افغان جنگ کا ايدھي… دوست،دشمن ميں يکساں محترم عبد الحکيم ،

Posted: 22/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Educational News, Important News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

افغان جنگ ميں عبد الحکيم کو طالبان کمانڈروں ،افغان حکومت اور اتحادي افواج ميں يکساں قابل احترام شخصيت کے طور پر جانا جاتا ہے.وہ کسي بھي سانحے،دھماکے ،يا جنگي جھڑپ کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کرعسکريت پسندوں کي لاشيں اٹھاتاہے ،مناسب ضابطے کي کارروائي کے بعد لاشوں کولواحقين تک پہنچاتا ہے، لاوارث لاشوں کو اسلامي طريقے سے دفن کرديتا ہے ،قندھار ميں اس نے عسکريت پسندوں کے لئے قبرستان بنايا ،گزشتہ چھ برس ميں وہ127لاشوں کو ان کے خاندانوں يا ساتھيوں کے حوالے کرچکاہے.طالبان کمانڈر کسي بھي دھماکے فوراًبعد اسي سے رابطہ کرتے ہيں. قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں ہر لاش کے کوائف ميں’طالب‘ لکھا جاتا ہے،گزشتہ برس ہر ماہ وہاں150لاشيں لائي جاتي تھي.امريکي اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ہزاروں افرادافغان جنگ کا نشانہ بن چکے ،ان ميں کئي افراد حملوں اور دھماکوں کا شکار ہوئے، عبد الحکيم عسکريت پسندوں ،جنگ جوو?ں کي لاشوں،دھماکے کے بعد بکھري باقيات کو لواحقين تک پہچانے کے کام سے پہچانا جاتا ہے . ايسا کوئي واقعہ پيش آئے تو طالبان کمانڈ ان سے رابطہ کرتے ہيں تو حکيم کي طرف سے ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم لاشيں تلاش کر رہے ہيں. جنوبي افغانستان ميں جنگ کے دوران سب سے زيادہ ہلاکتيں ہوئيں . وہ امريکي حکام،افغان حکومت اور طالبان سے اجازت نامے کے بعد وہ ٹرنکوں،لکڑي کے بکسوں والے تھيلوں ميں ڈال کر اپني پيلي ٹيکسي ميں رکھ کر پہنچاتا ہے .خودکش بمبار کي باقيات کے لئے وہ چھوٹے ڈبوں کو استعمال کرتا ہے.حکيم کے مطابق اسے اس سے کوئي غرض نہيں کہ وہ کون ہے ليکن وہ ہر لاش کو اسلامي طريقے سے دفن کرتے ہيں .قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں نيٹو کے فوجيوں کي لاشوں کوا مريکي جھنڈے جب کہ عسکريت پسندوں کي لاشوں کو لکڑي کے تابوت ميں ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے. ريڈ کراس نے اس مردہ خانے ميں ان لاشوں کي باقيات کے تمام کوائف رکھنے کيلئے ايک رجسٹر رکھا ہوا ہيجس ميں ہر عسکريت پسند کے لئے صرف ’طالب‘ استعمال کيا جاتا ہے، حکومت اور عسکريت پسندوں دونوں ميں حکيم عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں.

Comments are closed.