مصر میں اسرائیلی نصاب تعلیم رائج کرنے کیلیے دی جانے والی تین سو میلن ڈالر رشوت کی رقم واپس کرے،اسرائیلی رکن پارلیمنٹ

Posted: 19/02/2012 in All News, Breaking News, Palestine & Israel, Tunis / Egypt / Yemen / Libya

صیہونی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک سے وہ تین سو میلن ڈالر واپس دینے کا مطالبہ کیا ہے جو انہیں مصر میں نصاب تعلیم بدلنے کے لئے دئے گئےتھے۔اسلام الیوم ویب سائٹ نےنابلس ٹی وی کےحوالے سے لکھا ہے کہ صیہونی پارلیمنٹ کےرکن بنیامین الیعازر نے مصر کےسابق ڈکٹیٹر سے وہ تین سو ملین ڈالر واپس مانگ لئے ہيں جو انہیں مصر کے نصاب تعلیم بدلنے کے لئے رشوت کے طور پر دئے گئے تھے۔قابل ذکر ہے حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی ایما پر مصر کا نصاب تعلیم بدلنے کے لئے صیہونی ماہرین سے مذاکرات کئے تھے جن میں قاہرہ میں صیہونی سفیر بھی شامل تھا۔ ادھر صیہونی اخبار روز الیوسف نے لکھا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی منشاء کے مطابق مصر کے نصاب میں تبدیلیاں لانے نیز مصر کے وزیر تعلیم و اوقاف پر دباؤ ڈالنے کے لئے صیہونی حکام سے مذاکرات کئے تھے۔ اس اخبار کے مطابق سوزان مبارک کو ان مذاکرات کے بعد تین سو ملین ڈالر کی رشوت دی گئي تھی تاکہ مصر کے تعلیمی نصاب میں شامل قرآن کی آیات اور یہودیوں کے خلاف مواد کو نکال دیا جائے۔ یاد رہے عالم اسلام کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر کا سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک جس نے تیس برسوں تک مصر پر حکومت کی تھی صیہونی حکومت کا بے چون و چراغلام تھا اور اس نے مصر کے تمام امور صیہونیوں کےمطابق چلانا شروع کردئے تھے۔ عوامی انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹنا پڑا۔

Comments are closed.