امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشتگردی کرا رہے ہیں، عسکری ذرائع

Posted: 23/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

فوجی ذرائع کے مطابق کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جنداللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔گوادر پورٹ کے شدید مخالف ممالک اور ان کی ایجنسیاں جو پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی خراب کرانا چاہتی ہیں بلوچستان میں دہشتگردی اور قتل و غارت کی ذمہ دار ہیں۔ یہ بات عسکری ذرائع نے ”دی نیشن“ کو بتائی۔ فوجی ذرائع کے مطابق گوادر بندرگاہ بلوچستان کی تقدیر بدل کر وہاں معاشی خوشحالی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ بات دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اسی طرح کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جند اللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔  فوجی ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے، تنظیم زی (بلیک واٹر کا نیا نام) بھارت اور اسرائیل ان ممالک میں شامل ہیں جو بلوچستان میں دہشتگردی کرا رہے ہیں اور ناراض بلوچ رہنماوں میں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ ان عناصر کو بلوچستان سے نکالنے میں ناکام رہی ہے، اس وجہ سے ان کی دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیاں اور روزمرہ کی قتل و غارت بلوچستان کے عوام میں پریشانی کی لہر پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے کئی رہنماوں کو فیڈریشن کے خلاف بولنے کا موقع مل رہا ہے اور ان میں سے بعض نے آزاد بلوچستان کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ حکومت اور کچھ سیاسی جماعتوں نے الگ الگ کانفرنسیں منعقد کی ہیں تاکہ بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے، تاہم دشمنوں نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور ان کارروائیوں کے نتیجہ میں بلوچستان کے عوام یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، تاہم فوجی ذرائع نے کہا کہ فوج اور ایف سی نے اپنے طور پر کبھی بھی آپریشن نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بلوچستان کی حکومت کے احکامات پر عمل کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فوج اور ایف سی بلوچستان میں جو کچھ کر رہی ہیں اس کی ذمہ دار بلوچستان کی حکومت ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق فوج ا ور ایف سی نے اس وقت جوابی کارروائی کی جب ان پر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوج اور ایف سی نے صوبے میں ایسے منصوبے بنائے جن سے 20 ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ ان منصوبوں کے تحت 15 ہزار افراد کو پہلے ہی ر وزگار مل چکا ہے اور باقی 5 ہزار افراد کو اس برس کے آخر تک روزگار مل جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان پر کوریج کے حوالے سے وہ میڈیا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیا پر دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ اسے جو فوج، ایف سی اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنے دفاع میں کرتی ہیں اسے بڑھا چڑھا کر بیان کر دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ سوال پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا کہ پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے، علیحدگی کو کون ہوا دے رہا ہے اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے۔  ایک سوال پر فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے مخالف بہت سے بلوچ رہنما ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی سے ان کی حیثیت پر فرق پڑے گا اور ان کی اتھارٹی کمزور ہو گی۔ اس موقع پر ایف سی کی طرف سے 26 برس بعد کان کنی کا کام دوبارہ شروع کرنے کا حوالہ دیا گیا، جس پر نواب خیر بخش مری نے تبصرہ کیا تھا کہ میرے بیٹے کی موت سے میری کمر نہیں ٹوٹی لیکن اس منصوبے سے ٹوٹ گئی۔

Comments are closed.