و سلام اشرف عباس ، علامہ رضی جعفر نقوی خطاب کریں گے

حیدرآباد : سندھ ترقی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین حیدر شاہانی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ میں حالات خراب کرکے نیا صوبہ بنانے کا جواز پیدا کررہی ہے۔ پریس کلب میں ایس ٹی پی کے مرکزی رہنماؤں ہوت خان گاڈھی و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹنڈوالہیار میں مسلح افراد نے ایس ٹی پی آفس پر حملہ کرکے ایک کارکن کو شہید جبکہ دس سے زائد کارکنوں کو زخمی کردیا‘ اس موقع پر صورتحال خراب ہونے کے باوجود پولیس غائب تھی‘ بعد ازاں رینجرز پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعہ کسی پلاٹ کا تنازعہ نہیں تھا وہاں پارٹی کا دفتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام سندھ کی وحدت پر وار کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں‘ ان کا جینا مرنا سندھ کے ساتھ ہے‘ لسانی تنظیم اردو بولنے والوں کو بدنام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹنڈوالہیار اور کراچی میں دو کارکنوں کی شہادت کے بعد بھی ایس ٹی پی اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کررہی ہے‘ ہمارے لئے سندھ کی یک جہتی و امن اہم ہے

کراچی: بھارتی فوج میں رشوت اسکینڈل نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکمراں پارٹیوں کے ارکان لوک سبھا اور ارکان راجیہ سبھا نے اپنی قیادت سے سوالات شروع کردیئے ہیں جبکہ وزیردفاع نے بھی اس معاملے پرصدرپرتیبھاپاٹل سے ملاقات کی ہے، خصوصی ذرائع سے معلوم ہواہے کہ آرمی چیف وی کے سنگھ کی صدر جمہوریہ آفس میں جمعہ کے روز طلبی ہوگئی ہے جبکہ ہفتہ کے روز پرائم منسٹر نے بھی آرمی چیف کو طلب کیا ہے۔ ادھر اپوزیشن نے آرمی چیف کی تقرری پر اپنے اعتراضات کو حکمراں پارٹی کے سامنے دہرایا ہے،کہا جارہا ہے کہ جب سونیا گاندھی کی طرف سے وی کے سنگھ کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو اپوزیشن رہنما ایل کے ایڈوانی نے اس پر اعتراض کیاتھا اورکہا تھاکہ وہ بھارتی فوج کیلئے بدنما داغ ثابت ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر جمہوریہ پرتیبھاپاٹل نے وزیر دفاع کو بھی جمعرات کے روز بلایا تھا اور طویل دورانئے کی ملاقات میں آرمی چیف کے رشوت معاملہ پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ادھر سی بی آئی کے سربراہ نے جمعرات کے روز صدر جمہوریہ کو بھارتی آرمی چیف کی طرف سے ملنے والی دستاویز دکھائی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کے آئے دن کے بیانات نے وزارت دفاع اور وزیر دفاع کو مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کیلئے اتوار کے روز پرائم منسٹر نے نامزد آرمی چیف کو پرائم منسٹر ہاؤس بلایا ہے تاکہ اس معاملے میں درست دستاویز پارلیمنٹ میں لاکر ایوان کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

کراچی : کوئٹہ، کراچی میں دہشت گردی کی پرزو مذمت کرتے ہیں، گورنر بلوچستان کو برطرف کیا جائے۔ چیف جسٹس پاکستان ٹارگٹ کلنگ کیخلاف اقدام کریں، حکومت ہوش کے ناخن لے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اگر شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ نہیں رکا تو پھر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا، ان خیالات کا اظہار کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف خراسان امام بارگاہ سے نکالے جانے والے ماتمی جلوس سے مجلس وحدت مسلمین کراچی کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، اس کے علاوہ آزاد عدلیہ بھی مظلوموں کی دادرسی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، چیف جسٹس پاکستان شیعہ نسل کشی کیخلاف اقدام کریں، رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں شہید کئے جانے والے طاہر جعفری کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔

کراچی (پ ر) ادارہ تبلیغ تعلیمات اسلامی پاکستان کے سربراہ مولانا محمد عون نقوی نے ملیر بار کے سابق صدر صلاح الدین حیدر ایڈووکیٹ اور ان کے صاحبزادے علی رضا ایڈووکیٹ کے قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے سربراہان عوام کے قتل عام کو رکوانے کے بجائے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظالم کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو ملت جعفریہ راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوگی۔

میلان: اٹلی میں ٹیکس پولیس نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی ہدایت پر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے خاندان کے ارکان کے ایک ارب 10 کروڑ یورو(ایک ارب46کروڑڈالر) کے اثاثے، بشمول اٹلی کی نمایاں کمپنیوں کے حصص ،بینک ڈپازٹس اور موٹر بائیک ہارلے ڈیوڈسن ، ضبط کرلئے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز ایک بیان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضبط کئے گئے اثاثوں میں اٹلی کے سب سے بڑے بینک یونی کریڈٹ میں حصص،تیل وگیس کے بڑے ادارے ای این آئی ،دفاعی ادارے فن میکانیکا ،کاربنانے والی کمپنی فیٹ،ٹرک بنانے والے ادارے فیٹ انڈسٹریل اورتورین میں قائم فٹبال کلب جوینٹس میں حصص شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام متعلقہ کمپنیوں اوراداروں کو نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل گاوینوپٹوزونے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تمام ضبط کئے گئے اثاثے لیبیا کے خودمختارفنڈ،لیبین انوسٹمنٹ اتھارٹی ،میں قذافی خاندان کی طرف سے رکھے گئے تھے

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے ايران پر تيل درآمد کرنے کي نئي پابندياں عائد کرنے کي منظوري دے دي ہے.غيرملکي خبر ايجنسي نے امريکي کانگريس کے حکام کے حوالے سے بتايا کہ صدر اوباما سمجھتے ہيں کہ دنيا ميں ايسے ممالک کي تعداد زيادہ ہے جو ايران سے زيادہ تيل سپلائي کرتے ہيں.صدر اوباما کا خيال ہے کہ ايران پر تيل کي پابنديوں سے تيل کي طلب ميں فرق نہيں پڑے گا.امريکي صدر کا مزيد کہنا ہے کہ تيل پيداکرنے والے ممالک کي جانب سے پيداوار بڑھانے،معاشي صورتحال اور تيل کے موجودہ ذخائر کي روشني ميں ايران پر تيل کي پابنديوں کو فيصلہ کيا گيا ہے.

کراچي ميں پر تشدد کارروائيوں ميں گذشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے نتيجے ميں مرنے والوں کي تعداد 14 ہوگئي. ايم کيو ايم رابطہ کميٹي کي جانب سے آج پرامن يوم سوگ کي اپيل کي گئي. تازہ ترين ہلاکت اورنگي ٹاو?ن سے رپورٹ ہوئي جہاں پوليس کے مطابق 40سالہ صلاح الدين کي گوليوں سے چھلني لاش ملي. اس کے علاوہ کورنگي کراسنگ پر نامعلوم شرپسندوں نے واٹر ٹينکر کو آگ لگانے کي کوشش کي جس کے دوران ڈرائيور جھلس گيا. علي الصبح فائرنگ کے واقعات کورنگي نمبر 6، اورنگي ٹاو?ن علي گڑھ بازار اور گلبہار ميں پيش آئے . واضح رہے کہ گذشتہ رات اورنگي ٹاو ن کے علاقے بنارس پل کے قريب موٹر سائيکل اور کار سوار افراد پر مسلح افراد نے فائرنگ کردي جسکے نتيجے ميں پانچ افراد زخمي ہوگئے، جنہيں فوري طور پر عباسي شہيد اسپتال منتقل کرديا گيا. دوران علاج چار افراد دم توڑ گئے جن ميں باپ وسيم اور بيٹا احسن بھي شامل ہيں. بنارس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں ميں حالات کشيدہ ہوگئے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگيا جسکے نتيجے ميں اورنگي دس نمبر ميں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ايک شخص کو ہلاک کرديا. يوپي موڑ پر نامعلوم مسلح افراد نے خان کوچ کے ڈرائيور کو قتل کرديا. ڈيفنس فيز ٹو ميں پيٹرول پمپ پر مسلح ملزمان نے گاڑي نمبراے ايل اے097 پر فائرنگ کردي جسکے نتيجے ميں کار کا ڈرائيورذوہيب ہلاک ہوگيا جبکہ اسکا ايک ساتھي زخمي ہوگيا. ايم کيو ايم رابطہ کميٹي کي جانب سے آج پرامن يوم سوگ ، اور دکانداروں اور تاجروں سے کاروبار بند رکھنے کي اپيل کي گئي ہے

کراچی (پ ر) تحریک حسینیہ پاکستان کے مرکزی صدر مولانا اکرام حسین ترمذی نے کہا کہ قتل و غارت گری اور توڑ پھوڑ کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں۔ بے گناہ اور نہتے عوام کا خون بہانے والے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ حکومت وقت نے خوں خوار درندوں کیخلاف کارروائی نہیں کی تو پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں شہر میں امن کے قیام میں مدد کریں کیونکہ بدامنی سے ملک کی ترقی متاثر ہورہی ہے اور ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ہلاک ہونیوالوں کیلئے دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی جبکہ زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔

