Archive for 22/02/2012

پیرس (رائٹرز) آئی ایم ایف کے سابق سربراہ اسٹراس کاہن کو فرانس کی پولیس نے گرفتار کر لیا، ان سے شمالی فرانس میں قحبہ خانے چلانے اور کمپنی فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق الزام کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے،اس الزام میں اسٹراس کو پولیس 48 گھنٹے اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔

Advertisements

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس نے پاکستان کو مسلسل دوسرے سال صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک قرار دیاہے،نیویارک میں قائم تنظیم کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 46صحافی ماریگئے جس میں سے پاکستان میں سات جبکہ عراق اورلیبیامیں پانچ ،پانچ صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے،مرنیوالوں میں 40فیصد فوٹوگرافرز اور کیمراآریٹرزتھے۔تنظیم کے مطابق 2010ء میں مرنیوالے صحافیوں کی تعداد44تھی۔

تہران : ایران میں الیکشن کیلئے اہل سمجھے جانے والے امیدواروں کی منظوری دینے والی گارڈین کونسل نے 5/ ہزار میں سے 3/ ہزار 444/ کو 2/ مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی ہے۔ جولائی 2009ء میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے پر ہونے والے تنازع کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی عوام 2/ مارچ کو ملک بھر میں اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ دیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حامی امیدوار انتخابات جیت جائیں گے۔

ماسکو (ایجنسیاں) روس نے شام میں جاری بحران کے تصفیے کیلئے منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ذرائع ابلاغ نے روسی وزیر خا رجہ کے حوالہ سے بتایا کہ شامی حکومت کو رواں ہفتے منعقد ہونے والے اجلاس میں نمائندگی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف شامی اپوزیشن کو نمائندگی دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شام میں جاری بحران کے حل کیلئے خصوصی طور پر اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنا چاہئے

لندن (رائٹرز) دنیا میں تیل کی تجارت میں مصروف سب سے بڑی کمپنی ویٹول کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں 120/ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور یورپی مالیاتی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اس سے ایران کا فائدہ ہو رہا ہے۔ ویٹول کے چیف ایگزیکٹو ایان ٹیلر کا کہنا ہے کہ ایرانی چاہتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں جتنی بڑھ سکتی ہیں اتنی بڑھ جائیں کیونکہ ان کا تیل کم ممالک خریدیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اعداد و شمار کے کھیل میں وہ جیت رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا اور یورپ نے ایران پر سخت ترین مالیاتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کیونکہ وہ جوہری پروگرام پر ایران کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ 

اقوامِ متحدہ کے جوہري توانائي کے عالمي ادارے(آئي اے اي اے) نے کہا ہے کہ ايراني حکام نے انسپکٹروں کي ايک ٹيم کو تہران کے قريب ايک اہم فوجي اڈے کا معائنہ کرنے سے روک ديا ہے.برطانوي خبر رساں ادارے کے مطابق جوہري توانائي کے ادارے آئي اے اي اے نے کہا کہ جنوبي تہران ميں واقع پارچن ميں تمام کوششوں کے باوجود اس اڈے کے معائنے پر کوئي سمجھوتہ نہيں ہوسکا ہے.جوہري توانائي کے ادارے کے انسپکٹرز ايران ميں موجود ہيں. انہوں نے کہا ہے کہ وہ تصديق کرنا چاہتے ہيں کہ آيا يہ فوجي اڈہ ايراني جوہري پروگرام کے تناظر ميں استعمال کيا جارہا ہے.ادارے کے ايک اہلکار نے کہا کہ ايراني حکام سے دو روز تک تہران سے تيس کلوميٹر دور پارچن کے فوجي اڈے تک رسائي کا مطالبہ کيا گيا ليکن ايراني حکام نے اس کي اجازت نہيں دي ہے جس کے بعد اب يہ ٹيم ايران سے واپس جارہي ہے.آئي اے اي کے ڈائريکٹر يوکيو امانو نے ايراني جوہري تنصيبات کے معائنے کي اجازت نہ ملنے پر مايوسي کا اظہار کياہے.ادھر ايراني وزارت خارجہ نے کہا کہ آئي اے اي اے کي ٹيم کے پاس معائنے کا مينڈيٹ نہيں ہے. اس سے پہلے ايراني وزارت خارجہ کي جانب سے جاري بيان ميں کہاگيا تھاکہ ايران کي موجودہ ٹيم کو معائنے کا مينڈيٹ حاصل نہيں، ٹيم ارکان سے صرف مذاکرات کئے جائيں گے. واضح رہے کہ ايران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہري پروگرام پرامن مقاصد کے ليے ہے، تاہم مغرب کو شبہ ہے کہ وہ اسے ہتھيار بنانے کے ليے استعمال کرنا چاہتا ہے.

گلگت بلتستان ميں 6روز سے جاري برف باري سے لوگ گھروں ميں محصور ہو کر رہ گئے ہيں . مالاکنڈڈويژن ميں بھي چند ايک مقامات پر ہلکي برف باري جاري ہے. استور ميں 6روز سے جاري برف باري سے لوگ گھروں ميں محصور ہو کر رہ گئے ہيں ،کئي علاقوں ميں بجلي کا نظام متاثر ہے.ديامر،غذر اور اسکردو کے پہاڑوں اور بالائي علاقوں ميں وقفے وقفے سے برف باري ہورہي ہے. مالاکنڈ ڈويژن ميں کالام ،مالم جبہ اور لواري ٹاپ ميں ہلکي برفباري جاري ہے. کالام روڈ ہر قسم کي آمد و رفت کے لئے کھول دياگيا ہے. شمالي بلوچستان ميں بارش اور ژالہ باري کا سلسلہ تھم جانے کے بعد شديد سردي ہے،،ہزارہ ڈويژن ميں موسم ابر آلود ہے.بٹگرام ميں بارش اور ژالہ باري سے کھڑي فصلوں کو شديد نقصان پہنچا ہے ،کوہستان ميں بارش اورلينڈ سلائيڈنگ سے قراقرم ہائي وے کيرو،جيجال اور کيہال کے مقامات پر بند ہے.

