اُبلا پانی۔ یرقان سے بچائو

Posted: 22/02/2012 in All News, Educational News, Health & Sports News, Survey / Research / Science News

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پانی ابال کر استعمال کرنے سے یرقان سمیت پانی سے ہونے والی تمام بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔  یرقان سے بچائو کی حفاظتی تدابیر اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید اور  ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ یرقان کی پانچ اقسام ہیں جن میں اے بی سی ڈی اور ای شامل ہیں۔ یرقان اے اور ای گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ یرقان کی علاقات میں جسم میں ہلکا درد ہونا’ ہلکا بخار ہونا’ متلی ہونا’ پیٹ میں درد’ آنکھوں کا زرد ہونا اور پائوں سوجھ جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرقان ایک خاموش قاتل ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں پانچ سے سات سال کا عرصہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں ایک سے دو فیصد بال گرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین ڈرگ کو دو سے آٹھ ڈگری درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے کیونکہ نارمل درجہ حرارت پر اسے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان میں یرقان کی بنیادی وجہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے اور عام طور پر لوگ اس طرف دھیان نہیں دیتے جس سے یرقان کے جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی وجوہات میں استعمال شدہ بلیڈ اور سرنج’ گندے ہاتھ اور خون کی منتقلی بھی شامل ہے۔

Comments are closed.