Archive for 23/02/2012

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران حکومت نے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کے لیے یونیفارم پہننا لازمی کر دیا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق خواتین سرکاری اہلکاروں پر اکیس مارچ سے یونیفارم  رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے رنگ کا کورٹ یا چادر اور اسکارف زیب تن کرنے کی شرط لگا دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس یونیفارم کو جامعات کے پروفیسروں اور ایران کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔ ایران کے اسلامی قوانین کی رو سے ملک میں خواتین کو ویسے ہی لمبے کورٹ یا چادر اور اسکارف پہننا پڑتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے حوالے سے پہلے ہی سے سخت شرائط موجود ہیں جبکہ لبرل ایرانی حلقے ویسے ہی اس کے خلاف ہیں۔مدیحہ ایم تہران کے ایک سرکاری دفتر میں کام کرتی ہیں۔ یونیفارم پہننے کی اس نئی شرط کے بارے میں وہ کہتی ہیں: ’’یونیفارم کے جو نمونے میں نے دیکھے ہیں، وہ تقریباً اسی طرح کے ہیں جو ہم اس وقت پہنتے ہیں اور یہ بات مجھے اسکول کے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔ایرانی اسٹیٹ بینک کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے یہ کوشش کی تھی کہ تمام خواتین ایک سی لگیں، مگر وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ تہران حکومت کے مطابق اس نے یونیفارم کی تیاری کے لیے ایک سروے کروایا تھا جس کے بعد یونیفارم کے رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے کورٹ یا چادر اور اسکارف جو کہہ پہلے سے ایرانی معاشرے میں رائج ہیں  رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لباس سے متعلق ایسا ہی ایک لازمی ضابطہ جلد ہی سرکاری دفاتر کے مرد اہلکاروں کے لیے بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

Advertisements

بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے ايران کے ساتھ تازہ ترين مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں۔ تبصرہ نگار کے مطابق يہ ايک سفارتی حل کے ليے اچھی علامت نہيں ہےبين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں نے ايک فوجی اڈے کے اندر واقع ايرانی ايٹمی تنصيب پارشين تک رسائی کے ليے دو روز تک کوشش کی ليکن تہران حکومت اس پر راضی نہ ہوئی۔اس نے کليدی دستاويزات کا معائنہ کرنے اور ايٹمی پروگرام ميں حصہ لينے والے سائنسدانوں سے بات چيت کرنے کی اجازت بھی نہيں دی۔ اس کے بعد ايٹمی توانائی ايجنسی کے سائنسدان اپنے مشن ميں ناکام ہو کر واپس آ گئے۔ ايرانی حکام کی طرف سے کہا گيا کہ بين الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بات چيت خوشگوار اور پراعتماد ماحول ميں ہوئی۔ ايک ناکام مشن کی اس سے زيادہ غلط تشريح ممکن نہيں تھی۔ چند ہفتوں کے اندر معائنہ کاروں کے دوسرے ناکام مشن کا مطلب اگلے ہفتوں اور مہينوں کے ليے اچھا نہيں ہے۔ خاص طور پر جب اسے سياق و سباق کے حوالے سے ديکھا جائے۔
ايک دوسرے کی اقتصادی ناکہ بندی
ايرانی حکومت مارچ کے پارليمانی انتخابات سے قبل ايک اور زيادہ سخت پاليسی پر مائل نظر آتی ہے۔ ايرانی وزارت تيل نے پچھلے ويک اينڈ پر ہی فرانس اور برطانيہ کو ايرانی تيل کی فراہمی فوراً بند کر دينے کا اعلان کر ديا تھا۔ دونوں ملکوں نے يورپی يونين کی طرف سے ايرانی تيل کی درآمد پر يکم جولائی سے عائد کی جانے والی پابندی کو خاص طور پر سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کيا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ايرانی بحريہ نے شام کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے ليے دو جہاز بحيرہء روم پہنچا ديے تھے۔ فوجی لحاظ سے يہ ايک غير اہم کارروائی ہے ليکن شام کی صورتحال کی وجہ سے يہ ايک سوچی سمجھی اشتعال انگيزی تھی۔ يورپی اور امريکی ايرانی تجارت ميں خلل ڈالنے کی کوششوں ميں اچھا خاصا آگے بڑھ چکے ہيں۔ ٹيلی کميونیکيشن سسٹم اوررقوم کی منتقلی کا زيادہ تر کاروبار انجام دينے والا ادارہ Swift ايرانی بينکوں سے روابط منقطع کرنے ميں مصروف معلوم ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں ايران کو ان ممالک سے بھی تجارت کرنے ميں شديد مشکلات پيش آئيں گی جنہوں نے ايران پر کوئی پابندی نہيں لگائی۔ ان ميں روس اور چين پيش پيش ہيں۔