برطانوي اورامريکي دفاعي سازوسامان ميں نصب کمپيوٹر ٹيکنالوجي 40برس پراني ہے،برطانيہ کے جوہري پروگرام،امريکي بحريہ کے راڈار نظام اور فرانسيسي ہوائي جہازوں کي کمپيوٹر ٹيکنالوجي 1970کي ہے.ايف15اور ايف18لڑاکا طيارے،ہاک ميزائل، امريکي آبدوزيں،بحري بيڑے، بحريہ کا فائٹر سسٹم اور بين البراعظمي بيلسٹک ميزائلوں ميں 1980کے ويکس مني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں.برطانوي جوہري نظام ميں منسلک کمپيوٹر ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دورکي ہے جو فرانسيسي طيارہ ساز کمپني اپنے ہوائي جہازوں ميں استعمال کرتي ہے.ان کو جديد ٹيکنالوجي سے ليس کرنے ميں کروڑوں ڈالر لاگت اور قومي سيکورٹي ميں خلل کا خدشہ ہے .امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کے مطابق يہ انکشاف حال ہي ميں شائع مضمون ميں سامنے آيا کہ دفاعي ميدان ميں منسلک ٹيکنالوجي قديم ہے اورجديد تقاضوں کے مطابق نہيں ہے. عام طور پر يہ خيال کيا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ميں ريموٹ کنٹرول سے فوجي انٹيلي جنس اکھٹي کرنے اور دشمنوں کو ہدف بنانے کے لئے ڈرونز استعمال کيے جاتے ہيں ڈرونز کي طرح تمام فوجي سازوسامان بھي جديد ترين ٹيکنالوجي سے ليس ہوگا جب کہ ايسا حقيقت ميں نہيں ہے.تاہم کچھ دفاعي ضروريات جديد ٹيکنالوجي سے ليس ہيں جن پر فوج کا انحصار ہے. ليکن زيادہ ترفوجي سازو سامان ميں نصب ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دور کي ہے،يہي ٹيکنالوجي دنيا کا سب بڑا ہوائي جہاز A-380بنانے والے بھي اپني ائر بسوں ميں استعمال کرتے ہيں. اخبار لکھتا ہے کہ يہ صورت حال مشکل اورپريشان کن ہے.بحري جہازوں کا راڈار نظام اور برطانيہ کے جوہري ہتھياروں کي اسٹيبلشمنٹ بھي 1970کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کي طرف سے تيار کردہ پي ڈي پي مني کمپيوٹرز استعمال کرتے ہيں جب کہ فرانسيسي طيارہ ساز بھي اپني ايئر بس ميں اسي نظام کو استعمال کرتے ہيں.F-15اورF-18 لڑاکا طيارے، ہاک ميزائل نظام، امريکي بحريہ کي سب ميرينز اور امريکي بحري بيڑے کے مختلف حصوں، طيارہ بردار بحري جہاز اور بحريہ کا فائٹر سسٹم ان سب ميں 1980 کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کے VAXمني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں. اخبار کے مطابق حسا س اہميت کے پيش نظر ان نظاموں پر مستقبل ميں بھي انحصار کيا جائے گا شايد آئندہ وسط صدي تک يہ نظام اسي طرح کام کرتے رہيں گے.امريکي بين البراعظمي ميزائلوں کا انحصار DEC VAXنامي ٹيکنالوجي پر ہے اور حال ہي ميں اس کو اپ گريڈ کے ليے فنڈز مہيا کيے گئے اور يہ عمل2030تک مکمل ہوگا.رپورٹ کے مطابق دفاعي سازو سامان کي تمام ٹيکنالوجي کي تنصيب ميں کئي اربوں ڈالر کے اخراجات کيے گئے . اس کي تبديلي کے لئے کروڑوں ڈالر کي لاگت آئے گي اور اس عمل کے دوران قومي سلامتي ميں خلل پڑ سکتا ہے.

ميموگيٹ اسکينڈل کے تحقيقاتي کميشن کا اجلاس اسلام آباد ہائي کورٹ جسٹس فائز قاضي عيسي? کي زير صدارت جاري ہے جبکہ دوسري جانب لندن ميں پاکستاني ہائي کميشن ميں اسکينڈل کے مرکزي کردار منصور اعجاز وڈيو لنک کے ذريعے اپنا بيان ريکارڈ کرا رہے ہيں جس کے دوران انہوں نے پاکستاني کے سياسي اور عسکري رہنماو?ں سے تعلقات کا اعتراف کيا. اپنے بيان ميں منصور اعجاز نے کہا کہ تمام باتيں تحريري طور پر دے دي ہيں جو صحيح ہيں. انہوں نے کہا کہ 2003 ميں آئي ايس آئي کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق سے برسلزميں ملاقات ہوئي جبکہ جنرل پرويزمشرف سے2005يا2006ميں لندن ميں ملاقات ہوئي تھي. انہوں نے مزيد کہا کہ پاکستاني حکام کي ساتھ ميرے تعلقات کم ہوگئے ہيں. انہوں نے کہا کہ ان کي صدر آصف زرداري سے آخري ملاقات2009ميں ہوئي تھي. اس سے قبل حسين حقاني کے وکيل زاہدبخاري کي جانب سے بارباراعتراض اٹھانے پرکميشن نے برہمي کا اظہار کيا. زاہد بخاري کاکہنا تھا کہ منصوراعجاز کے تحريري بيان کوزباني بھي ريکارڈ کياجائے. کميشن کے سربراہ جسٹس قاضي فائزعيسي? کا کہنا تھا کہ آپ بارباراعتراضات کرکے عدالت کي معاونت نہيں کررہے.