کوئٹہ ميں گزشتہ روزاسپني روڈ پر فائرنگ اور بعد ميں ہنگامہ آرائي کے دوران آٹھ افراد کي ہلاکت کے واقعات کے خلاف شٹر ڈاون ہڑتال کي جارہي ہے،دوسري جانب واقعہ ميں جاں بحق افراد کي تدفين آج سہ پہر ہزارہ قبرستان ميں کردي گئي . اسپني روڈ پرفائرنگ کے واقعہ ميں چھ افراد اور بعد ميں احتجاج اور ہنگامہ آرائي کے دوران دو مزيد افراد کي ہلاکت کے خلاف شہر ميں ہزارہ ڈيموکريٹک پارٹي اورپشتونخواملي عوامي پارٹي کي جانب سے شٹر ڈاون ہڑتال کي کال دي گئي تھي، ہڑتال کي حمايت اے اين پي، بي اين پي، جے ڈبليو پي اور مرکزي انجمن تاجران نے بھي کي تھي، جس کے نتيجے ميں آج لياقت بازار،عبدالستارروڈ،جناح روڈ،قندہاري بازار،طوغي روڈ، مري آباد،مسجدروڈ،بروري،پشتون آباد،نواں کلي اوراس سے ملحقہ علاقوں ميں اہم کاروباري مراکز بندہيں اور ٹريف بھي معمول سے کم ہے، اس موقع پر اسکولوں و دفاترميں حاضري بھي کم رہي،کوئٹہ شہر ميں کسي بھي ناخوشگوارواقعہ سے نمنٹنے کيلئے پوليس کي بھاري نفري بھي تعينات کي گئي ہے اور مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر بھي خصوصي انتظامات کئے گئے تھے، تاہم شہر کے کسي حصے سے اب تک کسي ناخوشگوارواقعہ کي اطلاع موصول نہيں ہوئي، دوسري جانب سپني روڈ کے واقعہ ميں چھ افراد کي ہلاکت کے حوالے سے علمدارروڈ،ہزارہ ٹاون،مري آباد، نيچاري اور ملحقہ علاقوں ميں سوگ کي کيفيت ہے اور واقعہ ميں جاں بحق ہونے، دوسري جانب واقعہ ميں جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کي تدفين ہزارہ قبرستان ميں کردي گئي،تدفين ميں لواحقين کے علاوہ لوگوں کي بڑي تعداد نے شرکت ک

کوئٹہ ميں آٹھ افرادکي ہلاکت کيخلاف آج شٹر ڈاون ہڑتال کي کال دي گئي ہے . کوئٹہ کے علاقے اسپني روڈ پر وين پر ہونے والي فائرنگ ميں پانچ افراد اور اس کے بعد ہونے والي ہنگامہ آرائي ميں ايک پوليس اہلکار سميت تين افراد جاں بحق ہوگئے تھے. فائرنگ کے واقعے ميں جاں بحق چھ افراد کي تدفين کا عمل جمعے کي صبح تک کيلئے ملتوي کرديا گيا ہے. اسپني روڈ وين فائرنگ واقعہ کا مقدمہ رازق علي نامي شخص کي مدعيت ميں نامعلوم افراد کے خلاف درج کيا گيا ، دوسري جانب اسپني روڈ پر ہنگامہ آرائي کے دوران جاں بحق پوليس اہلکار حکم زمان کے قتل کا مقدمہ ايس ايچ او بروري کي مدعيت ميں درج کرليا ہے. پوليس نے تينوں نامزد ملزمان افراد غلام يحي?ي، ذوالفقار اور عبداللہ کو گرفتار کرليا ہے. کوئٹہ ميں جمعے کي ہڑتال کا اعلان ہزارہ ڈيموکريٹ پارٹي اور پشتونخواہ ملي عوامي پارٹي نے کيا ہے جس کي حمايت عوامي نيشل پارٹي ،تحفظ عزاداري کونسل،بي اين پي،جے ڈبليو پي اور مرکزي انجمن تاجران نے کي ہے.

ميانوالي…پنجاب کيضلع ميانوالي ميں کئي مقامات پر لوہے کے وسيع ذخائر کا انکشاف ہوا ہے.محکمہ معدنيات پنجاب کے ماہرين ارضيات کي ٹيم نے ضلع ميانوالي کے مختلف علاقوں کا جيالوجيکل سروے کيا. جس کے دوران عيسي? خيل کے علاقوں چچالي، چاپري، مکڑوال اور محبت خيل ميں معدني لوہے کے ذخائر کا انکشاف ہوا. ماہرين کے مطابق يہ ذخائر 50 سال تک کي صنعتي ضروريات کے لئے کافي ہيں

جنوبی کوریا میں آج ختم ہونے والی ایٹمی سلامتی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے آخری دن شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جوہری دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ تعاون کیا جانا چاہیے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی اس دوسری بین الاقوامی سربراہی کانفرنس میں 53 ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔  کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرنے والوں میں امریکی صدر باراک اوباما بھی شامل تھے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا،’ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ آج بھی موجود ہے۔ دنیا میں ابھی بھی بہت سے برے عناصر خطرناک ایٹمی مادوں کی تلاش میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں سے جوہری مادے ایسے عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔‘امریکی صدر کے بقول کسی ایٹمی تباہی کے لیے بہت سے جوہری ہتھیار یا مادے درکار نہیں ہوں گے بلکہ ایسے تھوڑے سے مادے بھی لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس کی روشن مثال ہیرو شیما اور ناگاساکی ہیں دو سال پہلے باراک اوباما کی تحریک پر اس طرح کی پہلی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی۔ سیول میں آج ختم ہونے والی کانفنرس میں مندوبین کی توجہ کا مرکز اس بارے میں تبادلہ خیال رہا کہ ایٹمی تنصیبات اور جوہری مادوں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے زیادہ سے زیادہ محفوظ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔خاص کر اسرائیل اور امریکہ مین آج ہی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک نے کہا کہ ایٹمی مادوں کے استعمال کو ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کے لیے بڑی پیش رفت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری مادوں کی اسمگلنگ کا پتہ چلانے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ بین لاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔سیول کانفرنس میں مرکزی ایجنڈے سے ہٹتے ہوئے شمالی کوریا کے متنازعہ راکٹ منصوبے پر سخت تنقید بھی کی گئی۔ شمالی کوریا یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپریل میں ایک دور مار راکٹ کے ذریعے اپنا ایک سیٹلائٹ زمین کے مدار میں چھوڑے گا۔ کمیونسٹ کوریا کے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ کئی دوسری ریاستوں کو بھی اس منصوبے پر شدید اعتراض ہے۔ سیول کانفرنس کی دوسرے دن کی کارروائی کچھ دیر کے تعطل کا شکار بھی ہو گئی۔ اس کی وجہ برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جزائر فاک لینڈز کی وجہ سے پایا جانے والا تنازعہ بنا۔ اس حوالے سے ارجنٹائن کے وزیر خارجہ نے لندن حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک ایسی برطانوی آبدوز مبینہ طور پر جنوبی بحر اوقیانوس کے علاقے میں بھیج دی ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کی جا سکتی ہے۔سیول کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اسے مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنے لب و لہجے میں کافی نرم قرار دیا ہے۔ اس میں ایسے اقدامات کی کوئی ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی کہ ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مادوں کو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے کس طرح بچایا جائے گا۔ اس اعلامیے میں کانفرنس میں شریک ملکوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کو محفوظ تر بنائیں گے۔ ساتھ ہی وہ اپنے ہاں انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کے ذخائر میں بھی زیادہ سے زیادہ کمی کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شمالی کوریا اور ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام شامل نہیں تھے۔ ان دونوں ملکوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ چند ناقدین کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس ایک ‘ٹاک شاپ‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی جس میں محض وقت اور پیسے کا ضائع کیا  اور کوئی ٹھوس فیصلے نظر نہ آئے۔

شامی حکومت صدر بشارلاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کسی سمجھوتے پر رضامند دکھائی دی ہے۔ شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تصدیق کی ہے کہ دمشق حکام نے چھ نکاتی امن منصوبہ تسلیم کر لیا ہے۔ عنان کے بقول یہ شام میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شام میں خونریزی رکوانے کے لیے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا  گیا تھا، جس میں شامی فورسز کی جانب سے جنگ بندی، زخمیوں کو طبی امداد اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے لڑائی میں روزانہ دو گھنٹے کا وقفہ اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل چین اور روس بھی کوفی عنان کی حمایت کر چکے تھے

