بلوچستان کے مسائل کا افواج پاکستان کو ذمہ دار قرار دینا امریکہ کی زبان بولنے کے مترادف ہے،صاحبزادہ فضل کریم

Posted: 26/02/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

سربراہ سنی اتحاد کونسل کا کہنا ہے کہ امریکہ بلوچستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن پاکستان کے غیرت مند بیٹے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گےکراچی روانگی کے موقع پر لاہور ائیرپورٹ پر پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ بلوچستان بچانے کے لیے 20 ویں ترمیم جیسے اتحاد کی ضرورت ہے، سینٹ کی نشستوں اور 20 ویں ترمیم پر متحد ہونے والے بلوچستان بچانے کے لیے کیوں متحد نہیں ہو سکتے، بلوچوں سے معافی کے ساتھ ساتھ ناانصافیوں کی تلافی بھی ضروری ہے، حساس اداروں اور افواج پاکستان پر بلاوجہ تنقید بند ہونی چاہیے اور بلوچستان میں بے گناہ پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی قابل مذمت ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند باغی بندوق پھینک کر آزادی کی بجائے حقوق کی بات کریں تو پورا ملک ان کا ساتھ دے گا۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا افواج پاکستان کو ذمہ دار قرار دینا امریکہ کی زبان بولنے کے مترادف ہے کیونکہ امریکہ پاک فوج کو بدنام کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قبضہ کر سکے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کا راستہ روکنے کے لیے پوری قوم، حکومت، اپوزیشن اور فوج ایک ہو جائے، ایسا نہ کیا گیا تو ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بلوچستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن پاکستان کے غیرت مند بیٹے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور بلوچستان کوبنگلہ دیش بنانے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ اس سے پہلے کہ امریکہ لیبیا میں قذافی کے باغیوں کی عملی مدد کا عمل بلوچستان میں دہرائے، حکمران اور قوم جاگ جائیں۔ ائیرپورٹ پر صاحبزادہ فضل کریم کو الوداع کہنے کے لیے آنے والوں میں پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، صاحبزادہ سید صابر گردیزی، شیخ اظہر سہیل، مولانا قاری مختار احمد صدیقی، پیر ضیاء المصطفیٰ حقانی، مفتی محمد کریم خان، علامہ مشتاق احمد نوری و دیگر شامل تھے۔

Comments are closed.