امير جماعت اسلامي سيد منور حسن نے کہاہے کہ پاکستان کو غير مستحکم کيا جارہا ہے، ملک ميں لاقانونيت، مہنگائي، بے روزگاري، لوڈشيڈنگ ميں اضافہ کيا جارہاہے تاکہ پاکستان کو ايک ناکام رياست اور ايٹمي اثاثوں کو غير محفوظ قرار دے کر ان پر قبضہ کر ليا جائے. وہ منصورہ ميں جماعت اسلامي حلقہ خواتين کي مرکزي شوري? کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے. سيد منورحسن نے کہا کہ امريکا ، بھارت اور اسرائيل کا ٹرائيکا باقاعدہ منصوبے کے تحت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے ايجنڈے پر کام کررہا ہے. انہوں نے کہا کہ برطانيہ سے ڈرون حملے رکوانے کي درخواست کرنے کے بجائے پارليمنٹ اور اے پي سي کي قرار دادوں پر عمل کيا جائے. سيد منورحسن کا کہنا تھا کہ بھارت کي افغانستان کے راستے بلوچستان ميں کھلم کھلا مداخلت کے ثبوت پاکستاني حکام کے پاس موجود ہيں، اس کے باوجود بھارت کو موسٹ فيورٹ نيشن کا درجہ دينے کيلئے بے تابي ہے. ان کا کہنا تھا کہ پاکستاني حکمران بلوچستان کے عوام کو اعتماد ميں ليں وہاں آپريشن بند کر کے مذاکرات کي راہ اختيار کي جائے اور لاپتا افراد کو بازياب کيا جائے .

برطانیہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانی جو امریکہ کیلئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے، اس امریکی کانگریس میں کیلی فورنیا کے ڈینا روہراباکو کی طرف سے پہلے تو ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے تحت بلوچستان پر عوامی سماعت کرانے اور بعدازاں قرارداد پیش کرنے پر سخت صدمہ پہنچا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ جو ایک قوم ہیں، پاکستان افغانستان اور ایران میں منقسم ہیں ان کو اپنا حق خودارادیت اور علیحدہ ملک بنانے کا اختیار ملنا چاہئے، اگرچہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد حکومت کی پالیسی نہیں اور وہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، لیکن اہل نظر بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ہورہاہے، جو بیک وقت اس مسئلے کے ذریعے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنا نشانہ بنارہی ہے، بلوچستان اور خصوصاً گوادر کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی طور پر اہم مقام کی حامل ہے، میاں امریکہ نے اپنے مستقبل کے حریف چین کے اثر و نفوذ سے بھی نہایت خوفزدہ ہے اب وہ بلوچستان کو ایک آزاد ملک بنواکر یہاں اپنا اڈہ بنانے کا خواہاں ہے، چین کی پیش قدمی کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چین کے دوستوں کو کمزور کیاجائے اور اس کے دشمنوں کو مضبوط بنایاجائے، اس پالیسی کے تحت پاکستان کو توڑنے اور بھارت کو ہر قسم کی سہولیات مثلاً انرجی اور ہائی ٹیکنالوجی دے کر طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں، اسی پالیسی کے تحت امریکی دانشور پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، ان پیش گوئیوں کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اب یہ لوگ کسی ملک کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں اور وارننگ دی جارہی ہے کہ ہماری باتوں کو بلا چوں چراں تسلیم کرلیاجائے، بصورت دیگر ہم تمہارا یہ حشر بھی کرسکتے ہیں، اس سازش میں بھارت اور اسرائیل پوری طرح امریکہ کے ساتھ ہیں، بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یقیناً اس میں ہماری اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں بھی شامل ہیں، 58, 73, ء کی بغاوتوں کے اسباب کا سدباب نہ کیاگیا اور اب حال ہی میں سابق صدر مشرف نے قبر میں ٹانگیں لٹکائے اکبر بگٹی کو جس طرح ہلاک کیا، اس سے پاکستان دشمن قوتوں کو جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع ملا ہے، پاکستانسیٹو اورسینٹو میں صرف بھارت کے خوف اور جارحانہ ارادوں کے باعث شامل ہوا تھا، لیکن 65ء اور71ء کی جنگوں میں امریکہ کا جو کردار رہا، اس سے دوستی کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی، 9/11 کے بعد کی جنگ جو بیشتر حلقوں کے نزدیک پاکستان کے مفادات کے خلاف تھی، اس میں ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر زبردستی شامل ہونے پر مجبور کیاگیا، اس بارے میں دونوں ممالک کے مفادات مختلف تھے، جس پر دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ ناگزیر تھا، اب جب کہ امریکہ ایک طرح سے ناکام ہوکر اس علاقے سے واپسی تیاریوں میں مصروف ہیں، اپنا تمام ترغصہ پاکستان پر نکال رہاہے، مختلف طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وسیع تر آزاد بلوچستان کی آڑ میں ایران کو بھی نقصان پہنچانا چاہتاہے، ایرانی قوم کو امریکی چالوں کو عرصے دراز جانتی ہے اور امریکہ کو شیطان بزرگ کے نام سے پکارتی ہے وہ اسے دنیا کا پولیس مین نہیں بلکہ بدمعاش کہتے ہیں، امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم چلاکر بے تحاشا تباہی پھیلائی، بعد میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان اور دنیا کے دیگر کوئی ممالک میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اپنے حامی ڈکٹیٹروں کو تحفظ دیتا رہا اور مخالفین کی حکومتوں کو سی آئی اے کے ذریعے گرایا، اس کو بلوچستان کے عوام کا حق خودارادیت تو واضح طرز پر نظر آگیا ہے،مطالبہ اگرچہ بلوچستان کی جمہوری طور پر منتخب اسمبلی نے بھی نہیں کیا، امریکہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر راتو کو نیند نہیں آرہی، لیکن اس کو نہ تو ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ نظرآیا اور نہ ہی اسے فلسطین میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی کا علم ہے اور انسانی حقوق کی بات وہ ملک کررہاہے، جسکے فوجیوں نے حال ہی میں افغانستان میں مردہ افغانیوں کی لاشوں پر پیشاب کیا، عراق کی ابو غریب جیل میں عراقیوں پر کتے چھوڑے اور لاشوں کی بے حرمتی کی اور گوانتاناموبے میں جو کچھ کیا اس پر خود امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ماتم کررہی ہیں۔