اعتماد کے بجائے مخاصمت
درحقيقت فريقين نے آخر ميں نئے مذاکرات کے ليے کوششيں کی تھيں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ايرانی مذاکراتی قائد جليلی نے يورپی يونين کی امور خارجہ کی ذمہ دار کیتھرين ايشٹن کو ان کے اکتوبر 2011 کے مکتوب کا جواب ديا تھا اور ايران کے ايٹمی پروگرام پر بات چيت پر آمادگی کا اشارہ ديا تھا۔ ايشٹن نے اپنے خط ميں پرامن مقاصد کے ليے ايٹمی پروگرام کے ايرانی حق کو واضح طور پر تسليم کيا تھا اور اس طرح ايک سازگار فضا پيدا کردی تھی۔بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کار ايران ميں يہ جانچ پرکھ کرنا چاہتے تھے کہ کيا ایران کا ايٹمی پروگرام واقعی پرامن مقاصد کے ليے ہے، جيسا کہ ايران کا دعوٰی ہے۔ ليکن ايران نے تعاون اور اس طرح رفتہ رفتہ اعتماد کا ماحول پيدا کرنے کے بجائے سختی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختيار کيا۔ اس طرح مذاکرات پر زور دينے والے جرمنی جيسے ممالک بھی يہ تاثر حاصل کر رہے ہيں کہ ايران کے ليے مذاکرات کا واحد مقصد مزيد مہلت حاصل کرنا ہے، جس دوران اسرائيل ايرانی ايٹمی تنصيبات پر حملے سے گريز کرتا رہے اور ايران ايٹمی ہتھياروں کی تياری جاری رکھے۔
اسرائيلی عزائم کی حوصلہ افزائی
اقوام متحدہ کی ويٹو طاقتيں اور جرمنی اب ايران کی نئے مذاکرات کی پيشکش قبول کرنے پر غور کر رہے ہيں۔ بين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں کے حاليہ مشن کا مقصد يہ بھی آزمانا تھا کہ ايران اپنے ايٹمی پروگرام کے بارے ميں شکوک و شبہات دور کرنے کے ليے کس حد تک معائنے کی اضافی اجازتيں دينے پر تيار ہے۔ يہ آزمائش دوسری بار ناکام رہی ہے۔يہ سب کچھ اسرائيلی حکومت کے عزائم کے لیے اور تقويت کا باعث ہے، جو يہ سمجھتا ہے کہ ايران کو صرف فوجی طاقت کے ذريعے ہی ايٹم بم بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو اگلے ہفتے سياسی مذاکرات کے ليے واشنگٹن جا رہے ہيں۔ اب امريکی صدر کے ليے اسرائيل سے يہ کہنا اور بھی مشکل ہو گيا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔

مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دینے والوں کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے، اب مسئلے کا واحد حل نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے بگرام ائیر بیس میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب نذر آتش کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مکروہ ترین فعل اور ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ مرکزی دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ  امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کے فوجیوں نے قرآن پاک کے نسخوں سمیت دیگر اسلامی کتب کو نذر آتش کر کے تمام عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس اور رنج کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولے برسائے گئے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگرچہ کچھ قرآنی نسخوں کو مکمل طور پر جلنے سے بچا لیا گیا ہے لیکن مغربی افواج کے اس گھناؤنے جرم کو کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو مذہبی اخوت اور رواداری کا سبق سکھانے والوں اور نام نہاد مہذب معاشروں سے تعلق رکھنے والوں کے چہروں سے نقاب اٹھ چکا ہے اور ان کی اصل شکل اور رنگ سب کے سامنے آ چکا ہے۔ دراصل اسی طرح کے لوگ انتہا پسند اور دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے کہا یہ فوجی تو دور جاہلیت سے بھی بدتر تہذیب کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی مغربی ممالک ساری دنیا کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ یہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دینی کتب کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان ایلن کی محض معافی کافی نہیں۔ اب مسئلے کا واحد حل صرف یہ ہے کہ نیٹو افواج فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں، تاکہ یہاں پر افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکیں۔

صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں، ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائی جائے گی۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے فنانس سیکرٹری پیر محمد اطہر القادری کی رہائش گاہ واقع محافظ ٹاؤن پر ’’سلگتا بلوچستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اور دشمنوں کو گوادر بندرگاہ ہضم نہیں ہو رہی ملک دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں بدامنی کے ہر واقعہ کو ایف سی سے منسوب کر کے درحقیقت پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلوچستان کے فسادات میں غیر ملکی فنڈڈ چار پاکستانی این جی اوز کا کردار بھی سامنے آ گیا ہے بلوچستان کے 27 اضلاع میں صرف پانچ اضلاع میں سورش برپا ہے۔ اس موقع پر حاجی حنیف طیب، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، شیخ اظہر سہیل اور صاحبزادہ صابر گردیزی نے بھی خطاب کیا۔ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو افغانستان میں فوجی اور کمانڈو تربیت دی جا رہی ہے امریکہ جنداللہ کھڑی کر کے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی بھی سازش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد ڈارفر اور مشرقی تیمور کی طرز پر آزاد مملکت بنانا ہے امریکہ پاکستان کے الگ الگ حصے کر کے پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے بلوچستان کے محب وطن عوام کی اکژیت علیحدگی نہیں چاہتی، بلوچ مزاحمت کار اور جنگ جو امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ بلوچستان کو بچانے کا ہے اس لیے تمام قومی قیادت باہمی اختلافات بھلا کر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی طرف میدانِ عمل میں آئے کانگریس میں قرارداد پیش کرنے والے امریکہ کو مقبوضہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین میں ہونے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔ دریں اثناء سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائے گی، اس تحریک کے دوران چاروں صوبوں میں بلوچستان بچاؤ کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ سے سینئر علماء و مشائخ کے وفود بلوچستان بھیجے جائیں گے جو بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے نیز بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت کے خلاف دستخطی مہم چلا کر لاکھوں دستخطوں پر مشتمل خصوصی یادداشت اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو بھیجی جائے گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچ عوام پاکستان سے نہیں علیحدگی پسند اور امریکہ و بھارت کے ایجنٹ مٹھی بھر بلوچ سرداروں سے آزادی چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند قوتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکہ و بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اور بھارت بلوچستان کو بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے چار گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں امریکہ، یورپ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے چودہ قونصل خانے بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں، صوبے کے خراب حالات کی ذمہ دار بھارتی ایجنسیاں ہیں اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی ٹریننگ را اور سی آئی اے کرتی ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ پاکستان کی غیرت مند اور دلیر قوم پاکستان توڑنے کی کسی ناپاک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت اکبر بگٹی کے قاتل جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لائے تا کہ بلوچ عوام کا غصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج متحد ہو جائے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان پر امریکی قرارداد سے امریکہ کے مکروہ عزائم سامنے آ گئے ہیں، امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف بند باندھنے اور بلوچ عوام کی دلجوئی کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، طارق محبوب، شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی، محمد نواز کھرل، مولانا وزیر القادری، الحاج سرفراز تارڑ، مفتی محمد سعید رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔

