بگرام ائیربیس میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنا ناقابل معافی جرم ہے، علامہ امین شہیدی

Posted: 23/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دینے والوں کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے، اب مسئلے کا واحد حل نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے بگرام ائیر بیس میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب نذر آتش کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مکروہ ترین فعل اور ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ مرکزی دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ  امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کے فوجیوں نے قرآن پاک کے نسخوں سمیت دیگر اسلامی کتب کو نذر آتش کر کے تمام عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس اور رنج کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولے برسائے گئے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگرچہ کچھ قرآنی نسخوں کو مکمل طور پر جلنے سے بچا لیا گیا ہے لیکن مغربی افواج کے اس گھناؤنے جرم کو کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو مذہبی اخوت اور رواداری کا سبق سکھانے والوں اور نام نہاد مہذب معاشروں سے تعلق رکھنے والوں کے چہروں سے نقاب اٹھ چکا ہے اور ان کی اصل شکل اور رنگ سب کے سامنے آ چکا ہے۔ دراصل اسی طرح کے لوگ انتہا پسند اور دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے کہا یہ فوجی تو دور جاہلیت سے بھی بدتر تہذیب کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی مغربی ممالک ساری دنیا کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ یہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دینی کتب کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان ایلن کی محض معافی کافی نہیں۔ اب مسئلے کا واحد حل صرف یہ ہے کہ نیٹو افواج فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں، تاکہ یہاں پر افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکیں۔

Comments are closed.