پاکستانی سياستدان عمران خان اور متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی کے مابين تنازعہ گزشتہ دنوں سوشل ميڈيا پر عوام اور بلاگرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ پاکستانی کرکٹ کے سابق ستارے اور حاليہ سياستدان عمران خان نے رواں ماہ بھارت ميں ايک کانفرنس ميں شرکت سے انکار کر ديا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اس تقريب کا حصہ بننے سے انکار اس ليے کيا کيونکہ اس ميں بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی کی شرکت بھی متوقع تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ رشدی اپنی متنازعہ کتاب کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ بس يہی وجہ تھی کہ عمران ان کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔ ادھر عمران خان کی يہ بات سلمان رشدی کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں عمران خان کو سخت تنقيد کا نشانہ ہی نہيں بنايا بلکہ ذاتيات کی ايک نئی جنگ چھيڑ دی۔ اب ادھر رشدی پاکستانی سياستدان کو ’عِم دا ڈم‘ کے نام سے پکارتے ہيں تو دوسری طرف عمران اس متنازعہ مصنف کو ’چھوٹی ذہنيت‘ کا حامل قرار ديتے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق رشدی تو اب يہ بھی اعلان کر چکے ہيں کہ وہ عمران خان کے بارے میں ايک کتاب بھی لکھيں گے۔ يہ معاملہ گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان ميں فيس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دونوں ممالک اور مغربی دنيا ميں بھی اس موضوع پر بلاگرز نے اپنے خيالات کا اظہار کيا۔ دی انڈیپينڈنٹ بلاگ ويب سائٹ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے جان ايليٹ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں تقرير کے ليے اپنے مقررہ وقت کو بطور مصنف اپنے آپ کو مزيد منوانے کے بجائے محض عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے ليے استعمال کيا۔ بلاگر کے بقول وہ اس اقدام کے ذريعے شہرت حاصل کرنے ميں کامياب ضرور ہوئے ہيں جس کی بدولت ان کی کتاب کی فروخت بڑھے گی۔پاکستان سے روزنامہ ڈان کے آن لائن ايڈيشن کے ليے لکھتے ہوئے نديم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ يہ معاملہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے اور اگر رشدی عمران خان پر واقعی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو يہ تنازعہ پھر سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔ ڈان کے انٹرنيٹ ايڈيشن پر شائع ہونے والے اس بلاگ ميں نعيم اللہ شاہ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی، عمران خان کا نام استعمال کرتے ہوئے ميڈيا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ مزيد مشہور ہو سکيں۔ دوسری جانب دی نيو يارک ٹائمز کے بھارتی ايڈيشن ميں انٹرنيٹ پر شائع بلاگ ميں ہيدر ٹمنز لکھتی ہيں کہ سلمان رشدی بھارت ميں تيزی سے ایک آزاد خيال رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتے جا رہے ہيں۔ فيس بک اور ٹوئٹر پر ان دنوں بھی عوام کی ايک بڑی تعداد اس معاملے پر کھل کے اپنے خيالات کا اظہار کر رہی ہے۔ ديکھنا يہ ہے کہ يہ تنازعہ آگے چل کر کيا رخ اختيار کرتا ہے۔

پولیس کی حراست میں ايک مقامی شخص کے ساتھ مبينہ طور پر جنسی تشدد اور اس کی موت کی خبريں منظر عام پر آنے کے بعد روسی شہر کزان ميں چند مزيد افراد نے مقامی پوليس کے خلاف جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کراديں۔ جب دارالحکومت ماسکو سے تفتیش کاروں کی ايک ٹيم باون سالہ روسی باشندے Sergei Nazarov کے ساتھ پولیس کی حراست میں جنسی تشدد اور موت کی رپورٹوں پر تفتيش کے ليے کزان پہنچی، تو وہاں مزيد چاليس افراد پوليس کی حراست کے دوران جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کرانے کے ليے موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد تفتیش کاروں کی ٹيم نے ڈيلنی پوليس اسٹيشن کے سات متعلقہ اہلکاروں کو حراست ميں لے ليا ہے اور ٹيم تين مزيد واقعات کی تفتيش کر رہی ہے۔ وسطی روس کے شہر کزان ميں واقع ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں مبينہ طور پر تشدد کا شکار بننے والے بائيس سالہ Oskar Krylov يہ الزام عائد کرتے ہيں کہ گزشتہ سال اکتوبر ميں پوليس نے انہيں مشتبہ طور پر چوری کے الزام ميں گرفتار کرنے کے بعد جنسی تشدد کا شکار بنايا۔ اے ايف پی سے بات کرتے ہوئے Krylov نے کہا، ’Sergei Nazarov کا انجام ديکھتے ہوئے ميں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کيونکہ ميں زندہ ہوں اور ميری صحت ٹھيک ہے‘۔اگرچہ مقامی ميڈيا کی متعدد رپوٹيں ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں پوليس کے مبينہ تشدد کی نشاندہی کرتی آئی ہيں، کزان کے پوليس اہلکار ان الزامات کی ترديد کرتے ہيں۔ خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کزان کے پوليس چيف Rustem Kadyrov کا کہنا تھا کہ لوگوں کو پوليس پر بھروسہ کرنا چاہيے۔ انہوں نے مزيد کہا، ’ايک شرمناک واقعے کی بناء پر پورے ادارے کو الزام دينا درست نہيں ہے‘۔ دوسری جانب ملک ميں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظيميں کزان کے پوليس چيف کے بيان سے اتفاق نہيں کرتیں۔ کزان رائٹس سينٹر کے ڈائريکٹر Igor Sholokhov کا کہنا ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے پوليس تشدد سے متعلق سترہ فائلز استغاثہ کو جمع کروائی ہيں۔ ان کے مطابق پانچ کيسز ميں ملزمان کی موت بھی واقع ہو چکی ہيں۔ البتہ Sholokhov کا دعوٰی ہے کہ يہ صورتحال محض Tatarstan تک محدود نہيں بلکہ ملک کے ديگر حصوں ميں بھی جيلوں ميں مختلف مظالم جاری ہيں۔ اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے روسی صدر Dmitry Medvedev نے ملکی پوليس کے نظام کو بہتر بنانے کو کافی ترجيح دی تھی ليکن پچھتر فيصد روسی عوام کا ماننا ہے کہ نظام ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے

عراق یا افغانستان میں فرائض انجام دینے کے بعد لوٹنے والے امریکی فوجیوں میں روزانہ سر درد معمول کی بات ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جو امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جنگی فرائض انجام دینے کے بعد  وطن لوٹتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی دماغی چوٹ یا بڑے دھچکے کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فوجیوں میں سے ہر پانچویں فوجی کو مہینے میں کم از کم پندرہ دن سر میں مستقل درد رہتا ہے۔ اس جائزے کے دوران بہت سے فوجی روزانہ بنیادوں پر سر درد کے مریض پائے گئے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج امریکی میڈیکل ریسرچ میگزین Headache کے تازہ شمارے میں شائع ہو گئے ہیں۔ اس طبی تحقیقی سروے کے دوران امریکی فوج کے محققین نے قریب ایک ہزار فوجیوں کے موجودہ اور پرانے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ یہ سارے فوجی ایسے تھے جنہیں عراق یا افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے یا چھوٹی بڑی دماغی چوٹ کا سامنا رہا تھا۔اس سروے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ان فوجیوں میں سے ہر پانچواں یا مجموعی طور پر قریب بیس فیصد فوجی بار بار ہونے والے سر کے ایسے درد کا شکار رہتے ہیں جسے مستقل بنیادوں پر روزانہ سر درد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں سے ہر ایک کم از کم بھی تین مہینے تک اس سر درد کا شکار رہا۔ ان ایک ہزار امریکی فوجیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے تھے جنہیں ہر روز کئی کئی گھنٹے تک شدید سر درد رہتا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق جن امریکی فوجیوں کو مستقل سر میں درد رہتا تھا، ان میں کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے کے بعد پائے جانے والے جذباتی یا اعصابی دباؤ کے عارضے PTSDکے واضح آثار بھی پائے گئے۔ اس کے برعکس دیگر فوجیوں میں جنہیں مسلسل سر درد کی شکایت نہیں تھی، ایسے کسی دباؤ کے کوئی آثار دیکھنے کو نہ ملے۔طبی ماہرین اس حالت سے پہلے کے دھچکے کو Concussion کا نام دیتے ہیں۔ ‘کن کشن‘ کسی ذہنی دھچکے کی وجہ سے دماغ کو لگنے والی وہ ہلکی سی چوٹ ہوتی ہے جس کے بعد عموما سر درد کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ فوجی اہلکار کتنی بڑی تعداد میں ایسے کسی ذہنی دھچکے کے بعد سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ اس سے پہلے عام اندازہ یہ تھا کہ اگر کسی Concussion کے بعد متعلقہ فرد دائمی سر درد کا مریض بن جاتا ہے تو یہ شرح بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس طبی تحقیقی جائزے کی سربراہی امریکی فوج کے ریاست ٹیکساس میں تعینات میجر بریٹ تھیلر نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار کے قریب فوجیوں کی صحت اور ان کے میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ وہ سارے فوجی عراق یا افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں وہاں ’کن کشن‘ کا سامنا بھی رہا تھا۔ میجر بریٹ تھیلر کے مطابق ایسے 98 فیصد فوجیوں نے امریکا واپسی کے بعد بار بار سر کے درد کی شکایت کی۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن نے پاکستان میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم کو بچانے کے لیے پاکستان کو بعض اہم رعایتوں کی پیشکش کی تھی مگر پاکستانی حکام نے انہیں ٹھکرا دیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے جنوری میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے لندن میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کو آئندہ ڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کی پیشکش کی تھی۔ ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ سی آئی اے کے سربراہ نے نشانہ بنائے جانے والے اہداف پر نئی حدود کے اطلاق کی بھی پیشکش کی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے والے دو پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ جنرل پاشا نے پاکستانی پارلیمان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین پر سی آئی اے کے خود مختار ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یہ مطالبہ کرے گا کہ امریکا دہشت گردوں کے بارے میں معلومات پاکستانی سکیورٹی فورسز کو فراہم کرے تا کہ وہ خود ان عسکریت پسندوں کا تعاقب کریں یا پھر ان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کریں۔ گزشتہ برس مختلف ایسے واقعات پیش آئے تھے جن کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ سی آئی اے کے ایک سکیورٹی افسر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل، مئی میں اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی کارروائی میں ہلاکت اور نومبر میں پاکستان کی ایک سرحدی چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔اس کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف ملک سے گزرنے والی نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی بلکہ امریکیوں سے بلوچستان کی شمسی ایئر بیس بھی خالی کروا لی جہاں سے مبینہ طور پر ڈرون طیارے اڑا کرتے تھے۔ فوجی سطح پر تعاون میں پاکستانی اہلکاروں کو تربیت دینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال دیا گیا اور پاکستان نے امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی شرکت سے انکار کر دیا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمان نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ بعض دیگر امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاشا پیٹریاس ملاقات میں پاکستان کو کسی قسم کی رعایتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب جنوری میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو اس وقت امریکی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ جلد ہی آئی ایس آئی کے سربراہ تبدیل ہو جائیں گے۔ اے پی کے مطابق امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ سفارتی تناؤ کے باعث کہیں پاکستان میں ڈرون حملوں کا پروگرام روکنا نہ پڑ جائے۔ لانگ وار جرنل ویب سائیٹ کے اہلکار Bill Roggio کے مطابق آٹھ برسوں کے دوران پاکستان میں کل 289 ڈرون حملے کیے گئے جن میں 2,223 مشتبہ عسکریت پسند، دہشت گرد اور طالبان ہلاک ہوئے۔ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ان ڈرون حملوں میں کافی کمی واقع ہو چکی ہے