فوجی ذرائع کے مطابق کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جنداللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔گوادر پورٹ کے شدید مخالف ممالک اور ان کی ایجنسیاں جو پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی خراب کرانا چاہتی ہیں بلوچستان میں دہشتگردی اور قتل و غارت کی ذمہ دار ہیں۔ یہ بات عسکری ذرائع نے ”دی نیشن“ کو بتائی۔ فوجی ذرائع کے مطابق گوادر بندرگاہ بلوچستان کی تقدیر بدل کر وہاں معاشی خوشحالی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ بات دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ اسی طرح کچھ ممالک پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دہشتگرد تنظیم جند اللہ سے ”سمجھوتہ“ کر کے ایران میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔  فوجی ذرائع کے مطابق امریکی سی آئی اے، تنظیم زی (بلیک واٹر کا نیا نام) بھارت اور اسرائیل ان ممالک میں شامل ہیں جو بلوچستان میں دہشتگردی کرا رہے ہیں اور ناراض بلوچ رہنماوں میں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ ان عناصر کو بلوچستان سے نکالنے میں ناکام رہی ہے، اس وجہ سے ان کی دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیاں اور روزمرہ کی قتل و غارت بلوچستان کے عوام میں پریشانی کی لہر پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے کئی رہنماوں کو فیڈریشن کے خلاف بولنے کا موقع مل رہا ہے اور ان میں سے بعض نے آزاد بلوچستان کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ حکومت اور کچھ سیاسی جماعتوں نے الگ الگ کانفرنسیں منعقد کی ہیں تاکہ بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے، تاہم دشمنوں نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور ان کارروائیوں کے نتیجہ میں بلوچستان کے عوام یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، تاہم فوجی ذرائع نے کہا کہ فوج اور ایف سی نے اپنے طور پر کبھی بھی آپریشن نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بلوچستان کی حکومت کے احکامات پر عمل کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فوج اور ایف سی بلوچستان میں جو کچھ کر رہی ہیں اس کی ذمہ دار بلوچستان کی حکومت ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق فوج ا ور ایف سی نے اس وقت جوابی کارروائی کی جب ان پر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوج اور ایف سی نے صوبے میں ایسے منصوبے بنائے جن سے 20 ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔ ان منصوبوں کے تحت 15 ہزار افراد کو پہلے ہی ر وزگار مل چکا ہے اور باقی 5 ہزار افراد کو اس برس کے آخر تک روزگار مل جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان پر کوریج کے حوالے سے وہ میڈیا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ میڈیا پر دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ اسے جو فوج، ایف سی اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنے دفاع میں کرتی ہیں اسے بڑھا چڑھا کر بیان کر دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ سوال پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا کہ پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے، علیحدگی کو کون ہوا دے رہا ہے اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے۔  ایک سوال پر فوجی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے مخالف بہت سے بلوچ رہنما ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی سے ان کی حیثیت پر فرق پڑے گا اور ان کی اتھارٹی کمزور ہو گی۔ اس موقع پر ایف سی کی طرف سے 26 برس بعد کان کنی کا کام دوبارہ شروع کرنے کا حوالہ دیا گیا، جس پر نواب خیر بخش مری نے تبصرہ کیا تھا کہ میرے بیٹے کی موت سے میری کمر نہیں ٹوٹی لیکن اس منصوبے سے ٹوٹ گئی۔

