دفاع پاکستان کونسل کی کسی جماعت کو عدلیہ نے کالعدم قرار نہیں دیا، لیاقت بلوچ

Posted: 19/02/2012 in All News, Educational News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آمر کی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں، آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل دینی جماعتوں میں سے کسی جماعت کو پاکستانی عدلیہ نے کالعدم قرار نہیں دیا، صرف ایک آمرکی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ قوم اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرسکے، انہوں نے مزید کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے زیراہتمام 20 جنوری کو پارلیمنٹ کے سامنے ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں نیٹو سپلائی کی مبینہ بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن ختم کیا جائے اور لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے تاکہ پاکستانی عوام میں ہماری فوج کا وقار بحال ہوسکے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ احمد مختار پاکستان کے وزیر دفاع کے بجائے امریکہ کے نمائندے کے طور پر کام کررہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ کے دوران فضائی کے بعد زمینی راستے سے بھی نیٹو سپلائی بحال ہوجائے گی لیکن دفاع پاکستان کونسل اسے عملی طور پر ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام تر قوت استعمال کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا مطلب کشمیر کاز سے غداری ہے، جس سے ہزاروں کشمیریوں کی شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے کیونکہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی طور پر بہتری پیدا ہونے کے امکانات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سینٹ انتخابات کے فوراً بعد عام انتخابات میں اعلان کردینا چاہیے تاکہ عوام کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات مل سکے۔

Comments are closed.