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل نے عالمی القدس ملین مارچ کو عرب ممالک کے اندر سے گذرنے کی اجازت دینے اور اسے مقبوضہ فلسطین کی سرحد تک لانے میں معاونت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صہیونی حکومت کا کہنا ہے کہ القدس ملین مارچ کے پس پردہ “اسرائیل دشمن” قوتیں کار فرما ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اردن، شام، لبنان اور مصر سمیت مختلف عرب اور اسلامی ممالک کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو القدس ملین مارچ کے شرکا کو گذرنے کے لیے راستہ فراہم نہ کریں۔ ان خطوط میں خبردار کیا گیا ہے کہ صہیونی حکومت ملین مارچ کو اسرائیلی حدود کے قریب آنے سے روکنے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔ اسرائیل نے پڑوسی عرب ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ القدس ملین مارچ کی راہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں، کیونکہ یہ احتجاجی جلوس خطے میں ایک نئے کشیدگی کا محرک بن سکتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی حکام نے بھی القدس ملین مارچ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ فوج کی مختلف یونٹوں کو مصر اور اردن کی سرحدوں پر تعینات کرنے سے قبل انہیں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے خصوصی تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں تمام جنگی ساز و سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ القدس ملین مارچ کی منتظم کمیٹیوں نے بیت المقدس کے لیے قافلوں کو روانہ کرنے اور فلسطین کی سرحد پر جمع کرنے کے لیے 30 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ القدس ملین مارچ کی منتظم اور رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اس قافلے میں دنیا بھر کی 700 تنظیمیں اور 64ممالک کے عوام شرکت کریں گے۔ادھر دنیا کے سات میں سے چھ براعظموں میں سرگرم تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس کی طرف ملین مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کرانے کے لیے صہیونی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی منظم کیے جا رہے ہیں

برسلز:  فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودیوں کے فلسطینیوں پر حملوں میں تیزی کا ایک نیا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ یورپی یونین کے عہدیداروں کی جانب سے ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے جسے انہوں نے اپنے تئیں خفیہ رکھا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2011 میں انتہا پسند یہودیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں کم سے کم 411 حملے کیے جن میں ایک فلسطینی شہید، درجنوں زخمی اور بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی املاک کو تباہ کیا گیا۔مرکز اطلاعات فلسطین کو یورپی یونین کے عہدیداروں کی جانب سے تیار کردہ اس رپورٹ کے اعدادوشمار ملے ہیں جن میں فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے حملوں کو”جارحانہ” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2010 کی نسبت سنہ 11 میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملوں میں تین گنا اضافہ کیا۔ 2010 میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی املاک پرکل 132 حملے رجسٹرڈ کیے گئے تھے جبکہ گذشتہ برس رجسٹرڈ حملوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر گئی ہے۔یورپی عہدیداروں نے رپورٹ کی تیاری کے ساتھ ساتھ صہیونی سیکیورٹی حکام اور حکومت کے کردار کا بھی تجزیہ کیا ہے جس کے بعد کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت دانستہ طور پر انتہا پسند یہودیوں کی کارروائیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ مغربی کنارے میں جہاں یہودی آباد کاروں کو ہرقسم کا تحفظ اور شہری سہولتوں کا حق حاصل ہے وہیں ، عربوں، فلسطینیوں اور غیریہودیوں کو بھی اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی حکومت اور فوج کی پالیسی سے ایسے لگتا ہے گویا وہ فلسطینیوں کے ساتھ دانستہ طور پر امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے گذشتہ ایک برس کے دوران مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے مکانات پر حملے کر کے انہیں گرا دیا، فلسطینیوں کے فصلوں سے لہلاتے کھیت اجاڑ دیے گئے۔ کم سے کم ایک سال کے دوران زیتون کے دس ہزار درخت جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے یا انہیں جلا دیا گیا۔دوسری جانب اسرائیلی انتظامیہ کے انصاف کا یہ حال ہے کہ اس نے فلسطینی شکایت کندگان کی شکایت پر کان دھرنے کے بجائے الٹا انہیں زد و کوب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ فلسطینیوں کی نوے فی صد شکایات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔رپورٹ میں مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد اور ان کے فلسطینیوں پر حملوں کے بارے میں لکھا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں تین لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ 200 سے زیادہ مقامات میں ٹھہرائے گئے ہیں۔ یہودی آباد کار فلسطینیوں حملے کرتے رہتے ہیں لیکن اسرائیلی فوج اور پولیس اس وقت وہاں جاتے ہیں جب وہ فلسطینی جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انتہا پسند یہودیوں کو تو اپنی کارروائیوں کی کھلی چھٹی ہوتی ہے لیکن قابض اسرائیلیوں پر جب فلسطینی جوابی کارروائی کے تحت حملہ کرتے ہیں تو یہودی فوجی انتہا پسند یہودیوں کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل کی ایک عدالت میں پیش کیے گئے ایک فلسطینی بچے “مجاہدانہ جرات”کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے جج کو بھی کھری کھری سنا دیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت “عوفر” میں پیش کیے گئے ایک کم سن بچے نے جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا کہ”آپ ایک منظم گینگ اور دہشت گرد مافیا ہیں۔ ہم سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن میں اسرائیل کو نہیں مانتا”۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کیے گئے سات فلسطینی بچوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی گاڑیوں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ اس پرعدالت نے جب بے سے اس کا موقف پوچھا تووہ اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ “وہ اور اس کے دوست اسرائیل کی کسی عدالت کو مانتے ہیں اور نہ ہی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک اسرائیل اور اس کے تمام ادارے “منظم گینگ” ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے تیار کیا گیا ہے”۔ عدالت میں پیش کیے گئے تمام فلسطینی مقبوضہ الخلیل شہر کے شمال میں بیت امر سے گرفتار کیے گئے تھے۔فلسطینی انسانی حقوق کے ایک مندوب اور کلب برائے اسیران کے وکیل نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت “عوفر”میں جس بچے نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم جج کے سامنے کلمہ حق کہا اس کی احمد الصلیبی کے نام سے شناخت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوفرکی عدالت میں جب بچوں کو پیش کیا گیا تو عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ وہ ان محروس لڑکوں کے خلاف تیار کی گئی فرد جرم پڑھ کر سنائیں۔ ابھی ملٹری پراسیکیوٹر نے فرد جرم پڑھنا شروع کی تھی کہ ان میں سے ایک بچہ بول پڑا۔ اس نے کہا کہ میری عمر پندرہ سال ہے اور میں عالمی قوانین کی رو سے ابھی بچہ ہوں، میرا شعور اور وجدان یہ کہتا ہے کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ٹرائل ظالمانہ ہے، میں نہ عدالت کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس کے فیصلے اور نہ صہیونی ریاست کو، کیونکہ یہ سب منظم مافیا اور دہشت گرد گینگ ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جب جج نے فلسطینی بچے کے یہ ریمارکس سنے توغصے سے آگ بگولا ہو گیا اور تمام بچوں کو دھمکیاں دیتا ہوا کمرہ عدالت سے نکل گیا اور کہا کہ میں تمہیں سخت ترین سزائیں سناؤں گا۔ خیال رہے کہ احمد الصلیبی کو رواں بارہ تاریخ کو الخلیل میں بیت امر کے مقام سے حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اسرائیلی فوج نے اس پر ظالمانہ تشدد کیا ہے اور اسے ہولناک اذیتیں دی گئیں۔ تاہم اس نے تمام تر مظالم سہتے ہوئے صہیونی مجرم کے سامنے کلمہ حق کہہ کر فلسطینیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں

قلقیلیہ :  فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں فلسطینیوں کے اسرائیل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران صہیونی فوج کے تشدد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں سمیت دسیوں غیرملکی اور مقامی شہری زخمی ہو گئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گزشتہ روز د مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفرقدوم کے مقام پر فلسطینیوں نے اسرائیلی مظالم، یہودی آباد کاری انتہا پسندوں کے حملوں اور نسلی دیوارکے خلاف ایک ریلی نکالی۔ احتجاجی ریلی میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے فلسطین میں متعین سفیروں سمیت کئی غیرملکی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا میں کئی افراد کا تعلق یورپی ملکوں سے بھی تھا۔قلقیلیہ کے وسط سے نکلنے والی احتجاجی ریلی شہر کے کئی سال سے بند داخلی دروازے کی طرف بڑھی، لیکن وہاں پر تعینات صہیونی فوج نے ریلی پراشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کئی غیرملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں رام اللہ میں متعین جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں کے علاوہ ایک فرانسیسی انسانی حقوق کی خاتون سماجی کارکن بھی زخمی ہو گئیں۔ادھر گزشتہ روز بلعین میں بھی ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اشک اور گیس کی شیلنگ سے کئی بچوں اور خواتین سمیت ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔ آنسوگیس کے شیل لگنے سے زخمی اور زہریلی گیس کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے

ریاض:  سعودی عرب کی حکومت نے نوجوانوں کے اکیلے شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جانے پر عائد پابندی ختم کردی ۔ سعودی میڈیا کے مطابق ریاض کے گورنر شہزادہ شیطام بن عبدالعزیز نے اعلان کیا ہے کہ اکیلے مردوں پر شاپنگ مارکیٹوں میں خریداری پرعائد پابندی ختم کی جا رہی ہے اور اب مرد اکیلے بھی خریداری کرسکیں گے۔ اس سے قبل سعودی حکومت نے شام کے وقت اور تعطیلات کے دوران مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں اکیلے مردوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ زیادہ تر نوجوان لڑکے خریداری کے دوران مارکیٹوں میں خواتین کوہراساں کرتے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے اکیلے مردوں پر جن کے ساتھ اہل خانہ موجود نہ ہوں پابندی عائد کررکھی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے منفی ردعمل ہوا اور اب نوجوان مارکیٹوں کے باہر جمع ہوکر خواتین کو ہراساں کرتے تھے پابندی اٹھانے کا یہ فیصلہ مقامی حکام اور مذہبی پولیس کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے کیا ہے جس کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب جہاں پر تفریحی مواقع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی نوجوان زیادہ تر مارکیٹوں میں گھوم پھر کر تفریح طبع کا سامان کا سامان کر لیتے تھے

نابلس :  فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم نے پنتیس روز سے اسرائیلی عقوبت خانے میں بھوک ہڑتال جاری رکھنے والی فلسطینی اسیرہ ھنا الشلبی کی ابتر صحت کے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشلبی اپنی نازک حالت کے باعث کسی بھی وقت موت کے منہ میں جا سکتی ہیں۔ گزشتہ برس حماس اور اسرائیل کے مابین تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی پا کر دوبارہ گرفتار کی جانے والی ھنا الشلبی نے بغیر کسی فرد جرم کے اپنی چار ماہ کی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسیرہ کی زندگی شدید خطرے میں ہے اور وہ کسی بھی وقت موت سے ہمکنار ہو سکتی ہیں۔ ان کی دل کی دھڑکنیں انتہائی کمزور ہو چکی ہیں۔ جگر نے کام کرنا بند کر دیا،نظام انہضام تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خون بھی زہر آلود ہوچکا ہے۔ فلسطین میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسیرہ ھنا الشلبی اور انتظامی بنیادوں پر حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور زیر حراست افراد کی زندگیوں کی ذمہ داری بھی اسرائیلی حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریڈ کراس سے بھی اسرائیلی حکام پر بے گناہ فلسطینی اسیرہ کی رہائی کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد سمیت دیگر بارہ اہلِ خانہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن کے تحت نہ صرف ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں بلکہ ان کے یورپ آنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے جن بارہ افراد پر یہ پابندیاں عائد کی ہیں ان میں صدر بشار الاسد کی والدہ اور بہن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی اہلیہ اسمائ[L:4 R:4] الاسد برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں اس لیے برطانوی شہریوں کو یورپی یونین کی پابندی کے باوجود برطانیہ میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ صدر بشارالاسد کی اہلیہ کے مغرب میں پروان چڑھنے کی وجہ سے مغرب میں یہ تاثر تھا کہ وہ شام میں اصلاحات کی وجہ بن سکتی ہیں۔چھتیس سالہ شامی نڑاد اسمائ[L:4 R:4] الاسد نے زندگی کا بیشتر حصّہ مغربی لندن میں گزارا ہے اور برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے ان کے برطانوی شہری ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسماء الاسد جلد برطانیہ کا دورہ کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں اور برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہے۔واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں بشار الاسدسے شادی سے پہلے اسماء لندن میں انویسٹمینٹ بینکر رہی ہیں اور بشار الاسد کی حکومت میں کبھی پیش پیش نہیں رہیںگزشتہ ہفتے صدر بشار الاسد کے مخالفین نے اسماء الاسدکی تین ہزار ای میلز شائی کی تھیں جن کے مطابق وہ صدر کے خلاف بغاوت کے باوجود بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے قیمتی اشیاء خریدتی رہیں تاہم ان پیغامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی

بیجنگ :  چین نے کہا ہے کہ اسکی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کشمیر پاکستان اور بھارت ونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ آزادکشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں۔۔ چینی وزارت خارجہ میں ایشین ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سن ویڈونگ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’جنوب چینی سمندرکومتنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے معدنیات سے مالامال ویت نامی خطوں سے تیل نکالنے کی کوشش نہ کریںانہوں نے کہا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کیلئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس علاقے سے تیل نکالنے کی کوشش کرے‘‘۔ جب اْن سے پوچھاگیا کہ بھارت متنازعہ معاملات کا حصہ نہیں بننا چاہتا تو اْن کا کہنا تھا ’’خطے میں موجودجزیروں کی خودمختاری ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور بھارت کو یہ معاملہ طے ہونے تک تیل نکالنے کی کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں‘‘۔ چینی عہدیدار نے کہا ’’ہم خطے میں یکساں تعمیر و ترقی چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت ان متنازعہ معاملات کا حصہ نہ بنے اور اس بات کی امید بھی کرتے ہیں کہ خطے کی حفاظت اور امن قائم کرنے کیلئے بھارت مزید اقدامات اٹھائے‘‘۔ جب اْن کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی کہ بھارت میں تیل نکالنے کیلئے وسیع ذخائر ہیں تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور چین اس بات کی حتی الامکان کوشش کر رہا ہے کہ پرامن ذرائع سے اس معاملے کا حل نکالا جاسکے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ چین ویتنامی تیل بلاکوںمیں بھارت کے منصوبوں کی مخالفت کیوں کر رہا ہے جبکہ چین آزادکشمیر میں بنیادی ڈھانچوں کے منصوبے تعمیر کر رہا ہے تو مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔اْن کا کہنا تھا ’’یہ دونوں معاملات بالکل جداگانہ ہیں،جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں اور چین کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ چینی کمپنیاں وہاں اپنی توجہ تعمیر وترقی کے ڈھانچے پر مرکوز کر رہی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی کے بھی خلاف ہیںجبکہ جنوب چینی سمندر کا معاملہ بالکل ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں بہت ساری پارٹیاں ملوث ہیں‘‘۔ چین جنوب چینی سمندری خطے میں تیل نکالنے کیلئے نہ صرف بھارت کی مخالفت کرتا ہے بلکہ وہاں ہورہی کسی بھی سرگرمی کا مخالف ہے۔ کیونکہ چین کی آسیان ممالک کیساتھ تنازعات چل رہے ہیں جس میں ویتنام اور فلپائن بھی شامل ہیں۔ چینی مخالفت کے باوجود بھارت نے اکتوبر میں ویتنام کیساتھ ایک معاہدہ کر کے جنوب چینی سمندر میں تیل نکالنے کیلئے اپنا دائرہ وسیع کر دیا۔ بھارت اور ویتنام کی سرکاری آئل کمپنیوں کیساتھ بھی اِسی طرح کی مفاہمت ہوئی ۔چین کی جانب سے جنوب چینی سمندر پردعویٰ کرنے کا معاملہ بھارت اور ویتنام نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یہ سارے علاقے ویتنام کی ملکیت ہیں۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری کمپنیاں اس علاقے میں اپنے مواقع تلاش کرتی رہیں گی۔بھارت کا یہ موقف ہے کہ سارا بحیرہ عرب کا خطہ مشرقی افریقہ ساحل سے لیکر جنوب چینی سمندر تک بین الاقوامی تجارت ،توانائی اور قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے

واشنگٹن: امریکہ کے قانون سازوں نے فلسطین کے لیے چھ ماہ سے بند کی گئی8 کروڑ80 لاکھ ڈالر سے زائد کی ترقیاتی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اقدام امریکی ایوانِ نمائنداگان کے دو سینیئر ریپبلیکن ارکان کی جانب سے امداد کی بحالی پر مخالفت واپس لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک الیانا روز لیہٹینن کا کہنا تھا کہ یہ رقم غزہ کی پٹی کا جانب نہیں جانی چاہئیے، جس کا انتظام حماس کے پاس ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ باقی پانچ کروڑ اسی لاکھ کی امداد بند رکھیں گی۔ایک خط میں انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ امداد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو سکتی ہے۔الیانا روز لیہٹینن امریکی امورِ خارجہ کی کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آٹھ کروڑ اسی لاکھ ڈالر سے زائد کی یہ امداد اس اتفاقِ رائے کے ساتھ جاری کر رہی ہیں کہ فلسطینی حکومت اسے مغربی کنارے میں سڑک کی تعمیر، تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی۔یہ امداد فلسطین میں صحت، پانی کے منصوبے اور خوراک کی فراہمی کے لیے استعمال کی جانی ہے۔امریکی قانون سازوں نے فلسطین کی امداد اس وقت بند کر دی تھی جب فلسطین نے گذشتہ سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی درخواست پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔امریکہ نے اعتراض کیا تھا کہ فلسطینی درخواست کی باعث امریکی قیادت میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے امداد روکے جانے پر تنقید کی تھی