افغان جنگ ميں عبد الحکيم کو طالبان کمانڈروں ،افغان حکومت اور اتحادي افواج ميں يکساں قابل احترام شخصيت کے طور پر جانا جاتا ہے.وہ کسي بھي سانحے،دھماکے ،يا جنگي جھڑپ کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کرعسکريت پسندوں کي لاشيں اٹھاتاہے ،مناسب ضابطے کي کارروائي کے بعد لاشوں کولواحقين تک پہنچاتا ہے، لاوارث لاشوں کو اسلامي طريقے سے دفن کرديتا ہے ،قندھار ميں اس نے عسکريت پسندوں کے لئے قبرستان بنايا ،گزشتہ چھ برس ميں وہ127لاشوں کو ان کے خاندانوں يا ساتھيوں کے حوالے کرچکاہے.طالبان کمانڈر کسي بھي دھماکے فوراًبعد اسي سے رابطہ کرتے ہيں. قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں ہر لاش کے کوائف ميں’طالب‘ لکھا جاتا ہے،گزشتہ برس ہر ماہ وہاں150لاشيں لائي جاتي تھي.امريکي اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ہزاروں افرادافغان جنگ کا نشانہ بن چکے ،ان ميں کئي افراد حملوں اور دھماکوں کا شکار ہوئے، عبد الحکيم عسکريت پسندوں ،جنگ جوو?ں کي لاشوں،دھماکے کے بعد بکھري باقيات کو لواحقين تک پہچانے کے کام سے پہچانا جاتا ہے . ايسا کوئي واقعہ پيش آئے تو طالبان کمانڈ ان سے رابطہ کرتے ہيں تو حکيم کي طرف سے ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم لاشيں تلاش کر رہے ہيں. جنوبي افغانستان ميں جنگ کے دوران سب سے زيادہ ہلاکتيں ہوئيں . وہ امريکي حکام،افغان حکومت اور طالبان سے اجازت نامے کے بعد وہ ٹرنکوں،لکڑي کے بکسوں والے تھيلوں ميں ڈال کر اپني پيلي ٹيکسي ميں رکھ کر پہنچاتا ہے .خودکش بمبار کي باقيات کے لئے وہ چھوٹے ڈبوں کو استعمال کرتا ہے.حکيم کے مطابق اسے اس سے کوئي غرض نہيں کہ وہ کون ہے ليکن وہ ہر لاش کو اسلامي طريقے سے دفن کرتے ہيں .قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں نيٹو کے فوجيوں کي لاشوں کوا مريکي جھنڈے جب کہ عسکريت پسندوں کي لاشوں کو لکڑي کے تابوت ميں ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے. ريڈ کراس نے اس مردہ خانے ميں ان لاشوں کي باقيات کے تمام کوائف رکھنے کيلئے ايک رجسٹر رکھا ہوا ہيجس ميں ہر عسکريت پسند کے لئے صرف ’طالب‘ استعمال کيا جاتا ہے، حکومت اور عسکريت پسندوں دونوں ميں حکيم عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں.

