امریکہ جنداللہ کھڑی کر کے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی سازش کر رہا ہے، فضل کریم

Posted: 23/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, USA & Europe

صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں، ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائی جائے گی۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے فنانس سیکرٹری پیر محمد اطہر القادری کی رہائش گاہ واقع محافظ ٹاؤن پر ’’سلگتا بلوچستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اور دشمنوں کو گوادر بندرگاہ ہضم نہیں ہو رہی ملک دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں بدامنی کے ہر واقعہ کو ایف سی سے منسوب کر کے درحقیقت پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلوچستان کے فسادات میں غیر ملکی فنڈڈ چار پاکستانی این جی اوز کا کردار بھی سامنے آ گیا ہے بلوچستان کے 27 اضلاع میں صرف پانچ اضلاع میں سورش برپا ہے۔ اس موقع پر حاجی حنیف طیب، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، شیخ اظہر سہیل اور صاحبزادہ صابر گردیزی نے بھی خطاب کیا۔ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو افغانستان میں فوجی اور کمانڈو تربیت دی جا رہی ہے امریکہ جنداللہ کھڑی کر کے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی بھی سازش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد ڈارفر اور مشرقی تیمور کی طرز پر آزاد مملکت بنانا ہے امریکہ پاکستان کے الگ الگ حصے کر کے پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے بلوچستان کے محب وطن عوام کی اکژیت علیحدگی نہیں چاہتی، بلوچ مزاحمت کار اور جنگ جو امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ بلوچستان کو بچانے کا ہے اس لیے تمام قومی قیادت باہمی اختلافات بھلا کر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی طرف میدانِ عمل میں آئے کانگریس میں قرارداد پیش کرنے والے امریکہ کو مقبوضہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین میں ہونے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔ دریں اثناء سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائے گی، اس تحریک کے دوران چاروں صوبوں میں بلوچستان بچاؤ کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ سے سینئر علماء و مشائخ کے وفود بلوچستان بھیجے جائیں گے جو بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے نیز بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت کے خلاف دستخطی مہم چلا کر لاکھوں دستخطوں پر مشتمل خصوصی یادداشت اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو بھیجی جائے گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچ عوام پاکستان سے نہیں علیحدگی پسند اور امریکہ و بھارت کے ایجنٹ مٹھی بھر بلوچ سرداروں سے آزادی چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند قوتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکہ و بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اور بھارت بلوچستان کو بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے چار گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں امریکہ، یورپ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے چودہ قونصل خانے بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں، صوبے کے خراب حالات کی ذمہ دار بھارتی ایجنسیاں ہیں اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی ٹریننگ را اور سی آئی اے کرتی ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ پاکستان کی غیرت مند اور دلیر قوم پاکستان توڑنے کی کسی ناپاک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت اکبر بگٹی کے قاتل جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لائے تا کہ بلوچ عوام کا غصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج متحد ہو جائے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان پر امریکی قرارداد سے امریکہ کے مکروہ عزائم سامنے آ گئے ہیں، امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف بند باندھنے اور بلوچ عوام کی دلجوئی کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، طارق محبوب، شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی، محمد نواز کھرل، مولانا وزیر القادری، الحاج سرفراز تارڑ، مفتی محمد سعید رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔

Comments are closed.