انتہا پسند یہودی ٹولے نے قبلہ اول پر دھاوا بول دیا

Posted: 26/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Palestine & Israel, Survey / Research / Science News

مقبوضہ بیت المقدس : حرمین شریفین کے بعد مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی پر انتہا پسند یہودیوں کے حملے تیز ہو گئے ہیں، گزشتہ روز صبح ایک بار پھر انتہا پسند یہودی ٹولے نے قبلہ اول پر دھاوا بول دیا۔ صہیونی فوج کی بڑی تعداد نے اس موقع پر سیکڑوں فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ گزشتہ اتوار کے دن سے آج مسلسل پانچویں روز بھی غاصب یہودیوں کے جتھوں کی مسجد اقصی آمد جاری رہی۔ بیت المقدس کے ذرائع کے مطابق مسجد میں موجود مسلمان نمازی مراکشی دروازے سے داخل ہونے والے ان حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مسجد کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ مسجد میں داخل ہونے کے تمام دروازوں پر صہیونی سکیورٹی فورسز کا جھرمٹ ہے اور نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ خواتین سے بھی ان کی شناخت طلب کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ فلسطینی حکمران جماعت لیکود پارٹی سمیت متعدد انتہا پسند یہودی تنظیموں نے گزشتہ چند روز سے یہودی آباد کاروں جو تلمودی عبادات کی ادائیگی کے لیے مسجد آنیکی ہدایت کر رکھی ہے۔ الاقصی فاؤنڈیشن کی جانب سے مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والے بیان کے مطابق جمعرات کی علی الصبح پینسٹھ کے لگ بھگ غاصب یہودیوں کے تین ٹولوں نے مسجد پر دھاوا بولا، ان ٹولوں میں یہودی بستی کریات اربع کے آباد کار بھی شامل تھے۔ الاقصی فاؤنڈیشن اور مسجد اقصی کے گارڈز نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے اس موقع پر مزاحمت کرنے والے تین فلسطینی شہریوں اور ایک گارڈ کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں میں ام فحم کے ریاض اغباریہ، سخنین کے تامر شلاعطہ اور البعینہ نجیدات گاؤں کے ابراھیم خلیل شامل ہیں۔ مسجد کا گارڈ سامر قویدر بھی صہیونی فورسز کے ہتھے چڑھ گیا۔ خیال رہے کہ الخلیل شہر کی یہودی بستی کریات اربع کی انتہا پسند یہودی جماعتوں نے مسجد اقصی پر اجتماعی حملے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی دینی، سیاسی اور قومی قیادت نے مسلمانوں سے بھی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے جوق در جوق آنے کی کال دے دی ہے۔ اسی ضمن میں انتہا پسند یہودی تنظیموں نے مسجد اقصی کو گرانے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی کال بھی دے دی ہے۔ یہودی گروپوں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی کو خدانخواستہ گرا کر اس کی جگہ پر ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر مالی اور جانی تعاون کیا جائے۔ مرکز اطلاعات القدس کے مطابق غاصب یہودی ٹولے گلیوں اور شاہراہوں میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور ان ریلیوں کے دوران اسپیکر پر مسجد اقصی کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی مہم کو کامیاب بنانے اور مہم کے لیے مالی امداد کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مشرقی القدس کی اولڈ میونسپلٹی کی شاہراہیں اسرائیلی پولیس اور فوج کے اہلکاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ غاصب یہودیوں کی ان اشتعال انگیز ریلیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اولڈ میونسپلٹی اور پورے القدس کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ریلیوں کے گزرنے کی مقامات پر موجود فلسطینیوں کی دکانوں کو بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ مرکز نے بتایا کہ جنونی اور متشدد قسم کے ان یہودیوں کی ایک بڑی ریلی مسجد اقصی کے مراکشی دروازے تک پہنچی جہاں پر وہ مسجد کے دیگر دروازوں سے گزرتی ہوئی باب حطہ تک پہنچی۔ اس دروازے کے سامنے یہودیوں نے رقص کی محفل کا انعقاد کیا اور اسلام اور عربوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ خیال رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے مسجد اقصی پر یہودیوں کے حملوں کی کوششیں جاری ہیں جس کے بعد القدس میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں

Comments are closed.