نئی دہلی: بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں غیر معیاری فوجی گاڑیوں کو کلیرکرنے پر 14کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ لابسٹ جو حال ہی میں فوج سے ریٹائر ہو چکا ہے اس نے انہیں کہا کہ اگر وہ فوج کے کچھ سامان کی خرید کو کلئیر کردیں تو وہ انہیں 14کروڑ روپے رشوت کے طور پر دے گا، جنرل سنگھ نے مزید بتایا کہ فوجی سامان میں 600غیر معیاری گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی کلئیرنس کے لئے انہیں معاوضہ کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے استعمال میں 7ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں جن کی خرید و فروخت کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔جنرل سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی اطلاع وزیر دفاع اے کے انتھونی کو بھی دے دی تھی

کنساس: افغانستان کے شہر قندھار میں 17 معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجی پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں۔امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز پر 11 مارچ کو قندھار میں اندھا دھند فائرنگ کرکے افغان شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت فورٹ لیون ورتھ بیس کنساس میں زیر حراست ہے۔ لیکن اب یہ کیس لوئس میک کورڈ بیس منتقل کردیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی امریکی فوجی پر مقدمہ چلانے کے مقام کا تعین کرنے کے اس عمل میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں جس کے بعد کورٹ مارشل کی اصل کارروائی شروع ہوگی

کابل : قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثا کو کو معاوضے دیے گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق قبائلی بزرگوں کے مطابق امریکی فوج نے جان سے جانے والے ہر فرد کے وارث کو چھیالیس ہزار ڈالر اور زخمی ہونے والے فرد یا اس کے وارث کو دس ہزار ڈالر کے مساوی رقم ادا کی ہے۔مقتولوں اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں نے قندھار کے گورنر کے دفتر میں امریکی فوج اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی ایساف افواج کے اہلکاروں سے ایک نجی اجلاس میں ملاقات کی۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ جب11 مارچ کو ہونے والے اس سانحے کے ذمہ دار سارجنٹ بیلز کے خلاف کارروائی شروع ہو گی تو کچھ لوگوں کو گواہی دینے کے لیے امریکہ جانا پڑے گا جب کہ باقی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہوں گے۔اس واقعے میں امریکی فوجی سارجنٹ بیلز نے گھروں میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت سولہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔صوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فا تحہکے لیے آتے ہیں

سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ مصرس سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن  نے موج البحر کے عنوان سےکہا ہے کہ  سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ سعودی عرب کے اس سیاسی سرگرم رکن کے مطابق اس نے پہلے سلطان بن عبد العزیز کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات پیش کی تھیں جو صحیح ثابت ہوئيں جبکہ سعودی حکام بالخصوص آل سعود اپنی اطلاعات اور اپنے راز کو پوشیدہ اور مخفی رکھنے کی تلاش و کوشش کرتے ہیں۔ موج البحر کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد نایف بن عبد العزیزدماغی سکتہ اور دل کے دورہ میں مبتلا ہیں اور امریکہ جانے کی اصل وجہ بھی یہی ہے وہ طویل مدت تک امریکہ میں رہنے کے لئے مجبور ہے۔ موج البحرکےمطابق آل سعود اس وقت سخت بحران میں گرفتارہیں کیونکہ سعودی عرب کے اعلی حکام اس وقت لا علاج بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

سانحہ کوہستان کے بعد آغا راحت حسینی کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے آخری دن آج مرکزی انجمن امامیہ کا اجلاس گلگت میں آغا راحت حسینی کی صدارت میں ختم ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد لا ئحہ عمل طے کیا گیا جس کا اعلان آج بعد نماز ظہر کیا جانا تھا۔  دوران اجلاس وزیر داخلہ رحمان ملک نے آغا راحت حسینی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ایک دن کی مہلت مانگی جس پر متفقہ طور پر حکومت کو مزید ایک دن کی مہلت دے دی گئی ہے۔ نمائندے کی اطلاعات کےمطابق سانحہ کوہستان کے بعد سے گلگت بلتستان میں تا حال کشیدگی برقرار ہے ۔ نمائندے نے مزید بتایا کے کل تک کی مہلت ملنے کے بعد حکومت کی طرف سے عملی اقدام کا انتظار کیا جائے گا اور پھر آئندہ کے لائحہ عمل کا عوام کے سامنے کل اعلان کیا جائے گا۔ نمائندے کیمطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے مطالبات پر اقدامات نہ کئے گئے تو کل گلگت میں سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیا جائے۔ آغا راحت حسین الحسینی کی صدارت میں علما و عمائدین گلگت و بلتستان کا بند کمرہ اجلاس اختتام پذیر هو چکا هے ، دوران اجلاس رحمان ملک وفاقی وزیر داخلہ نے ٹیلی فونک رابطہ کے ذریعے وفد سے مذاکرات کرتے هوئے کها که سانحہ کوہستان کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے آج موسم کی خرابی کی وجہ سے گلگت نہیں پہنچ سکتا کل آکر آپ سے ملاقات کرکے اعلان کرونگا، آپکے تمام مطالبات پر عمل درآمد ہوگا، بعد از آن ملت جعفریہ گلگت بلتستان کی ۸ رکنی ’’مشترکہ سپریم کونسل‘‘ کی تشکیل کا اعلان کیا گیا هے ، علامہ شیخ حسن جعفری امام جمعہ و الجماعت اسکردو اور علامہ سید راحت حسین الحسینی امام جمعہ والجماعت گلگت کی سرپرستی ہوگی ۔جبکه کل تک کی مہلت کا اعلان کیا گیا هے ، تمام نوجوانوں کو مرکز سے مربوط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں واضح رہے کہ سانحہ کوہستان میں گلگت جانے والی بس کو روک کر سفاک دہشت گردوں نے مومن مسافروں کو نیچے اتار کر شہید کردیا تھا جن کی تعداد ۱۸ تھی۔

ضلع تربت کی سب تحصیل مندبلو میں بس اڈے پر ایران سے آنے والے افراد پرنامعلوم شدت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہاں پر موجود 5 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 2 کی شناخت ہو گئی۔ جاں بحق ہو نے والوں میں ریاض احمد اور گلزار احمد شامل ہیں جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں فیاض‘ شفیق‘ اعجاز‘ اوراحسان شامل ہیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت بہت تشویشناک ہے -عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ جو حملہ کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے. واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے. اطلاعات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں ساہیوال ‘سیالکوٹ اور دیگر علاقوں سے ایک گروپ ہمسایہ ملک ایران زیارت کیلئے گیا تھا۔

فلسطین میں مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم” اقصیٰ فاؤنڈیشن” نے قبلہ اول کی دیوار براق کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک نئی صہیونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں سرگرم ایک انتہا پسند یہودی گروپ نے امریکا کے شہر نیویارک کی بروکیلن کالونی میں قائم میوزیم میں دیوار براق جسے یہودی دیوار مبکی کے نام سے جانتے ہیں کا ایک قوی ہیکل مجسمہ نصب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز دیواربراق کے اس نام نہاد مجسمے کی تنصیب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسرائیل کا ایک وزیر بھی موجود تھا۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے دیوار براق کے ڈھانچے کی امریکا میں تنصیب کو مسجد اقصیٰ کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک سنگین سازش قرار دیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل دیوار براق کو مسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دینے کے بجائے اسے قبلہ اول سے الگ اور مذموم ہیکل سلیمانی کا حصہ قرار دینے کی مہم چلا رہا ہے۔ امریکا میں یہودی گروپ کی جانب سے دیوار براق کا ہیکل تعمیر کر کے مسجداقصیٰ کی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ دیواربراق مسجد اقصیٰ کا تاریخی حصہ ہے۔ اسرائیل اور یہودیوں کے اس پر دعوے قطعی بے بنیاد اور خرافات ہیں، جن میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں ہے۔

فلسطین کے محصور شہر غزہ کی پٹی میں ادویہ کا ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے۔ غزہ وزارت صحت کی رپورٹ کےمطابق اسپتالوں میں 386 اقسام کی بنیادی اور عام ضرورت کی ادویہ ناپید ہو چکی ہیں۔ فلسطین کےمطابق وزارتِ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سرکاری اسپتالوں اور غیرسرکاری ڈسپنسریوں میں ادویہ کی قلت کے باعث مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں بنیادی ضرورت کی 186 دوائیاں اور علاج معالجے کے استعمال ہونےو الی 200 دیگر اشیاء مکمل طورپر ختم ہو چکی ہیں ، جس کے بعد مریضوں اور طبی عملے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 70 ادویات اور 75 دیگر طبی سامان گذشتہ تین ماہ سے ختم ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی ہنگامی طبی امداد میں بھی یہ ادویات نہیں لائی جا سکی ہیں۔ گذشتہ ماہ ادویات کی شدید قلت کے بعد اسپتالوں کو 347 اقسام کی دوائیوں کی قلت کا سامنا تھا جبکہ اس ماہ یہ تعداد بڑھ کر 386 تک جا پہنچی ہے، جو شہرمیں ادویات کی قلت کے سنگین بحران کا واضح ثبوت ہے۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی جانب سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، ریڈ کراس، اقوام متحدہ،ترکی کی حکومت اور مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فوری طبی امداد کی فراہمی کویقینی بنائیں ورنہ شہر میں نیا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سےغزہ کی پٹی کے گذشتہ چھ سال سے جاری معاشی محاصرے کے باعث شہر میں ادویہ کی آمد وترسیل میں سنگین مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے معاشی ناکہ بندی اور ادویہ کی قلت کے باعث سیکڑوں زندگیوں کے چراغ بجھ چکے ہیں۔ شہر میں نہ صرف ادویہ کی قلت ہے بلکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی مریضوں کو دوسرے شہروں میں علاج کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

