ایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں لگانےوالےخود اقتصادی بحران کا شکار

Posted: 26/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں۔ہفتے کے آخري روز لندن کي مارکيٹ ميں خام تيل کي قيمت ايک ڈالر 85 سينٹس اضافے کے بعد 125 ڈالر في بيرل سے اوپر چلي گئي. اپريل کے بعد سے يہ في بيرل تيل کي سب سے زيادہ قيمت ہے. ہفتے کے دوران برينٹ کروڈ آئل کي قيمت مجموعي طورپر 5 ڈالر 89 سينٹس بڑھي ہے. قيمت ميں اضافے نے ان پريشانيوں کو بھي بڑھا ديا ہے کہ صارفين کي طرف سے طلب ميں کمي عالمي شرح نمو کو بھي متاثر کرے گي. اس سے قبل یورپی ممالک نے ایران کے تیل کی خرید پر جولائي میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایران نے یورپی ممالک کے غیر منصفانہ اقدام کے خلاف جوابی  کارروائی کرتے ہوئے یورپی ممالک کو تیل کی فروخت ابھی سے بند کردی ہے اور ایران نے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی فروخت متوقف کردی ہے جس کی وجہ سے یورپی اور مغربی ممالک میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہوگیا ہے اور ایران کو اقتصادی محاصرہ کرنے والے خود اقتصادی محاصرے میں آگئے ہیں۔

Comments are closed.