صہیونی حکومت کی دھمکی اور حزب اللہ لبنان کا رد عمل

Posted: 26/02/2012 in All News, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel

صہیونی حکومت کے اعلی حکام کی لبنان کے خلاف دھمکیوں پر لبنان کے اعلی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ جب تک مزاحمت و استقامت زندہ ہے صہیونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ سید حسن نصر اللہ نے گزشتہ روز صہیونیوں کے خلاف مزاحمت و استقامت کے کمانڈروں اور رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مرتبہ جنوبی لبنان میں صہیونی غاصبوں سے جنگ کے دوران حزب اللہ نے اس حکومت کو سنگین شکست سے دوچار کیا اور اس علاقے میں امن و استحکام بحال کیا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے صہیونی حکومت کی حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلیوں کی دھمکیوں سے ہرگز نہیں ڈرتے اوران دھمکیوں کا ہمارے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ زمانے میں جب ہم تعداد و طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی نہ تھے تب بھی ایریل شیرون اور اسحاق رابین جیسے اسرائیل کے نام نہاد بڑے جنرلوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو آج جب ہم طاقت و قوت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہیں تو کس طرح ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے۔  صہیونی حکومت لبنان پر بار بار زمینی ، فضائی اور بحری حملے کر کے اس ملک کو ہمیشہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ صہیونی حکومت کے لبنان پر متعدد حملوں، لبنان کے بعض علاقوں پر قبضے اور ہمسایہ ممالک کو دی جانے والی مستقل دھمکیوں نے پہلے سے زیادہ اس حکومت کی جنگ پسند اور مہم جو ماہیت کو واضح و آشکار کر دیا ہے۔ جس چیز نے صہیونی حکومت کے تمام منصوبوں اور ارادوں پر پانی پھیر تے ہوئے اسے علاقے میں شکست دی ہے وہ علاقے کے عوام کی مزاحمت و استقامت تھی اور گزشتہ چند سالوں میں لبنان کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ سید حسن نصر اللہ کی حقیقت کو برملا کرنے والی تقریر نے ایک بار پھر لوگوں کو لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی مذموم سازشوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ صہیونی حکومت اور اس کی حامی مغربی حکومتیں لبنان کی مزاحمت کو لبنان میں اپنی تسلط پسندانہ پالسیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ صہیونی حکومت مغربی حکومتوں کی بھرپور حمایت کے باوجود گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ لبنان کی مزاحمت کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ لبنان کی استقامت کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی مستقل ناکامیاں، جس نے دو ہزار میں اس حکومت کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی طرح دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست، لبنان کی مزاحمت و استقامت کی گرانبہا کامیابیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کی حامی حکومتیں لبنانی عوام کے درمیان خوف و وحشت اور اختلاف و تفرقہ پھیلا کر انھیں استقامت سے دور کرنا اور لبنان کے خلاف اپنی سازشوں پر عمل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن لبنان کی عوام نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی سازشوں اور ہتھکنڈ وں سے باخبر اور ہوشیار ہیں۔ لبنانی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت میں روزافزوں اضافہ رہا ہے اور حزب اللہ بھی روزبروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے عوام صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی نئی سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کی طرف سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا ہے۔

Comments are closed.