ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، امریکی وزیر دفاع کا اعتراف

Posted: 19/02/2012 in All News, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News, USA & Europe

اگرچہ امریکی حکام بارہا دعوی کر چکے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے لیکن امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینٹا نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران یورینیم کی انرچمنٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن تہران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ ایک ریڈ لائن ہے جس سے ہمیں شدید تشویش ہے۔ لیون پینٹا نے امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ مغرب کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور سفارتی پابندیوں نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق پرامن حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات انجام دینے پر تیار ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رونلڈ برگز نے سینیٹ کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ بھی امریکی فوجیوں کو اپنے حملون کا نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اپنے تازہ ترین بیانئے میں اعلان کیا ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب سعید جلیلی نے کیتھرائن اشتون کے خط کا جواب دیا ہے جس میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کیتھرائن اشتون کی ترجمان ماجا کسیجانسیک نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر سعید جلیلی کے خط کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی خبر میں اعلان کیا ہے کہ ایران حال ہی میں ایٹمی ٹیکنولوجی کے میدان میں اپنی دو بڑی کامیابیوں کو منظر عام پر لایا ہے اور اسی طرح ایران نے ۶ یورپی ممالک کے سفراء کو وزارت خارجہ طلب کر کے انہیں وارننگ دی ہے کہ اگر وہ مغرب کی طرف سے ایران پر لگائے جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی حمایت کریں گے تو ایران انہیں خام تیل کی فروخت روک دے گا۔ مغرب اور یورپی یونین نے کافی عرصے سے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ ایران ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے 

Comments are closed.