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کامرکز بنانے پر قادر ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے مغربی ممالک حیرت زدہ ہوگئے ہیں۔ رپورٹ یے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے عمان کے وزير خارجہ یوسف بن علوی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کے دوران ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں اس وقت صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کا مرکز بنانے پر قادر ہیں  جن میں ایران بھی شامل ہے اور ایران کی اس پیشرفت کی وجہ سے مغربی ممالک حیرت ذدہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے دو سال پہلے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو 20 فیصد ایندھن فراہم کرنے کا تقاضا پیش کیا تھا اور انھوں نے اس کے بارے میں سخت شرائط عائد کرنا شروع کردیئے جس کے بعد ہم خود 20 فیصد ایندھن کی پیدوار کے لئے مجبور ہوگئے اور ہم نے 20 فیصد ایندھن تیار کرنے کا اقدام کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے غیور جوانوں نے ہمت و شجاعت سے کام لیا اور ملک اندرونی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے 20 فیصد ایندھن تیار کرلیا انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے ایران کے خلاف بہت پروپیگنڈہ کیا کہ ایران ایٹمی ایندھن کا مرکز تعمیر کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن ہم نے ایسا کرکے دکھا دیا اور اس پر مغربی ممالک چراغ پا ہوگئے ہیں انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک ایران کی علمی پیشرفت کو روکنے کی جستجو میں ہیں لیکن ایران انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دےگا کیونکہ علمی پیشرفت ایرانی عوام اور ایرانی جوانوں کا مسلّم حق ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بن علوی نے علاقائی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ رپورٹ کےمطابق عمان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی،  ایرانی وزير خارجہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تہران پہنچ گئے ہیں جہاں اس نے ایرانی وزیر خآرجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس  میں علاقائي حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے عرب ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ بن علوی نے کہا کہ علاقائي عوام  تبدیلی اور تحولات کے خواہاں ہیں اور علاقہ میں یہ صورت حال جاری ہے اورتعمیری مذآکرات کے ذریعہ عوامی مطالبات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ شہریوں کے مطالبات ہیں اور حکومتوں کو ان کے مطالبات پر سچائی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ بن علوی نے کہا کہ بحرینی عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں اور یہ ان کا حق ہے جیسا کہ دیگر ممالک میں عوام تبدیلی لائے ہیں یا تبدیلی کے خواہاں ہیں اس نے کہا کہ عمان بحرینی عوام کے مطالبات کا احترام کرتا ہے

لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی سازش کارفرما ہے۔اخبار القدس العربی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کے وزیر خارجہ عدنان منصور نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی ممالک کی گہری سازش کارفرما ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیونس کے وزیر خارجہ رفیق عبد السلام اس اجلاس میں شرکت کے لئے لبنان کو دعوتنامہ ارسال کیا ہے تاہم لبنان نے اس معمالے میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور لبنان اسی پالیسی کے تحت عرب ممالک کی جانب سے شام کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں بھی شریک نہیں ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی اور عربی ممالک شام کے معاملے کو حل کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور شام کا بحران پورے خطے میں شعلہ ور ہوسکتا ہے علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ شام میں حکومتی اصلاحات کی حمایت کریں اور اختلافات کو مزيد ہوا دینے اور امریکی و اسرائیلی پیروی کرنے سے اجتناب کریں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ مغربی اور عربی ممالک شام کے معاملے کو حل کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور شام کا بحران پورے خطے میں شعلہ ور ہوسکتا ہے علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ شام میں حکومتی اصلاحات کی حمایت کریں اور اختلافات کو مزيد ہوا دینے اور امریکی و اسرائیلی پیروی کرنے سے اجتناب کریں ۔ ترجمان نے کہا کہ مغربی ممالک مسائل حل نہیں کرتے بلکہ وہ مسائل پیدا کرتے ہیں اور اس صورت حال کے پیش نظر علاقائی ممالک کو اپنے مسائل حل کرنے میں امریکہ کو مداخلت کا موقع نہیں دینا چاہیے ترجمان نے کہا کہ شام کا بحران امریکہ اور اسرائیل کی کئی برسوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اب انھیں بعض امریکہ نواز عرب ممالک کی بھی اس سلسلے میں حمایت حاصل ہوگئی ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ نواز عرب ممالک نے کبھی بھی اسرائیل کے مظآلم اور جرائم کے خلاف آواز بلند نہیں کی اور نہ انھوں نے کبھی فلسطین کے مسئلہ کوحل کرنے میں اسرائيل یا امریکہ پر کوئی دباؤ قائم کیا ہے۔ترجمان نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ آل خلیفہ کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے مظآلم کا سلسلہ جاری ہےاور بحرین کے مسئلہ میں عرب لیگ اور دیگر عالمی تنظیمیں بالکل سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں انھوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطالبہ بحرینی عوام کا سب سے بڑا جرم ہے جس کی انھیں سزا دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک جمہوریت کے حامی نہیں بلکہ وہ پوری تاریخ میں ڈکٹیٹروں کے حامی رہے ہیں اور آج بھی ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ علاقہ سے امریکی ڈکٹیٹروں کے خاتمہ کے ساتھ امریکہ کا علاقہ سے بالکل خاتمہ ہوجائےگا

اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت بہترین شرائط میں ہیں اور دشمن کے ہر خطرے اور ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل جعفری نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی والفجر نامی فوجی مشقوں کے دوران کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت بہترین شرائط میں ہیں اور دشمن کے ہر خطرے اور ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جنرل جعفری نے کہا کہ آج اسلامی جمہویرہ ایران کی مسلح افواج ہر میدان میں دشمن کو شکست سے دوچار کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں  انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف دشمن کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری ہے دشمن انقلاب اسلامی کے اہداف کو روکنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے اور ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی تلاش میں ہے انھوں نے کہا کہ دشمن اس وقت ایران کے خلاف اقتصادی ، سیاسی اور انرجی کے شعبوں میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور دشمن ان میدانوں میں شکست کھانے کےبعد ممکن ہے فوجی کارروائی کا رخ کرے لہذا ایران کی مسلح افواج اس وقت دشمن کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ایران کی ذمہ داری ہے اور ایران نے اسے آج تک ذمہ داری کے پورا کیا ہے لیکن اگر ایران کے مفادات خطرے میں پڑے تو تو آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری حملہ آور ملکوں کے دوش پر عائد ہوگی

