افغانستان میں سردی سے ٹھٹھر کرچالیس بچے جاں بحق

Posted: 22/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Breaking News, Educational News, Health & Sports News, Important News, Survey / Research / Science News

افغانستان میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔مرنے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت انتہائی کم درجہ حرارت میں یہ بچے سردی سے بچا ئوکے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔ اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر نے کہا کہ جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

Comments are closed.