Archive for 19/02/2012

تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حملے کی صورت میں فوری رد عمل کے طور پر ایران اپنی روسی ساختہ آبدوز متحرک کر سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے خلیجی ممالک کے درجنوں بحری جہاز روزانہ خلیج فارس سے نکلنے والا تیل لے کر گزرتے ہیں اسرائیلی کی طرف سے حملے کی صورت میں فوری رد عمل کے طور پر ایران اپنی روسی ساختہ آبدوزوں کو متحرک کر سکتا ہے جبکہ ایران کا دوسرا  انتخاب تیزی سے حملہ کرنے والی آئی آر سی ڈی سپیڈ بوٹس کا استعمال کر سکتا ہے جس پر ایس اے ٹو میزائل نصب ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس چھوٹے سائز کی سپیڈ بوٹس بھی ہیں موجود ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں خود کش بمبار چلاتے ہیں تھوڑے گولہ بارود سے لیس ہونے کے باوجود ان بوٹس کو کافی خطرناک سمجھا جاتا ہے ایران کے پاس بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کا ذخیرہ بھی موجود ہیں

Advertisements

دمام: سعودی عرب کی حکومت نے نے شام کے سفر کا قصد کرنے والے اپنے شہریوں کو ایک مرتبہ پھر سخت محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شام میں موجود سعودی باشندوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر وہاں سے نکل آئیں، کیونکہ شام میں موجودہ سیاسی حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ جبکہ سعودی فضائی سروس نے شام کے لیے اپنی تمام پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ سعودی ایئرلان کے ترجمان عبداللہ الاجھر نے”العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب سے شام کے لیے ہفتے میں 10 پروازیں جایا کرتی ہیں جو ہفتے کے روز سے بند کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے چار پروازیں جدہ، چار ریاض اور دو دمام سے روانہ کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام مسافروں کو بتادیا ہے کہ سعودی عرب سے اب کوئی پرواز شام نہیں جاسکے گی۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے شام میں فضائی سفر کے دوران ایک ہفتے میں 60 لاکھ ریال کے اخراجات ہوتے رہے ہیں اور ایک ہفتے میں سعودی عرب سے 2740 افراد شام کا سفر کرتے ہیں۔ شام کے لیے سعودی فضائی سروسز ایک ایسے وقت میں معطل کی گئی ہیں جب دوسری جانب سعودی حکومت نے شامی بحران کے بارے میں زیادہ سخت موقف اپنایا ہے۔ دریں اثناء سعودی حکومت نے شام میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر نہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ سعودی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر شام سے نکل آئیں۔

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس ظلم و بربریت کے خلاف ہر سطح پر صدائے احتجاج بلند کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ کے 50 سے زائد زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے فوری و ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیںاپنے ایک اخباری بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے سانحہ پاراچنار کے 37 شہداء کے سوگواروں کے پرامن اور اصولی احتجاج کے دوران سینکڑوں احتجاجی مظاہرین پر مقامی انتظامیہ کے تشدد اور فائرنگ کے واقعات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس سانحہ اور اس کے بعد احتجاجی مظاہرین پر ظلم و تشدد کی اعلٰی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور آئے روز قتل و غارتگری سے متاثرہ مظلوم اور معصوم عوام کی جانب سے پرامن انداز میں صدائے احتجاج بلند کرنے کے آئینی، قانونی اور شہری حقوق کو سلب کرنے والے اگر ملک کی داخلی سلامتی اور وحدت کے دشمن شرپسندوں،  قاتلوں، دہشتگردوں اور ٹارگٹ کلرز اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے میں اگر اپنے فرائض منصبی دیانت دارانہ انداز میں سرانجام دیں اور اس فتنے کی بیخ کنی کیلئے ٹھوس اور سنجیدہ انداز میں اپنی توانائیاں صرف کریں تو ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ مگر صورتحال ہمیشہ اس کے برعکس ہی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک ہزاروں معصوم اور بے گناہ انسان اس خونی کھیل کی نذر ہو چکے ہیں اور سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو کر غم و الم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ملک زیادہ دیر تک ایسے سانحات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لئے دہشتگردوں اور شرپسندوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے حقائق عوام تک لانا انتہائی ناگزیر ہے۔ سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس ظلم و بربریت کے خلاف ہر سطح پر صدائے احتجاج بلند کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ کے 50 سے زائد زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے فوری و ضروری اقدامات برؤے کار لائے جائیں اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے سانحہ کے مرتکب قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