ذرائع انرجی اور قدرتی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کے ذریعے آنے والی مصری ایندھن کی وصولی اور استعمال کے لیے تمام تکنیکی امور پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ مصر کے ساتھ معاہدے کے بعد کئی ہفتوں سے ایندھن اور بجلی کی کمی کے شکار غزہ کے بجلی گھر کا دوبارہ کام شروع کر دے گیا۔ محکمہ انرجی کے میڈیا ڈائریکٹر احمد ابو العمرین نے بدھ کے روز اپنے بیان میں بتایا کہ مصر کے ساتھ واقع رفح کی سرحدات پر واقع کراسنگ سے آنے والے وفد کے استقبال کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مصری حکومت قیدیوں کے مسائل کا مداوا جلد از جلد کریں گع۔ ابوالعمرین نے مصر سے آنے والے ایندھن کی آمد میں تاخیر کی وجہ کے متعلق پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ اس بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں، یہ سوال مصر سے کیا جانا چاہیے جس کے متعلق ہمیں امید ہے کہ وہ اب سرعت رفتاری سے غزہ کو ایندھن فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے بجلی گھر میں ایک جنریٹر چل رہا ہے اس کو انتہائی قلیل مقدار میں ایندھن فراہم کیا جاتا رہے گا تاہم جیسے ہی مصر سے کیے گئے معاہدے تکے تحت تیل غزہ پہنچے گا غزہ میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا۔ قبل ازیں پیر کی شام غزہ میں محکمہ برقیات نے اعلان کیا تھا کہ اس کا مصر کے ساتھ بجلی گھروں میں استعمال کے لیے مصر سے پٹرول کی درآمد کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئل کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی کے سبب شدید بحران کی کیفیت ہے۔

نامعلوم مسلح افراد نے مصر کے جزیرہ نما سیناء سے اسرائیل اور اردن کے لیے گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن کو ایک سال میں تیرہویں مرتبہ تباہ کر دیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ گیس پائپ لائن میں دھماکہ اسرائیل اور مصرکے درمیان سرحد پر طبل کے مقام پرپیش آیا، جہاں کچھ ہی روزقبل ایک دھماکے میں گیس پائپ لائن کو اڑایا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں آگ کے پچاس میٹر بلند شعلے اٹھتے دیکھے گئےہیں۔ واقعے کے فوری بعد گیس فراہم کرنے والی کمپنی “گیسکو” شہری دفاع،فائربرگیڈ اور سیکیورٹی فورسزکے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ خیال رہے کہ مصر سے اسرائیل کو فراہم کردہ گیس کی پائپ لائن کو گذشتہ ایک سال کے دوران کئی مرتبہ دھماکوں سے تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ پانچ فروری کو اسی مقام پر ہونے والے دھماکےکے بعد پائپ لائن کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم سخت سیکیورٹی کے باوجو دنامعلوم مسلح افراد پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔

بغداد : شمالی عراق میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے جبکہ عراقی وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ بھی بال بال بچ گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے  شمالی صوبہ نائن آئیو کے شہر موصل کے قصبے تلعفر میں معروف ریسٹورنٹ اور مارکیٹ کے نزدیک یکے بعد دیگرے دو کا ر بم دھماکے  ہوئے۔ قصبے کے مئیر عبدالعال عباس کے مطابق دھماکوں سے قریبی ریسٹورنٹس اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق  وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ محمد الدرا جی کے قافلے پر کار بم حملہ ہوا ہے تاہم اس میں وہ محفوظ رہے۔ پولیس  ذرائع کے مطابق کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے اور متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ میئر کے مطابق پولیس نے علاقے کا گھیرائو کر لیا ہے۔ ایمبولینسوں اور عام گاڑیوں کی مدد سے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔

تہران: ایران میں انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام پر کام شروع ہوگیا ہے۔ اس ادارے کے قیام کیلئے ایرانی رہنماٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہدایات جاری کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کیمطابق انٹرنیٹ کی نگرانی کے اس ادارے کے ارکان میں ایرانی صدر، وزیر برائے اطلاعات و ثقافت، پولیس اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر شامل ہوں گے۔ ایران میں انٹرنیٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کیا جانے والا یہ سخت ترین اقدام ہے۔

جینیوا: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں قائم امریکی نواز حکومت شام میں حکومت مخالف باغیوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب و ٹیلی چرکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہیں کہ لیبیا میں شامی باغیوں کے لئے خصوصی طور پر ایک تربیت گاہ قائم کی گئی ہے جہاں لوگوں کو تربیت فراہم کر کے شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جانا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران کو واضح کیا کہ روس اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتا ہے چونکہ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے بھی مترادف ہے۔ چرکین نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

تیونسیہ: حکومت تیونس نے سابق جلا وطن صدر زین العابدین بن علی کو ٹرائل کے لیے وطن واپس لانے بارے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کبھی بھی بن علی کو ملک بدر نہیں کرے گا تاہم کوشش جاری رہے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد منتخب ہونے والے صدر تیونس منصف قرزوقی نے کہا کہ سابق صدر زین العابدین کو ٹرائل کے لیے واپس وطن لانے بارے حکومت تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور سعودی عرب حکومت پر اس حوالے سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سابق صدر کو اپنے ملک کے حوالے کرے تاکہ ان کا ٹرائل کیا جائے تاہم اس امید کا اظہار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب انہیں ملک بدر کرے گا چونکہ وہاں کی اپنی روایات اور قوانین ہیں۔ واضح رہے کہ زین العابدین کو تیونس کی عدالت نے گزشتہ سال کرپشن سمیت مختلف جرائم کے الزام میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

واشنگٹن: بھارت نے رشوت سکینڈل میں اسرائیل کی اسلحہ ساز فرم ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ سمیت چھ فرموں پر دس سال کیلئے پابندی عائد کر دی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت نے اسرائیل کی سرفہرست اسلحہ بنانے والی فرم اسرائیل ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ کو دس سال کیلئے بلیک لسٹ کر دیا۔ بھارتی وزارت دفاع کی اسرئیلی فرم پر دس سال کے پابندی کے فیصلے پر اسرائیل ششدر اور پریشان ہوگیا ہے۔ بھارت نے اپنے ملک کے علاوہ سوئٹزر لینڈ، روس اور سنگاپور کی پانچ فرموں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بھارت نے ان فرموں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے معاہدہ حاصل کرنے کیلئے بھارتی اہلکار کو رشوت دی۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے بھارتی الزامات کے خلاف اپنی فرم کے موقف کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی پابندی کا جواب دینے کیلئے وہ فرم سے مشاورت کرے گا۔ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کیلئے بھارت ایک اہم ترین مارکیٹ ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دو ہزار نو میں رشوت اسکینڈل میں ملوث ہونے پر بھارت نے چھ فرموں پر دس برس کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارت نے اپنی دو فرموں پر بھی پابندی عائد کی ہے، ان فرموں پر پابندی سی بی آئی کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے بعد بھارتی وزارت دفاع نے عائد کی۔ بھارت نے دو ہزار نو میں سات فرموں سے 1.5 ارب ڈالر کا معاہدے کو اس وقت روک دیا تھا جب پولیس نے وزارت دفاع کے اہم عہدے دار کو ان فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

واشنگٹن: وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی زیر قیادت میں نیٹو افواج شام کے اندر حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکہ میں موجود انٹیلی جنس فرم کیلئے کام کرنے والے تجزیہ نگار کی جانب سے فراہم کردہ ایک خفیہ ای میل جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے گزشتہ سال دسمبر میں پنٹاگون کے اندر فرانس اور برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے متعدد فوجی حکام نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے اس اجلاس کے دوران سنا تھا کہ نیٹو کے زمینی فوجی کافی عرصے سے شام میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق نیٹو افواج کی اس تربیت کا مقصد حکومت کے خلاف لوگوں کو گوریلا جنگ کیلئے تیار کرنا تھا۔

