کالعدم دفاع پاکستان کونسل۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جلسے کا آنکھوں دیکھا حال

Posted: 14/02/2012 in All News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

مزار قائد پر منعقدہ جلسے میں افراد کی شرکت توقع سے کہیں زیادہ کم تھی، جلسہ کے منتظمین کے مطابق تقریباً دس ہزار کرسیاں لگائی گئیں تھیں، لیکن دیکھنے والی نظروں سے اگر دیکھا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی، لیکن پھر بھی اگر بندوں اور جھنڈوں کو ملایا جائے تو تعداد دس سے پندرہ ہزار کے درمیان بن جاتی ہے۔ پاکستان میں مزاروں پر میلے لگتے رہتے ہیں، تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تمام میلوں کا رنگ یکساں ہوتا ہے، مگر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے آس پاس اتوار کو جس میلے کا سماں تھا وہ ذرا مختلف تھا۔ جس محمد علی جناح نے پاکستان میں جدید اسلامی نظام کا پرچار کیا تھا، ان کے مزار کے قریب کھلے میدان میں طالبان کے نظام کی حمایت کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اس نظام کا نفاذ ہی راہِ نجات اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔ ایک مقرر نے محمد علی جناح کی بیٹی دینا جناح کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ جب دینا نے ایک ہندو سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو محمد علی جناح نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا وہ چاہیں کسی سے بھی شادی کر لیں مگر وہ کسی ہندو سے شادی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ اِس مثال کے ذریعے وہ محمد علی جناح کی ہندؤوں کے بارے میں سوچ کی عکاسی کرنے کے خواہش مند تھے۔ نمائش چورنگی پر واقع عالمی مجلس ختم نبوت کے دفتر کے قریب سے ہی اس میلے کی رونقوں کا ظہور ہو رہا تھا، جہاں جہاد میں یقین رکھنے والی تنظیموں کے کیمپ موجود تھے اور جہاد کیوں ضروری ہے جیسے موضوع پر کتب دستیاب تھیں۔ معدے اور دماغ دونوں کی خوراک اس میلے میں دستیاب تھیں، حلیم کے ٹھیلے، بریانی کے تنبو، منرل واٹروں کے سٹال، مٹھائی اور کیک کی تھال میں فروخت کرتے ہوئے نوجوان نظر آئے جبکہ کچھ بزرگ مسواک، ٹوپیاں، تسبیح اور الکوحل سے پاک خوشبو فروخت کر رہے تھے۔ ہر پتھارے یا اسٹال پر کسی نہ کسی جہادی تنظیم کا جھنڈا ضرور لگا تھا۔ زمین پر کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے بیجز، کلینڈر، اسٹیکرز بھی فروخت کیے جا رہے تھے، اسٹیکروں کے ساتھ موبائل ٹیلیفون کے پاؤچ پر وہ ہی عبارت تحریر تھیں جو اس تنظیم کی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ بعض مقامات پر ویڈیو سی ڈیز اور ایم پی تھری سی ڈیز بھی دستیاب تھی، جن پر انڈیا میں لشکر طیبہ کی کارروائیاں ترانوں کے ساتھ، انڈیا میں فدائی کارروائیاں، افغانستان میں جنداللہ کی کارروائیاں اور خصوصی تربیت کے ٹائٹل تحریر تھے۔ تیس رپے فی سی ڈی حاصل کی جا سکتی تھی۔ ان میں سے کچھ ایسی سی ڈیز بھی تھیں جو کراچی میں سی آئی ڈی پولیس کسی بھی جہادی کے ساتھ برآمد کر کے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ “ملزم سے جہادی مٹیریل کی سی ڈیز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ موبائل ٹیلیفون کے میموری کارڈ میں جہادی ترانے اور آیات ڈالنے کی بھی سہولت موجود تھی، مگر یہ بلامعاوضہ نہ تھا۔ نوجوانوں کے لیے کپڑے اور پیراشوٹ سے بنی ہوئی کمانڈو جیکٹس بھی دلچسپی کا باعث تھی، سٹال کے مالک کا کہنا تھا کہ چار سو اور چھ سو کے حساب سے وہ کئی جیکٹیں فروخت کر چکے ہیں۔ کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحے کی کی چین کا سٹال بھی نوجوانوں کے لیے کشش کا باعث رہا، جہاں ڈیڑھ سو روپے مالیت میں چار انچ کی کلاشنکوف کا مالک بنایا جا رہا تھا۔ گزشتہ تین ماہ میں اسی میدان میں یہ چوتھا اجتماع تھا، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے جلسے کے علاوہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور پاکستان دفاع کونسل کے اس جلسے میں لہجے اور الفاظ کے چناؤ کے علاوہ تقاریر کے موضوع تقریباً یکساں تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں گھڑ سوار پولیس اہلکار تعینات تھے مگر اس جلسے میں یہ ذمہ داری جماعتہ الدعوۃ کے حوالے تھی۔ ڈرون حملے، نیٹو کی رسد، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، بھارت سے دوستی کی حکومتی خواہش، بلوچستان کی بے چینی سب کچھ وہ ہی تھا۔ جلسہ گاہ کے چاروں اطراف برجیاں بنائی گئی تھیں، جہاں جماعت الدعوۃ کے مسلح کارکن دوربینوں کی مدد سے نگرانی کرتے ہوئے نظر آئے، اس کے علاوہ دو درجن کے قریب کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کے جلسے کے مقابلے میں اس جلسے میں شرکاء کی تعداد قدرے محدود تھی، مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں مدارس کے اساتذہ اور طالب علموں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جو اس جلسے میں نظر نہیں آئی، جس سے یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ مدراس خود کو جہاد کی سوچ رکھنے والی ان تنظیموں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی بھی ایک مؤثر موجودگی رکھتی ہے مگر اس کے کارکنوں کی شرکت محدود نظر آئی، جماعت کے ایک رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں طالبانائزیشن پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے، آج بعض مقررین نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ آکر دیکھیں یہ لوگ کوئی اور نہیں طالبان کا نظام چاہتے ہیں۔ اگر جلسہ کی ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ کراچی کی عوام نے دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ مزار قائد پر منعقدہ جلسے میں افراد کی شرکت توقع سے کہیں زیادہ کم تھی، جلسہ کے منتظمین کے مطابق تقریباً دس ہزار کرسیاں لگائی گئیں تھیں، لیکن دیکھنے والی نظروں سے اگر دیکھا جائے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی، لیکن پھر بھی اگر بندوں اور جھنڈوں کو ملایا جائے تو تعداد دس سے پندرہ ہزار کے درمیان بن جاتی ہے، جو اب تک کے ہونے والے جلسوں کی تعداد کا آدھے سے بھی کافی کم حصہ ہے، اگر اس جلسہ کے بعد سے دفاع پاکستان کونسل کی حقیقت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ غبارہ میں ہوا کی مانند ہے جو صرف پھولا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن اندر سوائے ہوا کے اور کچھ بھی نہیں ہے، جلسہ کی ناکامی کے بعد اگر دفاع پاکستان کو کالعدم دفاع پاکستان کونسل کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔

Comments are closed.