شہید عسکری رضا کے چہلم پر دفاع تشیع کانفرنس امروہہ گراونڈ میں منعقد

Posted: 18/02/2012 in Advertise Religious, All News, Educational News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ملت جعفریہ کے قانونی مشیر شہید عسکری رضا کا چہلم پر دفاع تشیع کانفرنس ۱۸ فروری کو امروہہ گراونڈ میں منعقد ہوگی ۔  نامہ نگار کی خبر کے مطابق کانفرنس کا اہتمام شیعان علی پاکستان نے کیا ہے ۔ کانفرنس کا مقصد شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرنا ہے ۔ کالعدم سپاہ یزید کے دہشت گردوں شہید عسکری رضا کو ۳۱ دسبر ۲۰۱۱ کی شام گلش چورنگی پر شہید کیا تھا ۔ ان کا چہلم اور کانفرنس سے متعلق سیکڑوں بینرز اور پوسٹر شہر کراچی میں آویزہ کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کے شہر کراچی میں گزشتہ چھ ماہ میں پانچ وکلاء بشمول ایڈوکیٹ مختار بخاری شہید کیے جاچکے ہیں ۔اس موقع پر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملت شیعان پاکستان اور اس کے تمام ذمہ دار احباب اور مقتدر سیاسی و سماجی شخصیات اور تنطیموں نے اب تک سوائے زبانی کھوکلے نعروں اور اخباری بیانات کے سوا کو بھی خاطر خواہ اقدام نہ کیا کیونکہ ذمہ دار حلقوں کو ملت کی افرادی قوت اس کی فلاح و بہبود اور وسائل کے حقیقی تعمیری استعمال سے کوئی سروکار نہیں۔ انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ملت شیعان پاکستاں کے زمہ دار حلقے صرف اور صرف ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جس میں نمودو نمائش زیادہ سے زیادہ ہو، ان کے پاس اپنی ملت کی تعمیر و تربیت کے ثمرات کو ملت کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے کوئی خاظر خواہ راہ عمل نہیں ہےحد تو یہ ہے کہ اگر کوئی شیعہ اپنے بچوں کو کسی شیعہ اچھی اسکول میں تعلیم نہیں دلوا سکتا کیوں کہ ان معیاری شیعہ اسکولوں کی فیسیں ہی اتنی زیادہ ہیں کہ عام شعیہ گھرانے کے بس میں نہیں ہے جس کے سبب سے ملت کے بے شمار شیعہ گھرانے اپنے بجوں کو گورنمٹ یا اور دیگر نجی پرائیوٹ (اہلسنت کے) اسکولوں میں تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے شعبے تنزلی کا شکار ہیں، خدارہ اجتماعیت کو فروغ دیجئے، حقیقت بینی سے کام لیتے ہوئے سوچے، اتحاد قائم کریں، اس کی روشن مثال ہمارے سامنے خوجہ شیعہ عثاء عشری جماعت کی ہے کہ انھوں نے دیکھیے کس طرح اپنے آپ کو تعلیم اور غرض تقریبا” ہر میدان میں اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کے وسائل کو کس طرح بہتریں اور عمدہ طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اتحاد کیا ہے۔۔۔کیا یہی مثال ہم بھی قائم نہیں کر سکتے ہر شعبہ میں ….ذرا سوچیے۔

Comments are closed.