تہران: ایران کا شہر شیراز اعضاء کی پیوند کاری کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کوا مداد فراہم کرنے والی خیراتی تنظیم کے سربراہ نادر معینی نے کہا ہے کہ یہ ان خاندانوں کیلئے اعزاز کی بات ہے جنہوں نے اپنے خاندان کا ایک رکن کھو دیا۔ تاہم انہوں نے اعضاء عطیہ کر کے دیگر افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔ شیراز شہر میں پیوندکاری کے اس عمل میں 200 افراد شریک ہوئے ہیں اور نادر معینی کے مطابق اب 251 افراد کے گردوں کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 341 افراد کے جگر کی پیوندکاری اور 23 افراد کے پتا کی پیوندکاری کی گئی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے مطابق بن لادن کے آخری ایام کے دوران اس کی بیویوں کے باہمی شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ وہ تیسری منزل پر اپنی چہیتی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ مسئلہ اس کی پہلی بیوی کے آنے کے شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر شوکت قادر نے اپنی ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کی منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ تک اس موضوع پر تحقیق کی اور انہیں وہ دستاویزات دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، جو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے پوچھ گچھ کے بعد تیار کی تھیں۔ دو مئی کے واقعے کے بعد شوکت قادر کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی آخری رہائش گاہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔ یہ تصاویر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی دکھائی گئیں۔ اس میں ایک تصویر میں مرکزی سیڑھیوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک اور تصویر میں کھڑکیاں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں لوہے کی باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔
گھر کا نقشہ
لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا۔ خاندان کے بقیہ افراد اس عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے، جس میں 2 مئی2011ء کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے اس رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی تفتیشی دستاویزات کے علاوہ القاعدہ کے زیر حراست ارکان کے انٹرویوز سے بھی مدد حاصل کی ہے۔ بن لادن 2005ء سے ایبٹ آباد کے اس تین منزلہ مکان میں رہ رہا تھا۔ اس گھر میں کل 28 افراد تھے، ان میں اسامہ بن لادن، اس کی تین بیویاں، آٹھ بچے اور پانچ پوتے پوتیاں تھے۔ بن لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے کم عمر اہلیہ امل احمد عبدالفتح السدا کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ اس کے بچوں کی عمریں 24 سے تین سال کے درمیان تھیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا خالد ( 24) دو مئی کے آپریشن میں مارا گیا تھا۔ اس آپریشن میں بن لادن کا پیغام رساں اور اس کا بھائی بھی مارے گئے تھے اور اُن کی بیویاں اور بچے بھی اس مکان میں رہائش پذیر تھے۔ 54 سالہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے معدے یا گردے کی شکایت تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ عمر سے بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات موجود تھے۔
بن لادن، امل اور خیرہ
یمنی نژاد امل کی شادی 1999ء میں بن لادن سے ہوئی تھی اور شادی کے وقت وہ 19برس کی تھی۔ بن لادن کی ایک اور اہلیہ سہام صابر بھی اسی منزل پر ایک الگ کمرے میں رہتی تھی اور یہ کمرہ کمپیوٹر روم کے طور بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول امل نے آئی ایس آئی کو بتایا کہ 2011ء میں بن لادن کی سب سے بڑی سعودی نژاد اہلیہ خیرہ صابر کی آمد کے بعد سے گھریلو معاملات میں گڑ بڑ پیدا ہونا شروع ہوئی۔ خیرہ صابر نے دورانِ تفتیش خود بھی تسیلم کیا کہ اس کا اپنا رویہ بھی بہت جارحانہ تھا۔ 2001ء میں خیرہ اپنے شوہر بن لادن کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ افغانستان سے ایران چلی گئی تھی۔ ایران میں اسے نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں تہران حکومت نے پاکستان سے ایک ایرانی سفارت کار کی رہائی کے بدلے اُسے سفر کی اجازت دے دی تھی۔ اس ایرانی سفارت کار کو شمالی علاقہ جات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امل نے دوران تفتیش بتایا کہ خیرہ فروری اور مارچ 2011ء کے درمیانی عرصے میں ایبٹ آباد پہنچی تھی۔ اس دوران بن لادن کا بڑا بیٹا خالد خیرہ سے بار بار پوچھتا رہا کہ وہ وہاں کیوں آئی ہے۔ امل کے بقول خیرہ نے جواب دیا کہ اسے اپنے شوہر کے لیے ایک آخری خدمت انجام دینی ہے۔ اس پر خالد نے فوراً ہی اپنے باپ کو بتا دیا کہ خیرہ اسے دھوکہ دینا یا چھوڑنا چاہتی ہے۔ شوکت قادر کے بقول ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ خیرہ صابر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا۔بن لادن کہاں کہاں روپوش رہا امل نے بتایا ہے کہ بن لادن افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں زیادہ عرصہ قیام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ 2002ء میں وہ کچھ عرصہ کوہاٹ کے قریب ایک علاقے میں روپوش رہا۔ اس دوران گیارہ ستمبر کا منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنے آیا تھا، جسے 2003 ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 2004 ء میں وہ اور خاندان کے کچھ افراد سوات کے قریب شانگلہ منتقل ہو گئے تھے۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 2004ء کے آخر میں یہ لوگ ہری پور اور 2005ء کے موسم گرما میں ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان میں آ گئے، جس کی تیسری منزل پر بن لادن امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ اسامہ کے کچھ اہل خانہ کا خیال ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔
آئی ایس آئی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول فوج میں ان کے ایک دوست نے انہیں بن لادن کی زیر حراست اہلیہ امل سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ تک رسائی دی تھی۔ قادر کے بقول انہوں نے بن لادن کے مکان کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے بقول اس گھر میں فرار ہونے کا کوئی خفیہ راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کوئی انتباہی نظام نصب نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تہہ خانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول ’’یہ گھر اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں وہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘‘۔

بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مسلم اور عرب ملکوں کے نمائندے ایک بحث سے باہر نکل گئے جس میں ہم جنس پرست مرد و خواتین کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کی کوششوں پر بات کی گئی تھی۔ واک آؤٹ کرنے سے قبل ستاون رکنی تنظیم برائے اسلامی تعاون (او آئی سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے ہم جنس پرستی کو ’اخلاق باختگی کا رویہ‘ قرار دیا۔ افریقی گروپ کے رہنما سینیگال نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمگیر معاہدے اس موضوع کا احاطہ نہیں کرتے۔ نائجیریا نے، جہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے گروپوں کے بقول ہم جنس پرست مرد و خواتین پر حملے ہوتے رہتے ہیں، کہا کہ اس کا کوئی بھی شہری جنسی میلان یا صنفی شناخت کی بناء پر تشدد کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ عرب گروپ کی نمائندگی کرنے والے موریطانیہ نے کہا کہ ’جنسی میلان کے متنازعہ موضوع‘ کو مسلط کرنے کی کوششوں سے کونسل میں انسانی حقوق کے حقیقی مسائل پر بحث کمزور ہو جائے گی۔سفارت کاروں کے بقول 47 اراکین پر مشتمل انسانی حقوق کونسل میں یہ بائیکاٹ پہلی بار تین بڑے بلاکس نے ایک ساتھ کیا ہے۔ یہ مقاطعہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اس عالمی ادارے کی انسانی حقوق سے متعلق کمشنر ناوی پیلے نے سیشن کو بتایا کہ تمام حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہم جنس پرست مرد و خواتین کو تحفظ فراہم کریں۔ پینل کے نام اپنے وڈیو پیغام میں بان کی مون نے کہا، ’ہمیں بعض لوگوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا رویہ اس وجہ سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست مرد، خواتین، دونوں جنسوں کی طرف میلان رکھنے والے یا تیسری صنف کے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’یہ متاثرہ افراد کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمارے مشترکہ ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آپ کو انسانی حقوق کونسل کے اراکین کے طور پر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘ اسلامی اور افریقی ملکوں نے کافی عرصے سے کونسل میں اس بحث کو روک رکھا تھا جسے اقوام متحدہ ’جنسی میلان اور صنفی شناخت‘ کا نام دیتا ہے۔کونسل میں بحث کے لیے یہ قرارداد امریکا اور جنوبی افریقہ نے پیش کی تھی۔ کمشنر ناوی پیلے نے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’ہومو فوبیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے خلاف دنیا میں ہونے والے مختلف مظالم کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے کل 192 رکن ملکوں میں سے 76 میں ہم جنس پرست رویے کو جرائم پیشہ قرار دینے کے قوانین موجود ہیں۔ پانچ ملکوں میں اس جرم کے تحت سزائے موت رائج ہے جن میں ایران بھی شامل ہے۔ناوی پیلے نے کہا کہ بعض ملک یہ دلیل دیں گے کہ ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کی طرف میلان ’مقامی ثقافتی یا روایتی اقدار یا پھر مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، یا رائے عامہ اس کے خلاف ہے مگر جہاں تک آفاقی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو ان کا احترام ضروری ہے۔‘

ایک انتہائی طاقتور شمسی طوفان سورج سے زمین کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ طوفان آج جمعرات کے روز زمین تک پہنچے گا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان توانائی کے نظام، پروازوں، سیٹیلائٹ نیٹ ورک اور جی پی ایس سروسز کو متاثر کر سکتا ہے۔ چھ برس میں اس نوعیت کا آنے والا یہ سب سے شدید شمسی طوفان ہے۔ جہاں اس طوفان سے نقصانات ہوں گے وہاں دنیا کے بعض حصوں میں آباد افراد اس کی دلکشی سے بھی محظوظ ہو سکیں گے۔ وسطی ایشیا کے علاقوں میں لوگ رات کی سیاہی پھیلنے پر اس شمسی طوفان سے پھوٹنے والی ’شمالی روشنی‘ کا خوبصورت منظر بھی دیکھ سکیں گے۔ناسا کے ماہرین نے اس طوفان کی شدت سے نہ صرف زمین بلکہ مریخ کے متاثر ہونے کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر دو ہزار چھ کے بعد یہ شمسی طوفان سب سے طاقتور ہے تاہم گزشتہ برس اگست میں زمین پر ایک طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ طوفان سے نہ صرف سیٹیلائٹ اور پاور گرڈز متاثر ہوں گے بلکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں موجود خلا نوردوں کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ خلا نورد ماضی کی طرح مخصوص جگہوں پر اپنی حفاظت کی غرض سے قیام کریں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس نوعیت کے شمسی طوفان آئندہ دنوں میں بھی آ سکتے ہیں۔ خلائی طوفان نئی بات نہیں ہیں۔ پہلا بڑا شمسی طوفان اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی خلا نورد رچرڈ کیرنگٹن نے ریکارڈ کیا تھا۔ انیس سو بہتّر میں ایک بڑے شمسی طوفان تے امریکی ریاست الینوئے کے مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق انیس سو نواسی میں اس نوعیت کے ایک طوفان نے کینیڈا کے کیوبیک صوبے میں بجلی کے نظام کو متاثر کیا تھا۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