کابل: افغانستان میں اتحادی افواج کی جانب سے قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کیخلاف امریکی فوجی اڈے کے باہر زبردست احتجاج کیا گیا ہے جبکہ نیٹو نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان پولیس نے بتایا ہے کہ منگل کو کابل کے نزدیک بگرام امریکی فوجی اڈے کے باہر ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری جمع ہوگئے جنہوں نے فوجی اڈے کو گھیرے میں لے لیا اور پٹرول بم داغے جس کے نتیجے میں داخلی دروازے پر آگ بھڑک اٹھی مظاہرین اتحادی افواج کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف سخت احتجاج  کر رہے تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بھی مظاہرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اضافی نفری علاقے میں ممکنہ پرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلئے اضافی نفری بھجوادی گئی ہے جو کہ کابل سے تقریباً ساٹھ کلو میٹر دور واقع ہے۔ ادھر جلال آباد روڈ پر ضلع پل چرخی میں واقع بڑے نیٹو فوجی اڈے کے نزدیک بھی  پانچ سو کے قریب افراد کا ایک ہجوم نکل آیا اور واقعہ کی مذمت اور نعرے بازی کی۔ پولیس ترجمان اشمت استاتکزئی کے مطابق مظاہرین کنٹرول میں ہیں اور تشدد کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں بھی افغانستان میں اس قسم کے مظاہرے رونما ہوچکے ہیں گزشتہ سال اپریل میں ایک امریکی پادری سے فلوریڈا میں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب نیٹو نے اس واقعہ پر معافی مانگ لی ہے۔ نیٹو افغانستان میں نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم  دیدیا ہے۔ ان کا کہنا  تھا کہ جب بھی ہم اس قسم کی کارروائیوں کا سنیں گے تو ہم اس کیخلاف فوری کارروائی کرینگے۔ انہوں نے ان رپورٹس کی جامع تحقیقات کرائی جائیں گی کہ آیا بگرام ائر بیس پر فوجیوں نے ایسی کوئی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی پر میں افغان صدر اور افغان حکومت اور سب سے اہم افغان عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں مجھے یقین ہے کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہوگا۔

تہران : ایران نے کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنے دشمن پر پیشگی حملہ کر سکتا ہے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی افواج کے نائب سربراہ محمد مجازی نے کہا ہے کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اگر محسوس کریں گے کہ کوئی دشمن ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو ہم ان کی کارروائی کا انتظار کئے بغیر دشمن پر  حملہ کر دیں گے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کی بابت ایران کو عالمی سطح پر دبائو کا سامنا ہے مغربی طاقتوں نے ایران کے تیل کی برآمد کو متاثر کرنے کیلئے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ ایران نے رد عمل کے طور پر تیل کی اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیل کا فوجی حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی۔برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے ایک انٹرویو میں برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ میں نہیںسمجھتا کہ ایران پر حملہ اسرائیل کا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ ایران کے خلاف عالمی پابندیاں لگانے میں اپنی کوششیںصرف کرے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار رکھے۔ انہوںنے کہا کہ حالیہ دنوں میںایران نے اپنی غیرقانونی سرگرمیوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے جن میںعالمی دھشت گردی کے واقعات بھی شامل ہیں۔

میری لینڈ :امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ امومیگا تھری (چکنائی) فیٹی ایسڈ سے بھرپور غذا بڑھاپے میں آنکھوں کے امراض سے بچانے میں معاون ہے۔ امریکی طبی ماہرین کے مطابق اوسط عمر کے افراد کی بینائی میں بتدریج کمی کے مرض اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ امریکی ریاست میری لینڈ میں ماہرین نے 2400 بوڑھے افراد کی غذا، بینائی بارے  ایک سال تک مطالعاتی جائزہ لیا۔ اس ضمن میں ماہرین نے میری لینڈ کے ساحلی علاقہ میں رہنے والے ان افراد کا علیحدہ گروپ بنایا جو کہ سمندری غذا یعنی مچھلی اور شیل فش کا زیادہ استعمال کرتے تھے جبکہ دوسرے کنٹرول گروپ میں شامل بوڑھے افراد کی غذا میں مچھلی کا گوشت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر تھا۔ ماہرین نے اس تحقیق میں شامل افراد کی غذا اور بینائی میں کمی کے مرض اور بینائی میں بہتری بارے مطالعاتی جائزہ لیا جس کے دوران اخذ کیا کہ فیٹی ایسڈ یعنی اومیگا تھری جو کہ زیادہ تر مچھلی کے گوشت میں پایا جاتا ہے کہ باعث بڑھاپے کے ساتھ ساتھ بینائی میں کمی کا مرض ان بوڑھوں میں کم پایا گیا جن کی غذا میں مچھلی کا گوشت شامل تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں ماہرین نے بڑھاپے میں بینائی میں کمی کے مرض کا تعلق غذا میں زنک سے قرار دیا تھا تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے بڑھاپا میں نظر کی کمی بارے مزید طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن: امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ روزے دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تحقیق کے مطابق مختلف دورانیے کے روزے رکھنے سے انسانی دماغ کی قوت بڑھتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہفتے میں دو یا تین دن کھانے سے گریز کرنے سے دماغ الزائمر، پارکنسن اور دوسری بیماریوں کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ قوت مدافعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

