علامہ ساجد نقوی کی جانب سے قرآن مجید نذر آتش کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت

Posted: 26/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں۔اپنے ایک  بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے نیٹو فورسز کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں قرآن مجید نذر آتش کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعہ سے امت مسلمہ کے مذہبی جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں ان کے قول و فعل کا تضاد درحقیقت عالم اسلام کے خلاف ان کے تعصب اور تنگ نظری کا عکاس ہے یہی وجہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کے جذبات کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایک اخباری بیان میں ترجما ن نے گذشتہ روز پشاور میں کوہاٹ اڈے پر بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد کے جاں بحق ہونے‘ پشاور کے تھانے پر خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا مرکزی ترجما ن نے علی پور مظفر گڑھ میں ممتاز عالم دین علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبائی حکومت کو خبردار کیا کہ صوبہ بھر بالخصوص جنوبی پنجاب میں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور سانحہ خان پور کے بعد علی پور کا یہ واقعہ صوبہ میں بدامنی‘ افراتفری‘ شرانگیزی اور فتنہ و فساد کی نئی لہر کا آغاز ہے جس پر قابو پانے میں کسی قسم کی سستی اور غفلت ملک کی داخلی سلامتی کے لئے انتہائی مضر اور مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ سربراہ شیعہ علماء کونسل کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاراچنار کے دلخراش سانحہ کے بعد ملک کی تقدیر کے مالک و مختار عوام کی مایوسی اور بے چینی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کراچی ہو یا کوئٹہ‘ ڈیرہ اسماعیل خان ہو یا ہری پور‘ پاراچنار ہو یا خان پور عوام اپنے دکھوں کے مداوا اور جانی و مالی تحفظ کے لئے جائے امن اور پناہ کی تلاش میں ہیں اور صوبائی و مرکزی حکومتوں اور امن و امان کے ضامن اداروں سمیت اعلی عدلیہ کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے اندرونی کرب کو پرامن احتجاج اور سوگ کے انداز میں ظاہر کرکے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ملک کب تک مزید ایسے سانحات کا متحمل ہوسکتا ہے۔

Comments are closed.