کراچی کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے:علامہ ناظر عباس تقوی

Posted: 21/02/2012 in All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

کراچی کے علاقے انچولی سوسائٹی امروپہ گراونڈ میں شہید عسکری رضا کی چہلم کی مناسبت سے دفاع تشیع کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں پنجاب، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان،سندھ ، گلگت بلتستان ، اور پاراچنار سے مختلف شیعہ عمائدین، نوحہ خواں، شعراءاور مختلف حلقے سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ دفاع تشیع کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص کراچی کو ایک مرتبہ پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنا دفاع کرنا ہے فون کرکے بتایا جاتا ہے کہ ہم شیعوں کے گھروں میں حملہ ہوگیا ہے مین اُن لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہیں؟ خبردار اب کسی مولانا کو مدد کے لیے نہ بلانا۔ پہلے جواب دینا ہم تھمارے پیچھے کھڑے ہیں ۔شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مختلف نام نہاد اتحاد ایک مرتبہ پھر ملت جعفریہ کے دیوار سے لگا نے کی سازش کررہے ہیں لیکن ہم نے نہ پہلے اس قسم کی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا تھا نہ اب ہونے دیں گے ، ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے دفاع میں  ہم سے زیادہ مخلص اور کوئی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے، پاکستان کے اصل محافظ ہم ہیں۔ علامہ ناظر عباس کے خطاب کے دوران انتہائی پرجوش مناظر دیکھنے میں آئے۔ تمام افراد اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوگئے اور علامہ ناطر عباس کو لبیک یاحسین کہہ کر جواب دیتے رہے اس موقع پرمولانا عابد حسین الحسینی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا شبیر میثمی مولانا ماجد رضا عابدی اوردیگر مقررین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملت تشیع کو اتحاد کی دعوت دی ۔ علماء کا کہنا تھا کہ ملت کا اتحاد ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ ہمارا صرف ایک رشتہ ہے اور وہ رشتہ ہے امام علی کی ولایت کا۔ علماء بار بار اتحاد کا درس دیتے ہوئے نظر آئے۔ علماء کا کہنا تھا کہ گھر میں رہنے والے بھائیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ مگر بھائیوں میں لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ وہ ہم سے نہیں ہے جو شیعہ کو شیعہ سے لڑوانے کی بات کرتا ہے کانفرنس کے اختتتام پر شہید عسکری رضا کی بیٹی نے خطاب کیا۔ شہید کی بیٹی کا کہنا تھا کہ میرے بابا نے اس ملت کے لیے جان دی ہے۔ اُن کاخواب تھا کہ ملت کے درمیان اتحاد رہے۔ شہید کی بیٹی نے فرمایا میرا اور آپ کا رشتہ امام علی کی ولایت کا رشتہ ہے۔ہم تمام افراد کو صرف ایک علم کے نیچے جمع ہونا ہے۔

Comments are closed.