بے خوابی کے علاج کیلئے متاثرہ شخص کو اپنے اردگرد کے ماحول کو اچھا اور خود کو معمولات زندگی میں مصروف رکھنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر نفسیات عائشہ موکم قریشی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کی کئی اقسام ہیں جیسے ابتدائی اور مختصر جزو وقتی بے خوابی، وقفے وقفے سے نیند کا نہ آنا بے خوابی کی انتہائی شدید صورتحال ہے جس کے دوران مریض معمول کے سونے کے وقت میں کبھی صحیح طرح سے نہیں سوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کا علاج ہر شخص کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ بے خوابی کی بیماری ابتدائی طور پر ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ خود پر مسلط کی ہوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتشار کی صورت ہے جس کے دوران کوئی شخص کام کی زیادتی کے باعث یا تنائو کے ماحول میں معمول کے مطابق اپنی نیند نہیں لے سکتا اور جن ڈاکٹر سے علاج کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے بے خوابی کے مریضوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طور پر خود تشخیص کردہ ادویات کا استعمال نہ کریں جس کے صحت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض ان کا عادی بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات جن سے نیند متاثر ہو سب سے پہلے انہیں جھٹک دینا چاہتے جس سے بیماری کا علاج بغیر ادویات کے ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین بے خوابی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں میں یہ بیماری عام ہوتی ہے جبکہ وہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونے سے قبل غیر ضروری ادویات جیسے کہ وٹامنز کا استعمال نہیں کرنا چاہئے وٹامنز وغیرہ کو ان کے وقت لینا چاہئے۔ انہوں نے اچھی بھرپور نیند کیلئے کچھ تدابیر بھی بتائیں جن کو اپنے سے بے خوابی کا علاج ممکن ہے۔ ان کے مطابق سونے کا کوئی قرینہ یا ترتیب بنائی جائے۔ کافی اور کیفین کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خود کو کسی کام میں مصروف رکھا جائے اور تھکن کی وجہ سے اچھی اور بھرپور نیند آتی ہے اور جب دوسرے سوجائیں تو سونے کی کوشش کی جائے

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پانی ابال کر استعمال کرنے سے یرقان سمیت پانی سے ہونے والی تمام بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔  یرقان سے بچائو کی حفاظتی تدابیر اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید اور  ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ یرقان کی پانچ اقسام ہیں جن میں اے بی سی ڈی اور ای شامل ہیں۔ یرقان اے اور ای گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ یرقان کی علاقات میں جسم میں ہلکا درد ہونا’ ہلکا بخار ہونا’ متلی ہونا’ پیٹ میں درد’ آنکھوں کا زرد ہونا اور پائوں سوجھ جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرقان ایک خاموش قاتل ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں پانچ سے سات سال کا عرصہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں ایک سے دو فیصد بال گرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین ڈرگ کو دو سے آٹھ ڈگری درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے کیونکہ نارمل درجہ حرارت پر اسے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان میں یرقان کی بنیادی وجہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے اور عام طور پر لوگ اس طرف دھیان نہیں دیتے جس سے یرقان کے جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی وجوہات میں استعمال شدہ بلیڈ اور سرنج’ گندے ہاتھ اور خون کی منتقلی بھی شامل ہے۔

لندن۔ وزیرخارجہ حناربانی کھر نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جسے امریکی کانگریس نہیں بلوچستان اسمبلی حل کرے گی۔ وزیر خارجہ نے لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسڈیز کے زیر اہتمام تقریب اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے متعلق امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد ناقابل قبول ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب اور اعتماد میں کمی پیدا ہوسکتی ہے۔ حنا ربانی کھر نے بھارت سے تعلقات کے بارے میں کہا کہ دونوں ملکوں کو ڈائیلاگ کا عمل جاری رکھنے کے لیے بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اس سے دونوں ملکوں کو مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ اس لئے پاکستان وہاں امن و استحکام کے لئے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان میں امریکہ کے قائمقام سفیر رچرڈ ہوگ لینڈ کو دفتر خارجہ طلب کرکے امریکی کانگریس میں بلوچستان سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا (کاغذی کاروائی مکمل)  ہے ۔ دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور قابل قبول نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

واشنگٹن: امریکی ریپبلکن سینیٹروں نے اوبامہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں قیادت کی تبدیلی کیلئے وہاں اپوزیشن کو ہتھیاروں سے مسلح کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریپبلکن جان مکین اور لنڈسے گراہام نے اوبامہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں قیادت کی تبدیلی یہ ضروری ہے کہ وہاں اپوزیشن کو ہر طرح کی معاونت فراہم کی جائے۔ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ شام میں اپوزیشن کو براہ راست مداخلت کے بغیر مسلح کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کے بھرپور حامی ہیں۔ سینیٹر گراہام نے کہا کہ امریکہ شام میں اپوزیشن کو تیسری دنیا کے ممالک اور عرب لیگ کے ذریعے مسلح کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام میں موجودہ قیادت تبدیل ہو جائے تو دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

