بے خوابی کا علاج، مصروف زندگی

Posted: 22/02/2012 in All News, Educational News, Health & Sports News, Survey / Research / Science News

بے خوابی کے علاج کیلئے متاثرہ شخص کو اپنے اردگرد کے ماحول کو اچھا اور خود کو معمولات زندگی میں مصروف رکھنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر نفسیات عائشہ موکم قریشی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کی کئی اقسام ہیں جیسے ابتدائی اور مختصر جزو وقتی بے خوابی، وقفے وقفے سے نیند کا نہ آنا بے خوابی کی انتہائی شدید صورتحال ہے جس کے دوران مریض معمول کے سونے کے وقت میں کبھی صحیح طرح سے نہیں سوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کا علاج ہر شخص کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ بے خوابی کی بیماری ابتدائی طور پر ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ خود پر مسلط کی ہوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتشار کی صورت ہے جس کے دوران کوئی شخص کام کی زیادتی کے باعث یا تنائو کے ماحول میں معمول کے مطابق اپنی نیند نہیں لے سکتا اور جن ڈاکٹر سے علاج کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے بے خوابی کے مریضوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طور پر خود تشخیص کردہ ادویات کا استعمال نہ کریں جس کے صحت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض ان کا عادی بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات جن سے نیند متاثر ہو سب سے پہلے انہیں جھٹک دینا چاہتے جس سے بیماری کا علاج بغیر ادویات کے ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین بے خوابی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں میں یہ بیماری عام ہوتی ہے جبکہ وہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونے سے قبل غیر ضروری ادویات جیسے کہ وٹامنز کا استعمال نہیں کرنا چاہئے وٹامنز وغیرہ کو ان کے وقت لینا چاہئے۔ انہوں نے اچھی بھرپور نیند کیلئے کچھ تدابیر بھی بتائیں جن کو اپنے سے بے خوابی کا علاج ممکن ہے۔ ان کے مطابق سونے کا کوئی قرینہ یا ترتیب بنائی جائے۔ کافی اور کیفین کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خود کو کسی کام میں مصروف رکھا جائے اور تھکن کی وجہ سے اچھی اور بھرپور نیند آتی ہے اور جب دوسرے سوجائیں تو سونے کی کوشش کی جائے

Comments are closed.