Archive for 21/02/2012

خیرپور میں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی جانب سے مذہبی منافرت پرمبنی ایک جلسہ منعقدکیاتھاجس میں مسلسل شیعہ مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔ علاقہ میں موجود شیعہ مومنین نے جب اس بات پر احتجاج کیا تو مقامی پولیس نے دہشتگردوں کے بجائے ،اُلٹا احتجاج کرنے والے مومنین پر ہی جھوٹی ایف آئی آر کاٹ دی۔جعفریہ پریس کی رپورٹ کےمطابق جب جھوٹی ایف آئی آرمیں درج شیعہ رابطہ کونسل کے رہنما سید مجتبی شاہ کو گرفتارکیا گیا تو 40 افراد نے مجتبی شاہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجا اپنی گرفتاری پیش کرنے اعلان کیا  موصو لہ اطلاعات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مسلسل ناانصافی اورسید مجتبی شاہ کی گرفتاری کے خلاف شیعہ مومنین اس وقت خیرپور ڈی پی او آفس پر دھڑنا دیے بیٹھے ہوئے ہیں ۔جبکہ 50 سے زائد شیعہ علماء کونسل اورجے ایس او پاکستان خیرپور کے عمائدین نے احتجاجا گرفتاری پیش کردی ہے۔ گرفتای پیش کرنے والوں میں علامہ ارشاد حسین شاہ، علامہ اسد اقبال زیدی، میجر علی عباس،  منور شاہ، مولانا مظہر علی نقوی۔ سید امتیاز شاہ، جمن شاہ، غفور حیدری اور دیگر شامل ہیں-
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس کا شیعہ مومنین کی گرفتاری لینے سے انکار، ڈی پی اور آفس کے سامنے دھرنہ جاری ہے ۔ جبکہ تہجد کی نماز پڑھنے کی تیاریاں شروعکر دی گئی ہیں اورفجر کی نماز ایس پی آفس کی سامنے باجماعت ادا کی جائے گی-

موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کی تحصیل علی پورکے صدر مقام علی پور شہر میں شرپسند مُسلح دہشتگردوں کی فائرنگ سے تعلیمی ادارہ جامعہ الہدیٰ محمدیہ اثناء عشریہ کے پرنسپل علامہ ثقلین زخمی ہوگئے۔ جامعہ الہدیٰ کے پرنسپل کو زخمی حالت میں بہاولپور اسپتال منقل کیا گیاہے۔جہاں ڈاکٹروں کاکہناتھاکہ علامہ ثقلین کو دہشتگردوں نے دو گولیاں ماری جن میں سے ایک ٹانگ میں اور دوسری سینے میں لگی۔ فی الحال علامہ ثقلین کا علاج جاری ہے مومنین سے دُعائے صحت کی اپیل ہے-

کراچی کے علاقے انچولی سوسائٹی امروپہ گراونڈ میں شہید عسکری رضا کی چہلم کی مناسبت سے دفاع تشیع کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں پنجاب، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان،سندھ ، گلگت بلتستان ، اور پاراچنار سے مختلف شیعہ عمائدین، نوحہ خواں، شعراءاور مختلف حلقے سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ دفاع تشیع کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص کراچی کو ایک مرتبہ پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنا دفاع کرنا ہے فون کرکے بتایا جاتا ہے کہ ہم شیعوں کے گھروں میں حملہ ہوگیا ہے مین اُن لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہیں؟ خبردار اب کسی مولانا کو مدد کے لیے نہ بلانا۔ پہلے جواب دینا ہم تھمارے پیچھے کھڑے ہیں ۔شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مختلف نام نہاد اتحاد ایک مرتبہ پھر ملت جعفریہ کے دیوار سے لگا نے کی سازش کررہے ہیں لیکن ہم نے نہ پہلے اس قسم کی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا تھا نہ اب ہونے دیں گے ، ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے دفاع میں  ہم سے زیادہ مخلص اور کوئی نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے، پاکستان کے اصل محافظ ہم ہیں۔ علامہ ناظر عباس کے خطاب کے دوران انتہائی پرجوش مناظر دیکھنے میں آئے۔ تمام افراد اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوگئے اور علامہ ناطر عباس کو لبیک یاحسین کہہ کر جواب دیتے رہے اس موقع پرمولانا عابد حسین الحسینی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا شبیر میثمی مولانا ماجد رضا عابدی اوردیگر مقررین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملت تشیع کو اتحاد کی دعوت دی ۔ علماء کا کہنا تھا کہ ملت کا اتحاد ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ ہمارا صرف ایک رشتہ ہے اور وہ رشتہ ہے امام علی کی ولایت کا۔ علماء بار بار اتحاد کا درس دیتے ہوئے نظر آئے۔ علماء کا کہنا تھا کہ گھر میں رہنے والے بھائیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ مگر بھائیوں میں لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ وہ ہم سے نہیں ہے جو شیعہ کو شیعہ سے لڑوانے کی بات کرتا ہے کانفرنس کے اختتتام پر شہید عسکری رضا کی بیٹی نے خطاب کیا۔ شہید کی بیٹی کا کہنا تھا کہ میرے بابا نے اس ملت کے لیے جان دی ہے۔ اُن کاخواب تھا کہ ملت کے درمیان اتحاد رہے۔ شہید کی بیٹی نے فرمایا میرا اور آپ کا رشتہ امام علی کی ولایت کا رشتہ ہے۔ہم تمام افراد کو صرف ایک علم کے نیچے جمع ہونا ہے۔

کراچی اور پاراچنار میں دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دیئے جانے کے باعث بے گناہ شہریوں کا قتل عام ہورہا ہے،علامہ عباس کمیلی اور مولانا حسین مسعودی کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہو گئی ہے بلکہ احتجاج کرنے والوں پر ٹینکوں سے شہید کیا جارہا ہے یہ کیا دہشت گردی سے کم ہے ۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہان نے پاراچنار خودکش دھماکے کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے دہشتگردوں کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے، جعفریہ الائنس پاکستان نے پاراچنار دھماکہ پر شدید غم و غصہ کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دیئے جانے کے باعث بے گناہ شہریوں کا قتل عام ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج کراچی سے پاراچنار تک اہل تشیع کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں، حکمران اپنا اقتدار بچانے کی بجائے اپنے فرائض پر توجہ دیں تو قتل و غارت گری کا یہ کھیل ختم ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ پارا چنار کے عوام نے انتہائی نامساعدحالات کے باوجود اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا لیکن حکومت نے ان محب وطن شہریوں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے پاراچنار دھماکے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