قاہرہ: مصر کے سابق صدر حسنی مبارک پھانسی کے قریب تر ہونے لگے، حکومتی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا قتل عام کرنے والے حسنی مبارک کو سزائے موت ملنی چاہیئے۔ قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے افغانستان میں دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران اپنے 1883 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے، گزشتہ روز جاری کی گئی فہرست میں افغانستان میں جاری جنگ کے دوران تازہ ترین ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تفصیلات جو جاری کی گئی ہیں ان میں انٹیلی جنس، آرٹلری اور دیگر یونٹوں سے تعلق رکھنے والے فوجی شامل ہیں، امریکہ کی قیادت میں ایک لاکھ 30 ہزار غیر ملکی فوجی دس سال سے افغانستان میں طالبان عسکریت پسندی کیخلاف لڑ رہے ہیں اور فوجی ذریعے سے مسائل حل نہ ہونے پر اب طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

میکسیکو سٹی: میکسیکو کے شہر مونیٹری کی جیل میں تشدد کے واقعات میں چوالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کی صبح جیل کے محافظوں اور قیدیوں کے درمیان اس وقت لڑائی شروع ہوگئی جب قیدیوں نے بستروں کو آگ لگانا شروع کر دی، منشیات فروشوں کے گروہوں میں میکسیکو اور امریکا کے درمیان سرحدی علاقوں میں راستوں پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے، یہ دشمنی جیل میں بھی پھیل جاتی ہے جہاں منشیات کے جرائم میں ملوث مجرم قید ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی ایک جیل میں دو گروہوں کے درمیان لڑائی میں اکتیس قیدی ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

افغانستان میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔مرنے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت انتہائی کم درجہ حرارت میں یہ بچے سردی سے بچا ئوکے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔ اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر نے کہا کہ جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

شیعہ رابطہ کونسل کے رہنماغلام مصطفیٰ شاہ کے جھوٹے مقدمے میں گرفتاری کے خلاف شیعہ علماء کونسل خیرپورکے زیراہتتام ڈی پی او آفس کے سامنے عظیم الشان دہرنادیاگیا۔تفصیلات کے مطابق دہشت گرد تنظیم کی فتنہ انگیزسرگرمیوں کے خلاف پرامن احتجاج پرانتظامیہ نے شیعہ رابطہ کونسل کے رہنماغلام مصطفی شاہ کوجھوٹے مقدمے میں گرفتارکرلیا،انتظامیہ کی ناانصافی اورشرپسندوں کی پشت پناہی اورغلام مصطفی شاہ کے جھوٹے مقدمے میں گرفتاری کے خلاف شیعہ علماء کونسل خیرپورکے زیراہتمام ڈی پی او آفس کے سامنے دھرنادیاگیا۔مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہناتھاکہ عرصہ درازسے شرپسند عناصر اپنی فتنہ انگیزی میں مصروف ہیں بارہا یادہانیوں کے باوجود نہ صرف انتظامیہ شرپسندعناصرکولگام دینے میں ناکام رہی ہے بلکہ ان کی سرپرستی اورپشت پناہی کی جاری ہے ،جس کا ثبوت نامزدملزمان کی گرفتاری کے بجائے محب وطن اوراتحاد وامن کے راہی جناب غلام مصطفی شاہ کی جھوٹے مقدمے میں گرفتاری ہے ،مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ڈی  پی او سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ کی طرف سے فتنہ انگیزشرپسندوں کی پشت پناہی کاسلسلہ بندکرتے ہوئے نامزدملزمان کی گرفتاری کے ساتھ جزاسزاکے قانون کونافذکرے ،مقرین نے مطالبہ کیاکہ اگرغلام مصطفی شاہ کوفی الفور رہا نہ کیاگیا توملت جعفریہ کے عمائدین غلام مصطفی کے ساتھ بیٹھنے کے لئے اپنی گرفتاری پیش کریں گے ۔  رپورٹ کے مطابق علامہ ارشادحسین شاہ،علامہ اسداقبال زیدی،مولانامظہرعباس نقوی ،میجرعلی عباس،منورشاہ سمیت ٥٠ سے زائدعمائدین ملت جعفریہ نے ڈی پی او آفس میں گرفتاری پیش کی مگرپولیس نے عمائدین ملت جعفریہ کی گرفتاری لینے سے انکارکردیا،جس پر عمائدین ملت جعفریہ نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک دہرنے کاسلسلہ جاری رہے گا،عمائدین کے اعلان پر پوری رات عزادری کاسلسلہ جاری رہا،نمازتہجدڈی پی او آفس کے سامنے اداکی گئی جبکہ نمازفجرباجماعت ایس ایس پی کے سامنے اداکرنے کا اعلان کیا گیا۔  رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی نے عمائدین ملت جعفریہ اورشیعہ علماء کونسل کے رہنماؤں کویقین دہانی کروائی کہ آدھے گھنٹے تک غلام مصطفی کو رہاکردیا جائے گا مگرعمائدین نے کہا کہ تمام مطالبات کی منظوری اورغلام مصطفی شاہ کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا بالآخرایس ایس پی نے ملت جعفریہ کے مطالبات پرگھٹنے ٹیک دئے اورصبح ٥بجے غلام مصطفی شاہ کورہاکردیااوربقیہ مطالبات پر عمل در آمد کرنے کی یقین دہانی کروائی۔جس کے بعد مومنین نے جلو س کی صورت میں غلام مصطفی شاہ کا استقبال کیا ۔اور پر جوش اور جذبہ کے ساتھ عمائدین ملت جعفریہ کی کامیابی پر جشن منایا۔