تحریک  نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ نے ، ہری پور، کراچی اور کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی بھی بھرپور مذمت کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ مسلم حکمران طاقت و قوت اور وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود عالمی سرغنے اور اُس کے پٹھووٗں سے خوفزدہ ہیں۔ٹی این جے ایف کے ایک اخباری بیان میں علامہ سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایران و افغانستان کے حکمرانوں کے اجتماع کے موقع پر پارہ چنار بازار میں خود کش حملہ، ہری پور، کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ مشترکہ دشمن کی کارستانی ہے جو انتہائی قابلِ مذمت اور کھلی دہشتگردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری روز مرہ معمول بن چکا ہے۔ دوسری جانب آل پارٹیز کانفرنس کی توہین کی جارہی ہے، قوم بے حال اور نیٹو سپلائی بحال کر دی گئی ہے لیکن پارلیمنٹ کو اعتماد نہیں لیا گیا۔ میمو گیٹ کیس کا الگ ڈرامہ رچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ابلیس ننگی دہشتگردی کر رہا ہے، کاش او آئی سی فعال کردار ادا کرتی، عرب لیگ مسلمانوں کو عرب و عجم میں تقسیم نہ کرتی اور عالمی طاقتوں کے پٹھووٗں کا کردار ادا نہ کرتی تو آج یہ دگر گوں صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم حکمران طاقت و قوت اور وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود عالمی سرغنے اور اُس کے پٹھووٗں سے خوفزدہ ہیں

ذرائع کے مطابق کونسل کے تینوں رہنماؤں پر پابندی ڈی سی اسلام آباد نے عائد کی ہے اور کہا ہے احکامات کی خلاف ورزی پر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔دفاع پاکستان کونسل کے تین رہنماؤں حافظ سعید، مولانا احمد لدھیانوی اور عبدالرزاق ڈھلوں کے اسلام آباد داخلے پر سات روز کیلئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کونسل کے تینوں رہنماؤں پر پابندی ڈی سی اسلام آباد نے عائد کی ہے اور کہا ہے احکامات کی خلاف ورزی پر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ کونسل نے نیٹو فورسز کو رسد کی بحالی پر بیس فروری کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی کہا ہے کہ کسی کالعدم جماعت کو دھرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی کی مبینہ بحالی کے خلاف بیس فروری کو آبپارہ چوک میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ آبپارہ چوک میں دھرنے سے ان کا کاروبار متاثر ہو گا۔

رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آمر کی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں، آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل دینی جماعتوں میں سے کسی جماعت کو پاکستانی عدلیہ نے کالعدم قرار نہیں دیا، صرف ایک آمرکی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ قوم اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرسکے، انہوں نے مزید کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے زیراہتمام 20 جنوری کو پارلیمنٹ کے سامنے ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں نیٹو سپلائی کی مبینہ بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن ختم کیا جائے اور لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے تاکہ پاکستانی عوام میں ہماری فوج کا وقار بحال ہوسکے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ احمد مختار پاکستان کے وزیر دفاع کے بجائے امریکہ کے نمائندے کے طور پر کام کررہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ کے دوران فضائی کے بعد زمینی راستے سے بھی نیٹو سپلائی بحال ہوجائے گی لیکن دفاع پاکستان کونسل اسے عملی طور پر ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام تر قوت استعمال کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا مطلب کشمیر کاز سے غداری ہے، جس سے ہزاروں کشمیریوں کی شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے کیونکہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی طور پر بہتری پیدا ہونے کے امکانات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سینٹ انتخابات کے فوراً بعد عام انتخابات میں اعلان کردینا چاہیے تاکہ عوام کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات مل سکے۔

اگرچہ امریکی حکام بارہا دعوی کر چکے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے لیکن امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینٹا نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران یورینیم کی انرچمنٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن تہران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ ایک ریڈ لائن ہے جس سے ہمیں شدید تشویش ہے۔ لیون پینٹا نے امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ مغرب کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور سفارتی پابندیوں نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق پرامن حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات انجام دینے پر تیار ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رونلڈ برگز نے سینیٹ کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ بھی امریکی فوجیوں کو اپنے حملون کا نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اپنے تازہ ترین بیانئے میں اعلان کیا ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب سعید جلیلی نے کیتھرائن اشتون کے خط کا جواب دیا ہے جس میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کیتھرائن اشتون کی ترجمان ماجا کسیجانسیک نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر سعید جلیلی کے خط کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی خبر میں اعلان کیا ہے کہ ایران حال ہی میں ایٹمی ٹیکنولوجی کے میدان میں اپنی دو بڑی کامیابیوں کو منظر عام پر لایا ہے اور اسی طرح ایران نے ۶ یورپی ممالک کے سفراء کو وزارت خارجہ طلب کر کے انہیں وارننگ دی ہے کہ اگر وہ مغرب کی طرف سے ایران پر لگائے جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی حمایت کریں گے تو ایران انہیں خام تیل کی فروخت روک دے گا۔ مغرب اور یورپی یونین نے کافی عرصے سے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ ایران ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے 

بحرین کے ایک انقلابی رہنما کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بحرین کے عوام کے قتل عام کا خمیازہ ضرور بھگتے گا۔ علی الفائز نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ آل سعود کی حکومت بحرین کےنہتے عوام کے قتل عام کی ذمہ دار ہے اور اسے اپنےجرائم کا تاوان ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے دنیا کےآزاد ضمیر انسانوں سے اپیل کی کہ بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت کریں، انہوں نے کہا کہ ملت بحرین آل خلیفہ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کی سازشوں کا شکار ہے اور ان کا ھدف بحرین میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا سدباب کرنا ہے۔ بحرین کے انقلابی رہنما علی الفائز نے کہا کہ حقائق کے برخلاف آل خلیفہ کی شاہی حکومت یہ دعوے کررہی ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک تشدد پشند فرقہ وارانہ اور بیرونی ملکوں سے وابستہ ہے۔ یاد رہے بحرین کے عوام آل خلیفہ کی قرون وسطی کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور اپنے حقوق کےخواہاں ہیں۔

مصر کے ا یک مشہور مصنف اور صحافی جلال عامر نے کہا ہےکہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ جلال عامر نے لکھا ہے کہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ صیہونی حکومت ایک جارح حکومت ہے جبکہ سعودی عرب اپنے نظریات مسلط کرکے اپنے آلہ کاروں کو برسرکار لانا چاہتا ہے۔ اس معروف مصری صحافی نے لکھا ہے کہ عرب ليگ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن چکی ہے اور عمرو موسی کے زمانےمیں بھی عرب لیگ کا یہی حال تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے آل سعود مصر میں اپنی ثقافت پھیلاناچاہتی ہے تاکہ اس ملک کے امور پر مسلط ہوسکے۔ یاد رہے مصر کے عوام نے گذشتہ برس کے آغاز میں تحریک چلائي تھی جس کے نتیجے میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئي اور پارلیمانی انتخابات ہوئے۔

صیہونی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک سے وہ تین سو میلن ڈالر واپس دینے کا مطالبہ کیا ہے جو انہیں مصر میں نصاب تعلیم بدلنے کے لئے دئے گئےتھے۔اسلام الیوم ویب سائٹ نےنابلس ٹی وی کےحوالے سے لکھا ہے کہ صیہونی پارلیمنٹ کےرکن بنیامین الیعازر نے مصر کےسابق ڈکٹیٹر سے وہ تین سو ملین ڈالر واپس مانگ لئے ہيں جو انہیں مصر کے نصاب تعلیم بدلنے کے لئے رشوت کے طور پر دئے گئے تھے۔قابل ذکر ہے حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی ایما پر مصر کا نصاب تعلیم بدلنے کے لئے صیہونی ماہرین سے مذاکرات کئے تھے جن میں قاہرہ میں صیہونی سفیر بھی شامل تھا۔ ادھر صیہونی اخبار روز الیوسف نے لکھا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی منشاء کے مطابق مصر کے نصاب میں تبدیلیاں لانے نیز مصر کے وزیر تعلیم و اوقاف پر دباؤ ڈالنے کے لئے صیہونی حکام سے مذاکرات کئے تھے۔ اس اخبار کے مطابق سوزان مبارک کو ان مذاکرات کے بعد تین سو ملین ڈالر کی رشوت دی گئي تھی تاکہ مصر کے تعلیمی نصاب میں شامل قرآن کی آیات اور یہودیوں کے خلاف مواد کو نکال دیا جائے۔ یاد رہے عالم اسلام کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر کا سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک جس نے تیس برسوں تک مصر پر حکومت کی تھی صیہونی حکومت کا بے چون و چراغلام تھا اور اس نے مصر کے تمام امور صیہونیوں کےمطابق چلانا شروع کردئے تھے۔ عوامی انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹنا پڑا۔