لاہور سے آئے ہوئے ذمہ داران و علماء کرام کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں حکمران اور طاقتور ادارے عوام کی اصل صورتحال سے آگاہ رہیں تاکہ عوام اُن اندرونی و بیرونی قوتوں کا آلہ کار نہ بنیں جو کہ بلوچستان اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ آج کا پاکستان شدید ترین بحرانوں میں گھرا ہوا اور کٹھن حالات کا شکار ہے، ہماری صفوں کا انتشار اپنی حدوں کو چھو رہا ہے اور ملک دشمن قوتیں اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ملک کے خلاف صف آراء ہو رہی ہیں۔ یہود و ہنود کی ایجنٹ کالعدم جماعتوں نے ذاتی مفادات، مالی فائدے کی خاطر پوری قوم کی جان و مال عزت و آبرو کو داو پر لگا دیا ہے۔ پاکستان سنی تحریک ملک سے کرپشن، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت سے پاک مستحکم پاکستان چاہتی ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کی تعبیر کو پورا کرنے کیلئے فلاحی ریاست کے حقیقی تصور کو پورا کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کریگی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے لاہور سے آئے ہوئے ذمہ داران و علماء کرام کے علیحدہ علیحدہ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ہونا چاہیے بلوچستان کی صوبائی حکومت مقامی انتظامیہ کو مستحکم کرے اور حکومت بلوچستان ایف سی کی ڈیوٹیوں کو سرحدوں تک محدود کرے تاکہ بلوچستان کے بلوچ بھائیوں کے احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے حکمران اعلانات کرنے کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات کریں تاکہ بلوچ بھائیوں کو گمراہ کرنے والی بیرونی و اندرونی طاقتوں کو کمزور کیا جاسکے اور یہ اُسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب بلوچستان کے عام آدمی کے مسائل وہاں کے وسائل کے لحاظ سے حل کئے جائیں اور ان کا حق خودارادی دیکر صوبے کو بااختیار بنایا جائے کیونکہ یہ ہی جمہوری اور آئینی راستہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں حکمران اور طاقتور ادارے عوام کی اصل صورتحال سے آگاہ رہیں تاکہ عوام اُن اندرونی وبیرونی قوتوں کا آلہ کار نہ بنیں جو کہ بلوچستان اور ملک کو غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں بریفینگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایک ملزم نے ڈیڑھ سال بعد واردات میں استعمال ہونے والی سم ڈالی، جس سے پیش رفت ہوئی۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد تمام تفصیلات بتائیں کہ وہ کس مدرسے میں ٹھہرے، کہاں سے اسلحہ حاصل کیا اور ملزم نے یہ بھی بتایا کہ مدرسے کا کون سا کمرہ استعمال ہوا۔وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے محترمہ بےنظیر بھٹو سے کہا کہ اگر آپ انتخابات سے قبل پاکستان آئیں تو سکیورٹی کی ذمہ دار حکومت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بےنظیر قتل میں مدرسہ حقانیہ کا پلیٹ فارم استعمال ہوا، شواہد اور ثبوت سامنے لانے میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر قتل کیس کے ہر ملزم کے خلاف شواہد مل گئے۔ منصوبہ سازوں تک پہنچنا ابھی باقی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے سندھ اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بینظیر کے واپس آنے پر 18 اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزم نے ڈیڑھ سال بعد واردات میں استعمال ہونے والی سم ڈالی، جس سے پیش رفت ہوئی۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد تمام تفصیلات بتائیں کہ وہ کس مدرسے میں ٹھہرے، کہاں سے اسلحہ حاصل کیا اور ملزم نے یہ بھی بتایا کہ مدرسے کا کون سا کمرہ استعمال ہوا۔ اگر میں پہلے مدرسے کا نام لے لیتا تو لوگ کہتے کہ ان کے پاس ثبوت نہیں۔ اب معلوم ہو چکا ہے کہ مدرسہ حقانیہ کا کونسا کمرہ اور ٹرانسپورٹ استعمال کی گئی، اس بارے میں تمام ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کافی حد تک بینظیر بھٹو کا کیس حل ہو چکا ہے، تاہم بعض معلومات حساس نوعیت کی ہیں جنہیں منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ن لیگ اور مشرف نے انتقامی کارروائیاں کیں، دھمکیوں کے باوجود بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں۔ انہیں وعدے کے مطابق سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ مشرف اور طالبان بینظیر کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ انہوں ‌نے کہا کہ قاری حسین نے درجنوں خودکش حملہ آوروں کو تربیت دی، حملہ آور بھیس بدل کر بینظیر بھٹو کے جلسے میں شریک ہوئے۔ ایک خاص گروپ محترمہ کو خطرہ سمجھتا تھا۔ رمزی یوسف جو خالد شیخ محمد کو بھانچا ہے نے بھی محترمہ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ بیت اللہ محسود اور القاعدہ رہنما المصری نے بنایا۔ انہوں‌نے کہا کہ مشرف کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔ ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔ سندھ اسمبلی میں حملہ آوروں ‌کی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ دیگر ذرائع کے مطابق بینظیر قتل کی سازش القاعدہ رہنما ابو عبیدہ المصری نے تیار کی عمل درآمد بیت اللہ محسود نے کرایا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی تفصیلات سندھ اسمبلی میں پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف ہیں، انٹر پول کے ذریعے گرفتار کیا جائے گا۔ رحمان ملک نے کہا کہ جانتے ہیں بینظیر بھٹو کو قتل کس نے کیا۔ سازش سے لیکر سازش پر عمل تک کے ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔ رحمان ملک کے مطابق پرویز مشرف نے مذاکرات کے دوران بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ انتخابات سے پہلے پاکستان مت آئیں، جس پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گی۔
رحمان ملک کے مطابق بینظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان نہ آنے کی بات نہ ماننے پر پرویز مشرف نے دھمکی دی تھی کہ واپسی پر نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی، رحمان ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو طویل عرصے سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ نواز شریف کے دور میں سیف الرحمان کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرائے جانے کا سلسلہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جاری رہا، تاہم محترمہ بینظیر بھٹو نے تمام زیادتیوں کے باوجود مفاہمت کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو نے کراچی میں امن کی خواہش کیساتھ ایم کیو ایم سے مذاکرات کیلئے کہا تھا۔ رحمان ملک نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو اندازہ تھا کہ مستقبل میں ملک کو بڑے مسائل کا سامنا ہو گا، اسی لئے انہوں نے مصالحت کا آغاز کیا۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگان اسلام بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الازہر نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان گفتگو کو مغرب کے ساتھ اسلام کے ڈائیلاگ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ العالم نے شیخ الازہر احمدالطیب کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بزرگان اسلام  بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ شیخ الازہر نے کہا کہ شیعہ، مسلمان ہيں اور ان کا اسلام بھی اہلسنت کا اسلام ہے اور اہلسنت اور شیعہ صرف چند معمولی مسائل میں اختلافات رکھتے ہيں۔ احمدالطیب نے مزید کہا کہ الازہر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ شیعوں اور سنیوں کا اختلاف اصول دین میں نہيں ہے بلکہ صرف فروع دین میں ہے۔ الطیب نے کہا کہ الازہر کی نظر میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی فرقے کلمہ شہادتین کے قائل ہيں۔ دیگر ذرائع نے بھی کہا ہے کہ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر احمد محمدالطیب نے انتہا پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر بعض الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز میں شیعوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احمدالطیب نے شیعہ سنی اختلاف کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس کے با‏عث بعض افراد شیعوں کو کافر کہتے ہیں کہا کہ شیعہ سنی اختلافات چندجزئی چيزوں تک محدود ہیں اور بعض افراد کا یہ دعوی کہ شیعوں کا قرآن اہل سنت کے قرآن سے مختلف ہے، یہ باتیں  بےبنیاد ہیں۔ روزنامہ المصریون کے مطابق شیخ الازہر شیعہ اور سنی نظریات کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے شیعہ مسلمانوں کے بارے ميں شیخ الازہر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونیوں نے مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرکے ایک ارب مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے۔ حزب اللنے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا مجرمانہ اقدام تمام اخلاقی، سیاسی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ امریکی فوجیوں نے کل افغانستان میں قرآن مجید کے کئی نسخوں کو آگ ل‍گا کر جلا دیا تھا جس کے بعد امریکہ کے خلاف افغانستان اور دیگر ممالک میں مظاہرے جاری ہیں ادھر امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ اور امریکی وزیر دفاع پنیٹا نےامریکی فوجیوں کےاس  وحشیانہ اقدام پر معافی مانگی ہے۔

کراچی: امریکانے پاکستان کو سمندری حدود کی فضائی نگرانی کرنے والے دوجدید”پی تھری سی “ اورین طیارے فراہم کردیئے ہیں اوران کو باقاعدہ طورپر بحریہ کے بیڑے میں شامل کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایک تقریب منگل کو یہاں نیول ایوی ایشن بیس میں منعقد ہوئی،پاکستان نیوی کے مطابق ان ایئرکرافٹس کے ملنے سے سمندری حدودکی فضائی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا،یہ ایئرکرافٹس جنہیں جدید ایویونکس(الیکٹرانک نظام) اور سینسرز سے لیس کیاگیاہے اس امریکی امداد کا حصہ ہے جو پاک بحریہ کو فارن ملٹری فنڈنگ (ایف ایم ایف) پروگرام کے تحت مہیا کی جا رہی ہے جس کے مطابق امریکہ پاکستان نیوی کو اس طرز کے کل چھ جہازفراہم کرے گا۔ اس سلسلے کا پہلابیچ 2010ء میں پاکستان نیوی کے حوالے کیا گیا تھا ، پاکستان نیوی کے مطابق ان ائیر کرافٹس کے ملنے سے شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کی اپنی سمندری حدود کی فضائی نگرانی اور مفادات کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ یہ علاقہ عالمی معیشت کے حوالے سے تجارت اور توانائی کا اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے جو قانونی اور غیر قانونی بحری سرگرمیوں کا مرکز ہے اس لئے مسلسل نگرانی کا متقاضی ہے۔

امریکہ اور یورپ میں مختلف عمروں کے افراد اور نوجوانوں جو ایسی فلمیں بہت زیادہ دیکھتے ہیں جن میں بھرپور بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) اور شراب نوشی دکھائی جاتی ہے عام لوگوں سے دو گنا زیادہ سیکس اور شراب نوشی کرتے ہیں۔ ماہرین نے 6500 افراد اور نوجوانوں سے چار مرتبہ سے زیادہ سوال کیا کہ کیا انہوں نے 50 فلموں میں سے کوئی فالم دیکھی ۔ ان  افراد اور ٹین ایجرز سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے والدین سے چھپ کرسیکس فلمیں دیکھیں ہیں اور شراب نوشی کی نیز کب سے انہوں نے ایک ساتھ کم ازکم پانچ جام پینا شروع کئے۔اس کے بعد ان سے سیکس فلموں کا اور شراب نوشی کے استعمال کے نقطہ نظر سے تجزیہ کیا گیا۔ مطالعہ کے مطابق ان نوجوانوں نے ان فلموں میں راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) اور  شراب نوشی کے مناظر کم از کم ساڑھے چار گھنٹے دیکھے اور ان میں سے بعض نے آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ یہ مناظر دیکھے۔ اس مطالعہ میں اس کا جائزہ بھی لیا گیا کہ والدین کی جانب سے اہل خانہ کو راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) سے نہ روکنے اور شراب نوشی کا اولادوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔11 فیصد افراد اور نوجوانوں نے بتایا کہ سیکس کرنے کے لیے مختلف کمپنیز کے سیکسی گفٹس اور فری کنڈوم کے سیمپلز اور شراب کے ساتھ ملنے والے گفٹس مثلا بیئر کی بوتل والی شرٹس انکے پاس موجود ہیں۔ 23 فیصد کے مطابق ان کے والدین ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ گھر میں ان کے سامنے شراب پیتے ہیں۔دو سال کے عرصے پر محیط اس سروے میں دیکھا گیا کہ راہ روی، اخلاقی انحطاط (سیکس) اور شراب نوشی کرنے والے افراد اور نوجوانوں کا تناسب 11 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہوگیا۔جبکہ بنج ڈرنکنگ کرنے والے نوجوانوں کا تناسب تین گنا ہو گیا۔ راہ روی اور اخلاقی انحطاط (سیکس) والی اور شراب نوشی دکھانے والی فلمیں دیکھنے والے 63 فیصد افراد اور نوجوان عام افراد سے زیادہ سیکس اور بنج ڈرنکنگ کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے کئی قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں